Bismillah

Bismillah

Ayyat

Ayyat

Pakistani Human Resource available

This is to clarify to our all visitor and members that, we obey all Pakistani Rules and Regulations which is implemented in Pakistan by Pakistani Government. Our main purpose of posting and circulating data on our site is only for Pakistani nation knowledge and information. So using this data for any other purpose or misuse of data, we will not take any responsibilities of this type of activities, kindly do not use this data for any illegal activities which is prohibited by Pakistani Government, and follow the all rules of Pakistani Government about Cyber Crimes.

We can provide you all type of Pakistani best Human Resource Skilled and Unskilled for all over the world and specially for Arab countries. If you required any type of Human Resource you can send us email at : joinpakistan@gmail.com We will do our best to satisfy your needs according to your requirement.

If you required a job or if you are searching for a good employee please contact us at : joinpakistan@gmail.com

Charagh

Charagh

Monday, June 6, 2011

THE FAMOUSE "NO" IN THE HISTORY OF AMERICA




 
 
 
 
امریکی تاریخ کا مشہور ترین (انکار)
دسمبر ۱۹۵۵ کی ایک سرد شام کو دِن بھر کی پُر مشقت اور  تھکا دینے والے سلائی کڑھائی کے کام سے فراغت پا کر روزا پارکس نامی ایک سیاہ فام عورت، اپنےدستی تھیلے کو مضبوطی سے سینے سے چمٹائے اور اُس سے گرمی کا احساس پاتے ہوئے سڑک پر جا رہی تھی۔



دائیں بائیں دیکھ کر احتیاط سے سڑک عبور کر تے ہوئے وہ اُس بس سٹاپ پر جا کر کھڑی ہوگئی جہاں سے اُس کے گھر کی طرف جانے والی بس کو گزرنا تھا۔
تقریبا دس منٹ تک بس کا انتظار کرتے ہوئے روزا پارکس کے ذہن میں وہ افسوس ناک غیر انسانی مناظر گھوم گئے جو اُن دنوں امریکہ میں عام دیکھنے کو ملتے تھے، اور وہ تھے کسی بھی سیاہ فام کو اُسکی نشست سے اُٹھا دینا تاکہ وہاں پر ایک سفید فام بیٹھ سکے۔
یہ رویہ بھائی چارے کے جذبات یا مہذب معاشرے کی نفی تو کہاں محسوس ہوتا، اُلٹا امریکی قانون سیاہ فاموں کو اِس بات سے سختی سے منع کرتا تھا کہ وہ کسی سفید فام کے کھڑے ہونے کی صورت میں قطعی نہیں بیٹھ سکتے۔
 



معاملہ صرف یہاں تک ہی محدود نہیں تھا، اگر کوئی سیاہ فام بزرگ عورت کسی نوجوان سفید فام کے کھڑے ہونے کی صورت میں بیٹھی پائی جاتی تو اُس بزرگ اور بوڑھی عورت پر جُرمانہ کیا جاتا تھا۔
جی ہاں، یہ اُسی زمانے کی بات ہے جب دُکانوں یا کھانے کے ریستورانوں کے دروازوں پر فخر سے ایسی تختی لٹکائی جاتی تھی جِس پر لکھا ہوتا کہ یہاں بِلیوں، کتوں اور سیاہ فاموں کا داخلہ منع ہے۔
نسل پرستی پر مبنی یہ رویئے روزا پارکس کو غمگین اور افسُردہ کیئے رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتی رہتی کہ کب تک ہم سیاہ فاموں کے ساتھ یہ امتیازی اور کمتر سلوک جاری رہے گا؟ کب تک سیاہ فاموں کو تو قطاروں کے آخر میں رکھا جائے گا مگر سفید فاموں کے جانوروں کو بھی برابری کے حقوق دیئے جائیں گے؟ اِنہی سوچوں میں گُم روزا پارکس اپنے سینے میں درد چُھپائے بس کے آنے پر اُس میں سوار ہو گئی۔
 
