Bismillah

Bismillah

Ayyat

Ayyat

Pakistani Human Resource available

This is to clarify to our all visitor and members that, we obey all Pakistani Rules and Regulations which is implemented in Pakistan by Pakistani Government. Our main purpose of posting and circulating data on our site is only for Pakistani nation knowledge and information. So using this data for any other purpose or misuse of data, we will not take any responsibilities of this type of activities, kindly do not use this data for any illegal activities which is prohibited by Pakistani Government, and follow the all rules of Pakistani Government about Cyber Crimes.

We can provide you all type of Pakistani best Human Resource Skilled and Unskilled for all over the world and specially for Arab countries. If you required any type of Human Resource you can send us email at : joinpakistan@gmail.com We will do our best to satisfy your needs according to your requirement.

If you required a job or if you are searching for a good employee please contact us at : joinpakistan@gmail.com

Charagh

Charagh

Monday, May 23, 2011

-- U R D U -- مثبت کام کی بُنیاد تو ڈال دو


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

 

مثبت کام کی بُنیاد تو ڈال دو

۱۹۳۰ کے عشرے میں (یہ کمیونزم کے زمانے کا ذکر ہے) ایک طالبعلم نے جب مصر کی ایگریکلچر یونیورسٹی میں داخلہ لیا، وقت ہونے پر اُس نے نماز پڑھنے کی جگہ تلاش کرنا چاہی تو اُسے بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں نماز پڑھنے کی جگہ تو نہیں ہے۔ ہاں مگر تہہ خانے میں بنے ہوئے ایک کمرے میں اگر کوئی چاہے تو وہاں جا کر نماز پڑھ سکتا ہے۔

طالبعلم یہ بات سوچتے ہوئے کہ دوسرے طالبعلم اور اساتذہ نماز پڑھتے بھی ہیں یا نہیں، تہہ خانے کی طرف اُس کمرے کی تلاش میں چل پڑا۔

وہاں پہنچ کر اُس نے دیکھا کہ نماز کیلئے کمرے کے وسط میں ایک پھٹی پرانی چٹائی تو بچھی ہوئی ہے مگر کمرہ صفائی سے محروم اور کاٹھ کباڑ اور گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے۔ جبکہ یونیورسٹی کا ایک ادنیٰ ملازم وہاں پہلے سے نماز پڑھنے کیلئے موجود ہے۔ طالبعلم نے اُس ملازم سے پوچھا کیا تم یہاں نماز پڑھو گے؟

ملازم نے جواب دیا، ہاں، اوپر موجود لوگوں میں سے کوئی بھی ادھر نماز پڑھنے کیلئے نہیں آتا اور نماز کیلئے اس کے علاوہ کوئی جگہ بھی نہیں ہے۔

طالبعلم نے ملازم کی بات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا؛ مگر میں یہاں ہرگز نماز نہیں پڑھوں گا اور اوپر کی طرف سب لوگوں کو واضح دکھائی دینے والی مناسب سی جگہ کی تلاش میں چل پڑا۔ اور پھر اُس نے ایک جگہ کا انتخاب کر کے نہایت ہی عجیب حرکت کر ڈالی۔

اُس نے بلند آواز سے اذان کہی! پہلے تو سب لوگ اس عجیب حرکت پر حیرت زدہ ہوئے پھر انہوں نے ہنسنا اور قہقہے لگانا شروع کر دیئے۔ اُنگلیاں اُٹھا کر اس طالبعلم کو پاگل اور اُجڈ شمار کرنے لگے۔ مگر یہ طالبعلم تھا کہ کسی چیز کی پرواہ کیئے بغیر اذان پوری کہہ کر تھوڑی دیر کیلئے اُدھر ہی بیٹھ گیا۔ اُس کے بعد دوبارہ اُٹھ کر اقامت کہی اور اکیلے ہی نماز پڑھنا شروع کردی۔ اُسکی نماز میں محویت سے تو ایسا دکھائی تھا کہ گویا وہ اس دنیا میں تنہا ہی ہے اور اُسکے آس پاس کوئی بھی موجود نہیں۔

