Bismillah

Bismillah

Ayyat

Ayyat

Pakistani Human Resource available

This is to clarify to our all visitor and members that, we obey all Pakistani Rules and Regulations which is implemented in Pakistan by Pakistani Government. Our main purpose of posting and circulating data on our site is only for Pakistani nation knowledge and information. So using this data for any other purpose or misuse of data, we will not take any responsibilities of this type of activities, kindly do not use this data for any illegal activities which is prohibited by Pakistani Government, and follow the all rules of Pakistani Government about Cyber Crimes.

We can provide you all type of Pakistani best Human Resource Skilled and Unskilled for all over the world and specially for Arab countries. If you required any type of Human Resource you can send us email at : joinpakistan@gmail.com We will do our best to satisfy your needs according to your requirement.

If you required a job or if you are searching for a good employee please contact us at : joinpakistan@gmail.com

Charagh

Charagh

Wednesday, August 10, 2011

Life Examination

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

زندگی کے امتحان بھی تو ایسے ہی ہوتے ہیں

کسی سکول میں  ایک استاد ہوتا تھا۔ بہت ہی لائق اور محنتی، پڑھانے کو فرض سمجھنے اور پڑھائی کے پیشے کا حق ادا کرنے والا۔

 

ایک بار  سہ ماہی امتحانات کے دن قریب آنے پر اُسے امتحان لینے کا ایک نیا طریقہ سوجھا۔

روایتی  تحریری یا زبانی امتحانات جیسے طریقوں سے سےہٹ  کر ایک مختلف اور اچھوتا طریقہ۔

امتحان والے دن اُس نے طلباء سے کہا وہ اپنے ساتھ تین مختلف قسم کے پرچے بنا کر لایا ہے۔

جو ہر قسم کی ذہنی صلاحیتوں والے طلباء کے لئے مناسب اور موزوں ہیں۔

پہلی قسم کے پرچے اُن طلباء کیلئے ہیں جنہیں اپنی  ذہانت، اپنی محنت اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے۔  ان پرچوں میں مشکل سوالات دیئے گئے ہیں۔

دوسرے قسم کے پرچوں میں درمیانہ قسم کے طلباء کیلئے  عام قسم کے سوالات ہیں۔ درمیانہ ذہانت  کے طلباء سے مراد ایسے طالبعلم جو پڑھتے تو ہیں مگر پڑھائی پر  اضافی  توجہ دینے اور سخت محنت سے کتراتے ہوئے۔ صرف پاس ہوجانا ہی اُن کا مطمع نظر ہوتا ہے۔

  اور  تیسری قسم کے پرچے ایسے طلباء کیلئے ہیں جو پڑھائی کے معاملے میں انتہائی کمزور ہیں۔ اپنی لا پروائی یا  دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں زیادہ مصروفیت کی وجہ سے وہ تعلیم کو وقت ہی نہیں دے پاتے اور نا ہی وہ کسی قسم کے سخت امتحانات یا  مشکل قسم کے سوالات کیلئے ذہنی طور تیار ہیں۔

طالبعلموں نے اپنے اُستاد کی بات کو بہت ہی تعجب سے سنا۔ امتحان کیلئے اس قسم کے پرچے بنائے جانا اُن کیلئے ایک  ایسا انوکھا تجربہ تھا جس سے انہیں اپنی ساری تعلیمی زندگی میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔  پرچہ شروع ہونے کی گھنٹی بجتے ہی سب طلباء اپنی اپنی پسند کے پرچے اُٹھانے کیلئے لپکے تو صورتحال کچھ اس طرح کی سامنے آئی کہ:

چند ایک طالبعلم ہی ایسے تھے جنہوں نے مشکل سوالات والے پرچے اُٹھانا پسند کیئے تھے۔ اور جتنے ایک طلباء نے مشکل پرچے اُٹھائے تھے اُن سے تھوڑے زیادہ طلباء نے درمیانی قسم کے پرچے لیئے تھے۔  جبکہ  طلباء کی اکثریت نے آسان سوالات والے پرچے لینا ہی پسند کیئے تھے۔

میں اپنی یہ کہانی پوری سنانے سے پہلے آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ بھی ان طلباء میں شامل ہوتے تو  آپ کس قسم کا پرچہ اُٹھانا پسند کرتے؟