 
بس میں دائیں بائیں دیکھتے ہوئے روزا کو ایک خالی نشست نظر آگئ، بس کے انتظار میں کھڑے شل ہوئی ٹانگوں کے ساتھ وہ نشست پر بیٹھ گئی، دستی تھیلے کو اُس نے مزید بھیچتے ہوئے سینے سے لگا لیا۔ اپنی سوچوں میں گُم وہ سڑک کو دیکھنے لگ گئی جسے بس گویا کھاتے ہوئے اپنی منزل کی طرف دوڑ رہی تھی۔
 
 
 
کُچھ ہی دیر بعد اگلا سٹاپ آ گیا جہاں سے بس میں مزید لوگ سوار ہو ئے اور بس بھر گئی۔
بس میں سوار ہونے والا ایک نوجوان سفید فام آہستگی سے اُس کرسی کی طرف بڑھا جہاں روزا پارکس بیٹھی ہوئی تھی۔ سفید فام اِس انتظار میں تھا کہ روزا اُس کیلئے نشست چھوڑے گی مگر آجمعاملہ اُلٹا ہو گیا تھا، روزا نے سفید فام کو اُچٹی سی نگاہ سے دیکھا تو سہی مگر اُس کیلئے نشست خالی نہ کی اور ایک بار پھر اپنی نظریں باہر کی طرف سڑک پر ٹِکا دیں۔ سفید فام کے چہرے پر توہین کا احساس نمایاں تھا۔
یکا یک ہی بس میں سوار ہر مسافر کا رویہ معاندانہ ہو گیا، لوگ طنز سے بھی بڑھ کر  روزا کو گالی گلوچ  تک کرنے پر اُتر آئے تھے اور اُسے فورا اُس سفید فام کیلئے نشست خالی کرنے کیلئے کہہ رہے تھے۔
لیکن روزا اپنے موقف پر قائم خاموشی سے اپنی نشست پر براجمان تھی۔ بس کا ڈرائیور ایک سیاہ فام عورت کی اِس قانون شکنی کی جراءت اور سفید فام کی توہین پر یوں خاموش نہیں رہ سکتا تھا، اُس نے بس کا رُخ پولیس سٹیشن کی طرف موڑ دیا تاکہ پولیس اِس سیاہ فام عورت کو ایک معزز سفیدفام کی توہین کرنے کی جراءت کا مزا چکھا سکے۔
 
اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا، پولیس نے روزا پارکس گرفتار کر کے تحقیق کی اور بعد میں  اُسکا جرم ثابت ہونے پر اُسے ۱۵ ڈالر جرمانے کی سزا سُنائی گئی، تاکہ اُسکی سزا دوسروں کیلئے ایک مثال بن جائے اور آئندہ کوئی ایسی جراءت نہ کرے۔
 
 
بات تو چھوٹی سی تھی مگر امریکا کی سر زمین پر ایک چنگاری بن کر گری۔ مُلک بھر میں بسنے والے تمام سیاہ فام  روزا پارکس کے ساتھ پیش آنے والے اِس ناروا سلوک پر آگ بگولہ ہو گئے اور ایک تحریک چل پڑی کہ وہ نقل و حمل کے تمام وسائل کے خلاف اُس وقت تک  احتجاج کے طور پر بائیکاٹ کریں گے جب تک امریکی حکومت اُن کو تمام تر انسانی حقوق دینے پر آمادہ نہیں ہوتی اور اُنکے ساتھ مہذب معاملے کا وعدہ نہیں کر لیا جاتا۔
یہ بائیکاٹ اپنی تمام تر ثابت قدمی کے ساتھ ایک طویل عرصے تک چلا، سیاہ فاموں نے ۳۸۱ دنوں تک احتجاج کیا اور امریکی حکومت کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔
روزا پارکس کی فتح ہوئی اور عدالت نے مُلک میں نہ صرف نسلی امتیاز کے اِس  قانون کو بلکہ اِس جیسے کئی امتیازی  رواجوں کو فوری طور پر ختم کردیا۔  