دوسرے دن پھر اُسی وقت پر آ کر اُس نے وہاں پھر بلند آواز سے اذان دی، خود ہی اقامت کہی اور خود ہی نماز پڑھ کر اپنی راہ لی۔ اور اس کے بعد تو یہ معمول ہی چل نکلا۔ ایک دن، دو دن، تین دن۔۔۔وہی صورتحال۔۔۔  پھر قہقہے لگانے والے لوگوں کیلئے اُس طالبعلم کا یہ دیوانہ پن کوئی نئی چیز نہ رہی اور آہستہ آہستہ قہقہوں کی آواز  بھی کم سے کم ہوتی گئی۔ اسکے بعد پہلی تبدیلی کی ابتداء ہوئی۔ نیچے تہہ خانے میں نماز پڑھنے والے ملازم نے ہمت کر کے باہر اس جگہ پر اس طالبعلم کی اقتداء میں نماز پڑھ ڈالی۔ ایک ہفتے کے بعد یہاں نماز پڑھنے والے چار لوگ ہو چکے تھے۔ اگلے ہفتے ایک اُستاذ بھی آ کر اِن لوگوں میں شامل ہوگیا۔

یہ بات پھیلتے پھیلتے یونیورسٹی کے چاروں کونوں میں پہنچ گئی۔ پھر ایک دن چانسلر نے اس طالبعلم کو اپنے دفتر میں بلا لیا اور کہا: تمہاری یہ حرکت یونیورسٹی کے معیار سے میل نہیں کھاتی اور نہ ہی یہ کوئی مہذب منظر دکھائی دیتا ہے کہ تم یونیورسٹی ہال کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر اذانیں دو یا جماعت کراؤ۔ ہاں میں یہ کر سکتا ہوں کہ یہاں اس یونیورسٹی میں ایک کمرے کی چھوٹی سی صاف سُتھری مسجد بنوا دیتا ہوں، جس کا دل چاہے نماز کے وقت وہاں جا کر  نماز پڑھ لیا کرے۔

اور اس طرح مصر کی ایگریکلچر یونیورسٹی میں پہلی مسجد کی بنیاد پڑی۔ اور یہ سلسلہ یہاں پر رُکا نہیں، باقی کی یونیورسٹیوں کے طلباء کی بھی غیرت ایمانی جاگ اُٹھی اور ایگریکلچر یونیورسٹی کی مسجد کو بُنیاد بنا کر سب نے اپنے اپنے ہاں مسجدوں کی تعمیر کا مطالبہ کر ڈالا اور پھر ہر یونیورسٹی میں ایک مسجد بن گئی۔

اِس طالبعلم نے ایک مثبت مقصد کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا اور پھر اِس مثبت مقصد کے نتائج بھی بہت عظیم الشان نکلے۔ اور آج دن تک، خواہ یہ طالبعلم زندہ ہے یا فوت ہو چکا ہے، مصر کی یونیورسٹیوں میں بنی ہوئی سب مسجدوں میں اللہ کی بندگی ادا کیئے جانے کے عوض اجر و ثواب پا رہا ہےاور رہتی دُنیا تک اسی طرح اجر پاتا رہے گا۔ اس طالب علم نے اپنی زندگی میں کار خیر کر کے نیک اعمالوں میں اضافہ کیا۔

میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ

ہم نے اپنی زندگیوں میں ایسا کونسا اضافہ کیا ہے؟ تاکہ ہمارا اثر و رسوخ ہمارے گردو نواح کے ماحول پر نظر آئے، ہمیں چاہیئے کہ اپنے اطراف میں نظر آنے والی غلطیوں کی اصلاح کرتے رہا کریں۔ حق و صدق کہنے اور کرنے میں کیسی مروت اور کیسا شرمانا؟ بس مقاصد میں کامیابی کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت کی دعا مانگتے رہیں۔

اور اسکا فائدہ کیا ہوگا؟

·       اپنے لیئے اور دوسرے کیلئے سچائی اور حق کا علم بُلند کر کے اللہ کے ہاں مأجور ہوں کیونکہ جس نے کسی نیکی کی ابتداء کی اُس کیلئے اجر، اور جس نے رہتی دُنیا تک اُس نیکی پر عمل کیا اُس کیلئے اور نیکی شروع کرنے والے کو بھی ویسا ہی اجر ملتا رہے گا۔