امتحان شروع ہوا تو کئی ایک حیرت انگیز باتیں طلباء کے انتظار میں تھیں۔ جن طلباء نے مشکل سوالات والے پرچے اُٹھائے تھے وہ یہ دیکھ کر حیران ہو رہے تھے سوالات تو اتنے مشکل ہرگز نہیں تھے جتنے مشکل کے وہ توقع کر رہے تھے۔

جن طلباء نے درمیانی قسم کے پرچے اُٹھائے تھے انہوں نے محسوس کیا کہ وہ اکثر سوالوں کے جوابات حل کر سکتے ہیں۔ دل میں تو یہ سوچ رہے تھے کہ کاش اُنہوں نے مشکل سوالوں والے اُٹھائے ہوتے تو بھی وہ  کئی سوالات حل کر ہی ڈالتے۔

حقیقی معنوں میں صدمہ  اُن طلباء کو پہنچا تھا جو آسان سوالوں والے  پرچے  اُٹھا لائے تھے مگر حقیقت میں وہ سوالات اتنے آسان بھی نہیں جتنے آسان کی وہ توقع کر رہے تھے۔

استاد  خاموشی سے سب طلباء کو پرچے اُٹھا کر  جاتے اور حل کرتے وقت اُن کے چہروں پر آئے ہوئے تأثرات کو دیکھتا رہا۔ امتحان کا مقرر ہ وقت ختم ہونے پر اُس نے سب  سے  پرچے اور جوابی کاپیاں  جمع کر کے اپنے سامنے رکھیں  اور طلباء سے کہا کہ وہ ان پرچوں کے نمبر لگا کر ابھی سب کو نتیجہ سنا دے گا۔

طالبعلموں کو یہ بات تو کچھ زیادہ ہی عجیب لگی۔  چھٹی ہونے میں تھوڑی سی دیر رہتے وقت میں اُستاد  زیادہ سے سے زیادہ دو یا چار پرچے  چیک کر سکتا تھا ،  ساری جماعت کے پرچے چیک کرنا تو ناممکن ہی تھا۔

مزید حیرت اُس وقت دیکھنے میں آئی جب اُستاد ہر طالبعلم کا  حل کیا ہوا پرچہ  اُٹھاتا اور اُسے بغیر دیکھے اور پڑھے  ،    اُس طالبعلم کے اختیار کردہ  پہلی  ، دوسری   یا تیسری   قسم کے سوالات والے  پرچے کے مطابق مخصوص نمبر  لگا کر واپس رکھ دیتا۔ طالبعلم اِس ساری صورتحال کو  خاموشی  مگر  نہایت ہی حیرت سے دیکھ رہے تھے مگر اُن کی یہ حیرت زیادہ دیر تک قائم نہ  رہ سکی۔

استاد جیسے ہی نمبر لگانے  سے فارغ ہوا تو اُس نے  طلباء کو کئی ایک غیر متوقع باتیں بتائیں۔ استاد نے اس اچھوتی قسم کے امتحان سے راز اُٹھاتے ہوئےجو پہلی بات بتائی وہ یہ تھی کہ:

تینوں قسم کے پرچے حقیقت میں ایک جیسے ہی تھے، کسی میں بھی کوئی مختلف سوال نہیں تھا۔

دوسرا راز یہ تھا کہ  جن طلباء نے مشکل سوال سمجھ کر پرچے اُٹھائے تھے اُس نے اُن طلباء کو اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا تھا۔

جن طلباء نے   دوسری قسم کے عام سوالات والے پرچے اُٹھائے تھے اُن کو درمیانہ قسم کے ہی نمبر دیئے گئے تھے۔

اور جن طلباء نے سوالوں کو آسان سمجھ کر اُٹھایا تھا ان کو سب سے کمتر اور کمزور درجہ سے پاس کیا گیا تھا۔

اُستاد کی یہ باتیں سُن کر طالبعلموں کے منہ بن کر رہ گئے، اُنکے زیر لب شکوے اب صرف بڑبڑاہٹ ہی نہیں بلکہ آواز بن کر اُستاد تک پہنچ رہے تھے۔ خاص طور پر وہ طلباء جنہوں نے درمیانی قسم یا آسان سوالات والے پرچے لیئے تھے اُن سے یہ بات ہضم نہیں ہو پا رہی تھی۔ انہوں نے تو باقاعدہ اُستاد سے اس بات کی وضاحت ہی مانگ لی۔