اور اِس واقعہ کے ۴۶ برس بعد مؤرخہ ۲۷  اکتوبر  ۲۰۰۱ کو، امریکی تاریخ میں پیش آنے والے اِس تاریخی واقعے کی یاد ایک بار پھر اُس وقت تازہ ہو گئی جب مِیشی گن کے شہر ڈیئر بورن میں واقع ھنری فورڈ عجائب گھر کے منیجر سٹیو ھامپ نے اُس پرانی بس کو خریدنے کا فیصلہ کیا۔
جی ہاں 1940 ماڈل کی یہ بس جس میں روزا پارکس کے ساتھ وہ سانحہ پیش آیا تھا، ایسا سانحہ جس نے امریکا میں انسانی حقوق کی تحریک کو جنم دیا اور پھر سیاہ فاموں کو بھی برابر کے حقوق حاصل ہو گئے۔
 


اور یہ پرانی بس چار لاکھ بیانوے ہزار ڈالر میں خرید کی گئی۔
سن ۱۹۹۴ میں جب روزا پارکس کی عمر ۸۰ سال تھی, اُس پر لکھی گئی ایک کتاب بعنوان خاموش طاقت میں وہ اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اُس دن مجھے اپنے ماں باپ اور اجداد بہت یاد آئے تھے، اُس دن میں نے اللہ کے حضور گڑگڑا کر التجاء کی تھی کہ یا رب تو ہی ہے جو کمزوروں کو طاقت سے نواز سکتا ہے۔
 


اور پھر ۲۴ اکتوبر ۲۰۰۵ کو ۹۲ سال کی عمر میں وفات پانے والی اِس بہادر خاتون کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ہزاروں سوگوار جمع ہوئے۔
وہ با ہمت اور بہادر خاتون، جِس نے انسانی حقوق کی برابری کیلئے علم بُلند کیا تھا۔
روزا پارکس کے جنازے میں کئی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی اور ہزاروں لوگ ڈھاریں مار مار کر رو رہے تھے، امریکا کا جھنڈا سر نگوں ہو کر اِس عظیم خاتون کو سلامِ عقیدت پیش کر رہا تھا۔
روزا پارکس کی میت کو وفات سے دفنانے تک امریکی کانگریس کی ایک عمارت میں رکھا گیا، تعظیم کا یہ اعزاز سربراہانِ مملکت یا اہم ترین شخصیات کو دیا جاتا ہے۔
۱۸۵۲ سے لیکر آج تک صرف ۳۰ ایسے لوگ گُزرے ہیں جنکو یہ اعزاز حاصل ہوا جبکہ اِن تمام ۳۰ اشخاص میں سے روزا پارکس واحد خاتون ہیں۔
روزا پارکس اِس دنیا سے رُخصت ہوئیں تو اپنے سینے پر کئی تمغے سجائے ہوئے تھیں، 1996 میں اُنہیں آزادی کے صدارتی تمغہ سے نوازا گیا جبکہ 1999 میں اُنہیں کانگریس سے گولڈ میڈل عطا کیا گیا۔
روزا  کیلئے اِن سب اعزازات سے بڑھ کر  اُنکا اپنا ایک لفظ تھا اور وہ تھا (نہیں)، یہ نہیں امریکا کی تاریخ کا سب سے طاقتور انکار تھا جِس کی ہاں میں ہاں مِلانے میں اُس کی تمام سیاہ فام نسل نے ساتھ دیا تھا۔
***
خُدا نے آج تک  اُس  قوم  کی  حالت  نہیں  بدلی
نہ ہو خیال جِس کو خود اپنی حالت کے بدلنے کا
 
 


PAKISTANI Govt. ki Behisi ki aik aur MISAAL...

 

What Iran say about USA

 

Friday, June 3, 2011

a lesson by Kid

Small Story...BIG MORAL...!!!

 Once a boy went to a shop with his mother.

 The shop keeper looked at the small cute child and showed him a bottle

 with sweets and said 'Dear Child..u can take the sweets... but the
 child
 didnt take. The shop keeper was surprised.. such a small child he is
 and
 why is he not taking the sweets from the bottle. Again he said take the

 sweets.... now mother also heard that and said.. beta take the sweets..

 yet he didnt take...