·       لوگوں میں نیکی کرنے کی لگن کی کمی نہیں ہے بس اُن کے اندر احساس جگانے کی ضرورت ہے۔ قائد بنیئے اور لوگوں کے احساسات کو مُثبت رُخ دیجیئے۔

·       اگر کبھی اچھے مقصد کے حصول کے دوران لوگوں کے طنز و تضحیک سے واسطہ پڑے تو یہ سوچ کر دل کو مضبوط رکھیئے کہ انبیاء علیھم السلام کو تو تضحیک سے بھی ہٹ کر ایذاء کا بھی نشانہ بننا پڑتا تھا۔


Shaheen Subhani comments about Pakistan Current position.

 

 

Friday, May 20, 2011

-- U R D U -- بات بات میں فرق

کہتے ہیں کسی بادشاہ نے خواب دیکھا کہ اُس کے سارے دانت ٹوٹ کر گر پڑے ہیں

بادشاہ نےخوابوں کی تعبیر و تفسیر بتانے والے ایک عالم کو بلوا کر اُسے اپنا خواب سُنایا

مفسر نے خواب سُن کر بادشاہ سے پوچھا؛ بادشاہ سلامت، کیا آپکو یقین ہے کہ آپ نے یہی خواب دیکھا ہے؟

بادشاہ نے جواب دیا؛ ہاں، میں نے یہی خواب دیکھا ہے۔

مفسر نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھا اور بادشاہ سے کہا؛ بادشاہ سلامت، اسکی تعبیر یہ بنتی ہے کہ آپکے سارے گھر والے آپ کے سامنے مریں گے۔

بادشاہ کا چہرہ غیض و غضب کی شدت سے لال ہو گیا۔ دربانوں کو حکم دیا کہ اس مفسر کو فی الفور جیل میں ڈال دیں اور کسی دوسرے مفسر کا بندوبست کریں۔

دوسرے مفسر نے آ کر بادشاہ کا خواب سُنا اور کُچھ ویسا ہی جواب دیا اور بادشاہ نے اُسے بھی جیل میں ڈلوا دیا۔

تیسرے مفسر کو بلوایا گیا، بادشاہ نے اُسے اپنا خواب سُنا کر تعبیر جاننا چاہی۔ مفسر نے بادشاہ سے پوچھا؛ بادشاہ سلامت، کیا آپکو یقین ہے کہ آپ نے یہی خواب دیکھا ہے؟

بادشاہ نے کہا؛ ہاں مُجھے یقین ہے میں نے یہی خواب دیکھا ہے۔

مفسر نے کہا؛ بادشاہ سلامت تو پھر آپکو مُبار ک ہو۔ بادشاہ نے حیرت کے ساتھ پوچھا؛ کس بات کی مبارک؟

مفسر نے جواب دیا؛ بادشاہ سلامت، اس خواب کی تعبیر یہ بنتی ہے کہ آپ ماشاء اللہ اپنے گھر والوں میں سے سب سے لمبی عمر پائیں گے۔

بادشاہ نے مزید تعجب کے ساتھ مفسر سے پوچھا؛ کیا تمہیں یقین ہے کہ اس خواب کی یہی تعبیر ہی بنتی ہے؟

مفسر نے جواب دیا؛ جی بادشاہ سلامت، اس خواب کی بالکل یہی تعبیر بنتی ہے۔

بادشاہ نے خوش ہو کر مفسر کو انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔

سبحان اللہ، کیا اس بات کا یہی مطلب نہیں بنتا کہ اگر بادشاہ اپنے گھر والوں میں سے سب سے لمبی عمر پائے گا تو اُسکے سارے گھر والے اُس کے سامنے ہی وفات پائیں گے؟

جی مطلب تو یہی ہی بنتا ہے مگر بات بات میں فرق ہے۔


Saturday, May 14, 2011

-- U R D U -- ?????? ?? ??? ???? ???????