اُستاد نے اپنے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ:

اُس نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا۔

اُس نے سب کو نمبر اُن کی  اپنی اختیار کردہ حیثیت کے مطابق ہی تو دیئے ہیں۔

جو  طالبعلم  اپنی محنت پر بھروسہ اور  صلاحیتوں پریقین رکھتا  تھا اور  اُس نے مشکل سوالات والا پرچہ اُٹھایا تھا، اُس کا حق بنتا تھا کہ اُسے اُس کی محنت کا حق  اعلیٰ درجے سے دیا جائے۔

جسے اپنی قابلیت پر شک اور اپنی صلاحیت کا اندازہ  تھا کہ اُس نے نا تو دل لگا کر پڑھا  اور نا ہی سنجیدگی سے محنت کی ہوئی تھی، اُس نے درمیانہ قسم کے پرچے اُٹھائے  اور اُسے اُس کی قدرات کے مطابق ہی درمیانہ نمبر دے دیئے گئے تھے۔

اور وہ کمزور طلباء جنہیں بخوبی پتہ تھا کہ  وہ پڑھنے کے معاملے میں نکمے ہیں، اپنے اسباق یاد کرنا تو دور کی بات،  انہوں نے تو اپنا وقت پڑھائی سے دور بھاگنے، کام چوری ، سستی اور لا پروائی میں  گزارا  ہوا تھا۔ تو ایسے طلباء کو تو اُن کی صلاحیت کے مطابق ہی ضعیف ترین نمبروں سے پاس کیا گیا تھا۔

جی ہاں۔ ہماری زندگی  بھی تو بالکل اسی طرح ہی ہے!

جس طرح ان طلباء نے اپنے لئے اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق راستوں کا اختیار کیا،  اُسی طرح

آپ کو بھی یہ جان لینا چاہیئے کہ یہ  زندگی ہر شخص کو اس کی اپنی تیاری اور اُسکی قدرت و استطاعت کے مطابق ہی  درجے، ترقیاں،  اور اجرت  و معاوضہ دیا کرتی ہے۔  

اسی طرح ہی دوسرے لوگ، خواہ وہ آپ کے اساتذہ ہوں یا آپکے  اداروں کے سربراہان و مالکان، حتیٰ کہ آپ کے دوست اور  آپکے  جاننے  والے عزیز بھی، ان میں سے کوئی بھی آپ کو آپ کے حق سے زیادہ نہیں دے گا۔

اگر آپ زندگی کی دوڑ میں اعلیٰ مراتب اور بلند درجوں کے خواہشمند ہیں،  تو پھر آپ  کو بلا  خوف اور  پورے اعتماد کے ساتھ  سخت امتحانات  کو اختیار کرنا پڑے گا۔

اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے  کہ آپکو سب سے کمتر اور ضعیف درجے کی کامیابی چاہیئے یا کہ اعلٰی درجوں والی؟

Good news for Pakistanies

 

Thursday, August 4, 2011

Interesting info

 



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

 

 

زندگی ۔ منفی اعتقادات کے ساتھ

 

کولمبیا کی ایک یونیورسٹی میں ریاضیات کے لیکچر کے دوران کلاس میں حاضر ایک لڑکا بوریت کی وجہ سے سارا وقت پچھلے بنچوں پر مزے  سے  سویا رہا، لیکچر کے اختتام پر طلباء کے باہر جاتے ہوئے شور مچنے پر اسکی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ پروفیسر نے تختہ سیاہ پر دو سوال لکھے ہوئے ہیں۔ لڑکے نے انہی دو سوالوں کو ذمیہ کام سمجھ کر جلدی جلدی اپنی نوٹ بک میں لکھا اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ ہی کلاس سے نکل گیا۔ گھرجا کرلڑکا ان دو سوالوں کےحل سوچنے بیٹھا۔ سوال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مشکل ثابت ہوئے۔ ریاضیات کا اگلا سیشن چار دنوں کے بعد تھا اس لئے لڑکے نے سوالوں کو حل کرنے کیلئے اپنی کوشش جاری رکھی۔ اور یہ لڑکا چار دنوں کے بعد ایک سوال کو حل کر چکا تھا۔