 The shopkeeper seeing the child not taking the sweets... he himself
 took
 the sweets and gave to the child...... the child was happy to get two

 hands full of sweets ....

 When returned to home Mother asked child...

 Why didnt you take the sweets... when shop keeper told you to take...

 Can you guess the response:-

 Child replies... Mom! my hands are very small and if i take the sweets
 I can only take few.. but now you see when uncle gave with his big
 hands....

 how many more sweets i got!

 
Moral:
 When we take we may get little but when God gives... HE gives us more
 beyond our expectations.... more than what we can hold......................

Govt. is not serious on important issues

 

How much tax you pay?

 

Corruption of PPP Govt. disclose in a report

 

Wednesday, June 1, 2011

- ???? ??? ??? ??? ?? ?? ?????? ???? ????


ایسے لوگ پھر لوٹ کر آ جائیں، کبھی نہیں

(خلافت عمر رضی اللہ عنہ سے چند معطر واقعات جو حکمرانوں اور ذمہ داروں کیلئے ایک آئینہ ہیں)

******

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے تو فرمایا: اے لوگو سنو اور غور کرو۔

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اللہ کی قسم، نا ہی تیری بات سُنیں گے اور نا ہی اُس پر غور کریں گے۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ  نے  پوچھا: ایسا کیوں سلیمان ؟

انہوں نے جواب دیا: خود تو دو قمیصوں کے برابر کا کپڑا پہنتے ہو اور ہمیں ایک ایک قمیص دیتے ہو!

سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا: اُٹھ عبداللہ اور سلیمان رضی اللہ عنہ کو جواب دو۔

عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے کہا: میرا والد طویل القامت شخص ہے، اس لئیے میرے حصے کا کپڑا لیکر اور دونوں کو ملا کر  اپنے لیئے قمیص سلوا ئی ہے۔

سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے امیر المؤمنین، اب کہیئے، ہم سُنیں گے، ہمیں حکم دو  تو ہم اطاعت کریں گے۔

******

 ایک بار منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا: تُم لوگ کیا کرو گے اگر راستہ اس طرح ٹیڑھا ہونا شروع ہو گیا تو؟ اور اپنے ہاتھ کو بھی تھوڑا سا ترچھا کر کے دکھایا۔

حاضرین کی آخری صفوں سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر اپنی تلوار میان سے نکال کر لہراتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم، اگر راستہ اس طرح ٹیڑھا ہوا تو ہم اپنی تلواروں سے ایسا کریں گے۔

سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسی رعایا دی جو راستوں کو ٹیڑھا ہوتے دیکھے گی تو مجھے سیدھا کرنے کیلئے طاقت فراہم کرے گی۔

******

اے شخص نے سیدنا عمررضی اللہ عنہ سے کہا: اے عمر رضی اللہ عنہ، اللہ سے ڈرو۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں، اور کہا:

تم میں خیر  و بھلائی نہیں رہے گی اگر مجھے ایسی بات نہیں کروگے تو، اور مجھ میں خیر و بھلائی نہیں ہوگی اگر میں ایسی بات قبول نہیں کرونگا تو۔

******

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر عورتوں سے مہر کم کرنے کو کہا تو مسجد کے آخر سے ایک عورت نے کھڑے ہو کر کہا؛ اے امیر المؤمنین، اللہ تبارک و تعالیٰ تو فرماتے ہیں  (وَآتَيْتُمْ إِحْدَاھنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْہ ُ شَيْئًا)(اور پہلی عورت کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا)۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عورت نے ٹھیک کہا ہے، عمر سے غلطی ہو گئی ہے۔

******

ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم، میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایسی قمیص پہنے ہوئے دیکھا کہ اُس میں چودہ پیوند لگے ہوئے تھے اور اُس وقت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ وقت بھی تھے۔

اسی بات کو مشہور شاعر محمود غنیم اس طرح کہتا ہے :