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

حضرات محترم: میری ایمیلز میری ذاتی پسند ہوتی ہیں، جنکا مقصد آپ سے رابطہ، دوسری ثقافتوں سے آگاہی، علم اور معلومات کا پھیلانا مقصود ہوتا ہے، اگر آپ کو ناگوار گزرتی ہوں تو ضرور آگاہ کیجیئے  


 

دوسروں کی قدر کرنا سیکھیئے

خاوند سارا دن کام سے تھکا ہارا گھر واپس لوٹا ۔ ۔ ۔

تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس کے تینوں بچے گھر کے سامنے ۔ ۔ ۔

کل رات کے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی  مٹی میں لت پت کھیل رہے ہیں۔

گھر کے پچھواڑے میں رکھا کوڑا دان بھرا ہوا اور مکھیوں کی آماجگاہ ہوا ہے۔

گھر کے صدر دروازے کے دونوں پٹ تو کھلے ہوئے تھے ہی،

مگر گھر کے اندر مچا ہوا اودھم اور بے ترتیبی کسی میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی تھی۔

کمرے کی کُچھ لائٹیں ٹوٹ کر فرش پر بکھری پڑی تھیں تو قالین دیوار کے ساتھ گیا پڑا تھا۔ ٹیلیویژن اپنی پوری آواز کے ساتھ چل رہا تھا تو  بچوں کے کھلونے فرش پر بکھرے ہوئے تھے اور کپڑوں کی مچی ہڑبونگ ایک علیحدہ کہانی سنا رہی تھی۔

کچن کا سنک بغیر دُھلی پلیٹوں سے اٹا ہوا تھا تو دسترخوان سے ابھی تک صبح کے ناشتے کے برتن اور بچی کُچھی اشیاء کو نہیں اُٹھایا گیا تھا۔  فریج کا دروازہ کھلا ہوا اور اُس میں رکھی اشیاء نیچے بکھری پڑی تھیں۔

ایسا منظر دیکھ کر خاوند کا دل ایک ہول سا کھا گیا۔ دل ہی دل میں دُعا مانگتا ہوا کہ اللہ کرے خیر ہو، سیڑھیوں میں بکھرے کپڑوں اور برتنوں کو پھاندتا اور کھلونوں سے بچتا بچاتا بیوی کو تلاش کرنے کیلئے اوپر کی طرف بھاگا۔ اوپر پہنچ کر کمرے کی طرف جاتے ہوئے راستے میں غسلخانے سے پانی باہر آتا دِکھائی دیا تو فوراً دروازہ کھول کر اندر نظر دوڑائی، باقی گھر کی طرح یہاں کی صورتحال بھی کُچھ مختلف نہیں تھی، تولئیے پانی سے بھیگے فرش پر پڑے تھے۔ باتھ ٹب صابن کے جھاگ اور  پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا اور اُسی کا پانی ہی باہر جا رہا تھا۔ ٹشو پیپر مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، ٹوتھ پیسٹ کو شیشے پر ملا ہوا تھا۔ خاوند نے یہ سب چھوڑ کر ایک بار پھر اندر کمرے کی طرف دوڑ لگائی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا تو انتہائی حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُسکی بیوی مزے سے بیڈ پر لیٹی ہوئی کسی کہانی کی کتاب کو پڑھ رہی تھی۔ خاوند کو دیکھتے ہی کتاب نیچے رکھ دی اور چہرے پر ایک مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی؛ آپ آ گئے آفس سے، کیسا گُزرا آپکا دِن؟

خاوند نے بیوی کا التفات اور استقبال نظر انداز کرتے پوچھا؛ آج گھر میں کیا اودھم مچا پڑا ہے؟

بیوی نے ایک بار پھر مُسکرا کر خاوند کو دیکھا اور کہا؛ روزانہ کام سے واپس آ کر کیا آپ یہی نہیں کہا کرتے کہ میں گھر میں رہ کر کیا اور کونسا اہم کام کرتی ہوں؟

خاوند نے کہا؛ ہاں ایسا تو ہے، میں اکثر یہ سوال تُم سے کرتا رہتا ہوں۔

بیوی نے کہا؛ تو پھر دیکھ لیجیئے، آج میں نے وہ سب کُچھ ہی تو نہیں کیا جو روزانہ کیا کرتی تھی۔