اگلی کلاس میں لڑکے کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پروفیسر نے آتے ہی بجائے دیئے ہوئے سوالوں کے حل پوچھنے کے، نئے موضوع پر پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ لڑکا اُٹھ کر پروفیسر کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ  اُستاد صاحب، میں نے چار دن لگا کر ان چار صفحات پر آپکے دیئے ہوئے دو سوالوں میں سے ایک کا جواب حل کیا ہے اور آپ ہیں کہ کسی سے اس کے بارے میں پوچھ ہی نہیں رہے؟

اُستاد نے حیرت  سے  لڑکے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے تو کوئی ذمیہ کام نہیں دیا تھا۔ ہاں مگر میں نے تختہ سیاہ پر دو ایسے سوال ضرور لکھے تھے جن کو حل کرنے میں اس دُنیا کے سارے  لوگ ناکام ہو چکے ہیں۔

جی ہاں۔ یہی منفی اعتقادات ہیں جنہوں نے اس دُنیا کے اکثر علماء کو ان مسائل کے حل سے ہی باز رکھا ہوا تھا کہ انکا کوئی جواب دے ہی نہیں سکتا تو کوئی اور کیوں کر انکو حل کرنے کیلئے محنت کرے۔ اور  اگر یہی طالبعلم عین اُس وقت جبکہ پروفیسر تختہ سیاہ پر یہ دونوں سوال لکھ رہا تھا، جاگ رہا ہوتا  اور  پروفیسر کی یہ بات بھی سن رہا ہوتا کہ کہ ان دو مسائل کو حل کرنے میں دنیا ناکام ہو چکی ہے تو وہ بھی یقیناً  اس بات کو تسلیم کرتا اور ان مسائل کو حل کرنے  کی قطعی کوشش ہی نا کرتا۔ مگر  قدرتی طور ہر اُسکا سو جانا اُن دو مسائل میں سے ایک کے حل کا سبب بن گیا۔ اس مسئلے کا چار صفحات پر لکھا  ہوا حل آج بھی کولمبیا کی اُس یونیورسٹی میں موجود ہے۔

تیز دوڑنےسے متعلق  غلط ا عتقادات

آج سے پچاس سال پہلے تک دوڑنے کی مشق کے بارے میں ایک غلط عقیدہ پایا جاتا تھا کہ: کوئی بھی انسان چار منٹوں سے کم وقت میں دوڑ کر ایک میل کی مسافت طے نہیں سکتا۔ اگر کسی شخص نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو اُسکا دل پھٹ جائے گا۔

ایک کھلاڑی نے اس بارے میں پوچھ گچھ شروع کی کہ کیا اب تک  کسی نے چار منٹ سے کم میں یہ مسافت طے کرنے کی کوشش بھی کی ہے یا نہیں؟ یا کتنے ایسے لوگ ہیں جنکا دل ایسا کرنے سے پھٹ گیا ہو؟ مگر اس بات کا کوئی بھی ثبوت نہیں تھا اور ناہی کوئی اس بات کی حقیقت کو جانتا تھا کہ کسی  فرد واحد کا آج تک دل پھٹا بھی تھا یا نہیں!

اس کھلاڑی نے چار منٹ سے کم مدت میں ایک میل کا سفر کرنے کیلئے کوشش شروع کی اور ایک دن اس میں کامیاب بھی ہو گیا۔ جب لوگوں نے اُس کے منہ سے ایسا سنا کہ وہ ایک میل کا سفر چار منٹ سے بھی کم وقت میں دوڑ کر طے کر سکتا ہے تو شروع شروع میں لوگوں نے اُسے پاگل اور جھوٹا سمجھا اور بعد میں یہ شک کیا کہ اُسکی گھڑی غلط ہوگی۔ لیکن بعد اُس شخص کے مسلسل اسرار پر لوگوں نے خود جا کر اُسے دیکھا کہ وہ واقعی ایک میل کی مسافت چار منٹ سے کم وقت میں دوڑ کر طے کر سکتا ہے، اس کے بعد صرف وہی ہی نہیں دنیا بھر سے 100 سے زیادہ لوگوں نے یہی کارنامہ سر انجام دیکر ایک ایسے عقیدے کو جھوٹا ثابت کیا جس کے ساتھ لوگ ازل سے جی رہے تھے۔ ان 100 سے زیادہ لوگوں نے یہ ثابت کیا کہ کوشش کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں ہوتا۔