يا من يری عمرا تكسوہ  بردتہ  -   والزيتُ أدمٌ لہ  والكوخُ مأواہُ 

 
يہتز كسری علی كرسيہ فرقًا - من خوفہ وملوكُ الروم تخشاہُ 

اے عمررضی اللہ عنہ کی قمیص میں پیوند لگے دیکھنے والے

محض تیل جسکا سالن اور صراحی سے پانے پینےوالا تھا وہ

کسریٰ میں تخت نشین بھی اُس کے نام سے لرزاں تھے

اور روم کے بادشاہ اُس سے ڈرتے تھے

******

فارس کا وزیر ھرمزان آپ رضی اللہ عنہ کو تلاش کرتے ہوئے ایک درخت کے پاس پہنچا جس کے نیچے سیدنا عمررضی اللہ عنہ کو پیوند لگی قمیص پہنے اور بغیر کسی پہریدار کے سوتے دیکھ کر کہہ اُٹھا :

تو نے حکومت کی، انصاف کیا، امن دیا اور بے خوف سویا

عرب شاعر حافظ ابراہیم اس مقولے کو اپنے شعروں میں اس طرح بیان کرتا ہے:

فقال قولۃ حق أصبحت مثلا - وأصبح الجيل بعد الجيل يرويھا
أمنت لما أقمت العدل بينھم  -  فنمتَ نوم قرير العين ھانیھا  


 پس اُس نے جو حق کی بات کہی وہ ضرب المثل بن گئی

نسل در نسل آنے والے یہ بات دہراتے رہیں گے

میں ایمان لایا جب تونے اُن کے درمیان ؑانصاف کی عدالت کی

اور اسی لیئے تو تو اتنی  بے فکری سے سویا

******

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اللہ کی قسم، اگر دجلہ کے دور دراز علاقے میں بھی کسی خچر کو  راہ چلتے ٹھوکر لگ گئی تو مجھے ڈر لگتا ہے کہیں اللہ تعالیٰ مُجھ سے یہ سوال نا کردیں اے عمر، تو نے وہ راستہ ٹھیک کیوں نہیں کرایا تھا؟

******

ایک بار اپنے بچوں کے ہاتھ میں میٹھے کا ٹکڑا دیکھ لیا تو اپنی بیوی سے استفسار کیا: اس میٹھے کے بنانے کیلئے تیرے پاس پیسے کدھر سے آئے؟

اُس نے جواب دیا: بیت المال سے آنے والا آٹا تھوڑا تھوڑا بچتا تھا جسے ملا کر یہ میٹھا بنا لیا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آٹا بچا پاتی ہے اور مسلمانوں میں ایسے بھی ہیں جن کو آٹا میسر ہی نہیں!

فوراً ہی اپنے بچوں کے ہاتھوں سے میٹھے ٹکڑے لئیے اور کہا: مسلمانوں کے بیت المال کو جا کر واپس کر دو۔

******

ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی کو میٹھا کھانے کی طلب ہوئی تو آپ نے اُسے کہا: کہاں سے پیسے لاؤں جس سے تجھے میٹھا خرید کر دوں؟

******

حضرت عمررضی اللہ عنہ کی بیوی (عاتکہ) کہتی ہیں کہ: عمررضی اللہ عنہ بستر پر سونے کیلئے لیٹتے تھے تو نیند ہی اُڑ جاتی تھی، بیٹھ کر رونا شروع کر دیتے تھے۔

میں پوچھتی تھی: اے امیر المؤمنین، کیا ہوا؟

وہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی خلافت ملی ہوئی ہے، اور ان میں مسکین بھی ہیں ضعیف بھی ہیں یتیم بھی ہیں اور مظلوم بھی، مجھے ڈر لگتا ہے اللہ تعالیٰ مجھ سے ان سب کے بارے میں سوال کریں گے۔

******

مدینہ میں آئے قحط کے سال (عام الرمادہ) کے دوران، ایک بار منبر پر کھڑے ہوئے تھے کہ اپنے پیٹ سے گُڑگُڑ کی آواز آئی،  پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: چاہے گُڑگُڑ کر یا گُڑگُڑ  نا کر، اللہ کی قسم تجھے اس وقت تک نہیں بھرونگا جب تک مسلمانوں کے بچوں کے پیٹ نہیں بھر جاتے۔