*****

میرا پیغام

ضروری ہے کہ انسان دوسروں کی محنت اور اُن کے کیئے کاموں کی قدر اور احساس کرے کیونکہ زندگی کا توازن مشترکہ کوششوں سے قائم ہے۔ زندگی کچھ لینے اور کچھ دینے سے عبارت ہے۔ جس راحت اور آرام کی معراج پر آپ پہنچے ہوئے ہیں اُس میں دوسروں کے حصہ کو نظر انداز نا کیجیئے۔ ہمیشہ دوسروں کی محنت کا اعتراف کیجیئے اور بعض اوقات تو صرف آپکی حوصلہ افزائی اور اور قدر شناسی بھی دوسروں کو مہمیز کا کام دے جایا کرتی ہے۔ دوسروں کو اتنی تنگ نظری سے نا دیکھیئے۔


 

Its proved that our Govt. is involved in Drone Attack not our Army

 

 

Link between KESC and Zardar ..... Must read.

 

 

Wednesday, May 11, 2011

Monday, May 9, 2011

blood pressure remedy, precautions, [4 Attachments]

 

assalam alaikum, blood pressure  kiyun hota hai, uss se mahfooz rahne ke liye kin batoun kaa khiyaal rakhna zaroori hai aour plood preesure kaa treatment kis tarah kiya jaa sakta hai, iss baare mein URDU DIGEST Lahore se  lekar aap logoun ko  bhej rahaa hun .   ummid hai aap log iss Faidaa uthaayenge.  khuda hafiz. fakhrulla hussaini 


سید اعجاز شاہین
Dubai-UAE

__._,_.___

Attachment(s) from syed aijaz shaheen

4 of 4 File(s)

Saturday, May 7, 2011

Pola Palwan


----- Original Message -----
 

نیشنل بنک نے وزیراعظم کے چھوٹے بھائی مجتبیٰ گیلانی کی اہلیہ کو
بیوٹی پارلر کے قیام کیلئے 2 کروڑ روپے کا قرضہ جاری کر دیا

اسلام آباد (آئی این پی)نیشنل بنک آف پاکستان نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بھائی اور رکن پنجاب اسمبلی سید مجتبیٰ گیلانی کی بیگم کو ملتان میں "ال نورا" بیوٹی پارلر کے قیام کیلئے 2 کروڑ روپے کا قرضہ جاری کر دیا ہے۔ این بی پی کے ذرائع کے مطابق یہ قرضہ آسان شرائط پر جاری کیا گیاہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم کی اہلیہ کو بھی پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں کروڑوں روپے کا قرضہ دیا گیا تھااور سید یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم بننے کے بعد بنک نے 37 کروڑ روپے کا قرضہ چار کروڑ روپے وصول کر کے ختم کر دیا تھا۔

پولے پلوان تیری کیا بات ہے اسامہ کی شہادت پر بھی تونے امریکیوں کے ولن کو اپنا ولن کہا یعنی تو امریکیوں کا بندہ ہے۔ کم ازکم اس معاملے میں تو مسلمانوں کا بنتا۔ جسے امریکی اپنی فتح قرار دے رہے ہیں تو نے بھی اسے عظیم فتح قرار دیا۔ یعنی ڈرون حملوں میں جو معصوم بچے عورتیں بوڑھے جوان بے گناہ مارے جا رہے ہیں تو بھی اس قتل و غارت میں پورا پورا شریک ہے۔ تجھے کچھ شرم آنی چاہئے کم از کم اپنے سید ہونے کا کوئی تو ثبوت دے۔
اب تیری ٹیم نے 6 ارب روپے ڈکارنے والے چور چوہدریوں کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے یعنی اس ملک کی بچی کھچی دولت کو بھی لوٹنا چاہتا ہے۔ تمہاری کوئی پارٹی نہیں تم لوگوں کی ٹیم چوروں کی ٹیم ہے جو پٹرول اور موبائل کی مد میں روزانہ کروڑوں روپیہ اپنی جیبوں میں ڈال رہے ہو۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں �

Thursday, May 5, 2011

Bay Hiss Qom say Faryad.....

 

Pakistan Police capture USA and UK agent near Kahota Atomic Plant

 

 

picture of the day is picture ko apni web ki zeenat zaroooor bnana

BARBER BUCTCHER KE HAJAMAT BANA RAHA HAY

Wednesday, May 4, 2011

 
TAZEEN AKHTAR

EDITOR

DAILY AZKAAR

ISLAMABAD-KARACHI

PH; 051-2606899

FAX; 051-2890656

Cell;  0321-5127896


www.dailyazkaar.com.pk

 
TAZEEN AKHTAR

EDITOR

DAILY AZKAAR

ISLAMABAD-KARACHI

PH; 051-2606899

FAX; 051-2890656

Cell;  0321-5127896


www.dailyazkaar.com.pk

Silence Crime

 

 

Monday, May 2, 2011

Re: Cancer Cure

----- Original Message -----

Thanks for sharing this info Mr. Jamal Siddiqui (cell no # 0333-5124729) in Rawalpindi got cured of his heppities C from a Herbal Cure in Rawalpindi, again without any payment. Any body aware of treatement for curing parkinson diseases in early stages? if so, please advise. God Bless you


Best regards

Salman Javed

Chief Operating Officer,
Khyber International Pak (Pvt) Limited,
GSA for Korean Air/APG Representative in Pakistan
 
(former MD, PTDC & ex Director PIA)
 
Chairman,
Federation of Pakistan Chambers of Commerce & Industry's
Standing Committee on Tourism
 
Vice Chairman (Pakistan),
SAARC, Chambers of Commerce & Industry's
Tourism Council

18-Hotel Metropole, Abdullah Haroon Road,
Saddar, Karachi

Cell # : 92-300-8265048

Ph   # : 92-21-35684234

Fax # : 92-21-5684234

 

__._,_.___
.

__,_._,___

Confirmed: iPhone and iPad secretly track and store your location

 

Saturday, April 30, 2011 by: niamh marnell

Apple's iPhone and iPad have been tracking the locations of users in a hidden file, according toThe New York Times(http://nyti.ms/eTvBSm).

Computer programmers, Alasdair Allan and Pete Warden, presented their findings last week at the O'Reilly Where 2.0 technology conference in San Francisco. Their research showed the iPhone and 3G iPads have been logging the location data for the past year after a software update installed a new hidden file on the mobile devices.

The location and time, which are tracked through cell phone towers and Wi-Fi networks and stored on the devices, are copied over to users' hard drives when the devices are synced with a computer, theprogrammerssaid.

Apple stayed silent on the issue for a week untilGoogle, which was also found to have a tracking program on phones that use its Android system, responded with a statement that the information collected was anonymous. Apple then followed in kind, mirroring Google's anonymity claims, according to a recentUSA Todayarticle(http://usat.ly/l7TNXu).

"It doesn't matter how Apple explains its way out of this," said Chenxi Wang, a vice president of Forrester Research who specializes in security and risk. "Just the fact that consumers know that their phone is being tracked is a very big deal."

Apple should allow customers to opt out of being tracked, said Ian Glazer, director of Gartner Research identity andprivacygroup.

"There is no way to really turn this tracking off," he said. "It needs to be visually obvious, or in the settings, to see that this is happening on your phone."

A blog post by Allan raised the issue of "how Apple intends to use [the information] -- or not." Is Apple gaining access to the information in any way? And why it is being stored at all?

Apple claims it is creating a database of cell towers and Wi-Fi hot spots that users have used, which can then help phones better orient to a signal when GPS signals are sketchy or unavailable.

Apple's purported purpose clearly did not require the data to be stored for long periods of time, and Apple has since reduced the storage time to seven days. Google always had a shorter time period for the data stored on its Android phones.

Google and Apple have agreed to testify before a Congressional committee May 10, according to theHindustan Times(http://bit.ly/iwu0Et), about consumer privacy issues related to mobile technologies. Apple also faces possible action by data protection regulators in the European Union, according to Bloomberg (http://bloom.bg/kUFtD1).

Sources for this story include:

http://www.nytimes.com/2011/04/21/b...

http://www.usatoday.com/news/opinio...

http://www.hindustantimes.com/Googl...