******

ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک ایسے خیمے سے گزر ہوا جس میں ایک عورت نے ابھی ابھی بچے کو ولادت دی تھی اور اُسکے اور بھی بچے تھے جبکہ اُسکا خاوند وفات پا چُکا تھا۔ حالات کا علم ہونے پر فوراً بیت المال تشریف لے گئے اور وہاں سے تیل اور آٹا لیکر واپس آئے، آگ جلا کر رات کا کھانا بناکر  اُن سب کو پیش کیا۔

عورت نے کہا: اللہ کی قسم، تم عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بہتر ہو۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ قول پڑھتے ہوئے (أَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ)(دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا ہے) رو پڑے اور کہا:میرے پاس تو کُچھ بھی نہیں بچا ہوا، اور اگر کسی کی کوئی چیز میرے پاس رہتی ہو تو مجھ سے آ کر طلب کر لے۔

******

بیت المقدس کی فتح کے موقع پر پیوند لگی قمیص پہنے ہوئے تشریف لے جانے لگے تو بعض سرداروں نے کہا، اے امیر المؤمنین، اگر خوبصورت لباس زیب تن کر کے تشریف لے جاؤ تو یہ اسلام کیلئے اعزاز کی بات ہوگی۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم وہ قوم ہیں جن کو اللہ نے اسلام سے عزت و اعزاز دیا ہے، اس کے سوا کسی بھی چیز کو عزت اور اعزاز سمجھیں تو وہ  اللہ نے ذلت ہی دینا ہوگی۔

******

ایک بار صدقہ کیلئے چھوڑے ہوئے اونٹوں کو رنگ سے نشان لگا رہے تھے تو ایک آدمی نے آ کر کہا؛ اے امیر المؤمنین، لائیے مجھے دیجیئے، میں آپ کی جگہ ان اونٹوں پر نشان لگا دیتا ہوں۔

سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: قیامت والے دن میرے گُناہ اُٹھانے بھی آؤ گے کیا؟

******

مدینے میں رات کو پہریداری کرتے ہوئے ایک گھر کےسامنے سے گزر ہوا، اندر سے ایک دودھ فروش عورت کی  آواز آ رہی تھی جو اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی، دودھ میں پانی ڈال کر اسے زیادہ کر لے، عمر رضی اللہ عنہ کونسا دیکھ رہا ہے۔

اُس لڑکی نے اپنی ماں کو جواب دیا؛ مگر اللہ دیکھ رہا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ مکان اپنے ذہن میں رکھا اور اُس لڑکی کا رشتہ اپنے بیٹے عاصم کیلئے مانگ لیا۔

بعد میں اُس لڑکی کی آل سے زاہد اور عادل خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے جنم لیا۔

******

جب مدینہ شریف میں قحط پڑا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ اپنے سر پر کھانے کا ٹوکرا رکھ کر فقراء میں بانٹنے کیلئے نکلتے تھے۔

******

قحط کے سال میں حضرت عمررضی اللہ عنہ نے تمام فقراء اور حاجتمندوں سے کہا کہ مدینہ شریف کے گردونواح میں آ کر بس جاؤ، اُن کیلئے خود خیمے نصب کیئے اور کہا: اگر زندہ رہے تو اکھٹے رہیں گے اور مرے بھی تو اکھٹے مریں گے۔

******

ایک آدمی نے آ کر حضرت عمررضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ اے امیر المؤمنین، اگر آپ اپنے بیٹے عبداللہ کیلئے کیلئے خلافت کی وصیت کرتے جائیں تو اچھا ہوگا، کیونکہ وہ خلافت کا اہل ہے۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے جھوٹ بولا ہے اللہ تجھے ھلاک کرے، اور میں تیری مکاری کی گواہی دیتا ہوں، میں کس طرح اُس کیلئے خلافت کی وصیت کروں اور مسلمانوں میں اُس سے بہتر لوگ موجود ہیں؟

******


New Labour Law in Saudia Arabia

 

Mobile phone and Brain Tumor