ایک اور واقعہ سنیئے:

کہتے ہیں کہ کسی  غذائی مواد  کو سٹور اور فروخت کرنے والی  کمپنی  کے ایک کولڈ سٹور میں،  وہاں کام کرنے والا ایک شخص سٹور میں  موجود سٹاک کے  معائنے  اورسامان کی  گنتی کیلئے گیا۔وہ جیسے ہی کولڈ سٹور میں  داخل ہوا تو پیچھے سے دروازہ بند ہوگیا۔ اس شخص نے شروع میں خود دروازہ کھولنے اور پھر بعد میں دروازہ پیٹ کر باہر سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی مگر دونوں صورتوں میں ناکام رہا۔ بد قسمتی سے اس وقت ہفتے کے اختتامی لمحات  چل رہے تھے۔ اور اگلے دو دن ہفتہ وار چٹھیاں تھیں۔ اس شخص نے جان لیا کہ باہر کی دنیا سے رابطہ کا کوئی ذریعہ نہیں رہا اور نا ہی  وہ کسی کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے تو یقینی بات ہے کہ  اُس کی ہلاکت کا وقت آ چکا ہے۔  تھک ہار کر یہ شخص بیٹھ کر اپنے انجام کا انتظار کرنے لگ گیا۔ اور دو دن کے بعد جب یہ کولڈ سٹور دوبارہ کھولا گیا تو واقعی یہ شخص مرا ہوا پایا گیا تھا۔

لوگوں نے اُس کے قریب ہی پڑے ہوئے کاغذات اٹھا کر دیکھے جن پر وہ شخص اپنے مرنے سے پہلے اپنے محسوسات لکھتا رہا تھا۔ کاغذوں پر لکھا ہوا تھا کہ۔۔۔۔(میں اس کولڈ سٹور میں مکمل طور پر قید ہو چکا ہوں۔ ۔۔۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میرے آس پاس برف جمنا شروع ہو گئی ہے۔۔۔۔  میں سردی سے ٹھٹھر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ اب تو مجھے ایسا لگ  رہا ہے کہ میں حرکت بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں سردی سے مر ہی جاؤں گا۔۔۔۔) لکھائی ہر جملے کے ساتھ ضعیف سے ضعیف تر ہوتی گئی تھی یہاں تک کہ لکھنے کا سلسلہ ہی منقطع ہو گیا تھا۔

ان سب باتوں میں جو سب سے عجیب بات دیکھنے میں آئی تھی وہ یہ تھی کہ کولڈ سٹور  میں کولنگ سسٹم کی تو بجلی ہی بند تھی اور وہ تو چل ہی نہیں رہا تھا۔

کیا خیال ہے آپکا؟ کس نے قتل کیا تھا  اس شخص کو؟ جی ہاں، اس شخص کو اُس کے وہم نے مار ڈالا تھا۔  اُسے یقین تھا کہ کولڈ سٹور چل رہا ہے اور یہاں کا درجہ حرارت صفر سے بھی نیچے ہے جس سے ہر چیز جم جائے گی اور وہ مر جائے گا۔

اسی وجہ سے تو کہا جاتا ہے کہ منفی افکار اور عقائد سے بندھ کر اپنی زندگی کو کنٹرول کرنا ہی نا بند کر دیا جائے۔  ہزاروں لوگ ایسے  گزرے ہیں جنہیں اپنی ذات پر بھروسہ ہی نہیں تھا اور انہوں نے اپنے ہاتھوں میں آئے ہوئے کاموں اور موقعوں کو یہ سوچ کر چھوڑ دیا تھا کہ یہ کام اُن کے بس کا نہیں تھا ۔ جبکہ حقیقت میں معاملہ اسکے بالکل ہی بر عکس تھا۔

ہاتھی اور اُسکی رسی کا واقعہ:

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں جب  میں نے ایک چڑیا گھر میں ایک عظیم الجثہ ہاتھی کو ایک چھوٹی  سی رسی سے  اسکے اگلے پاؤں کو بندھا ہوا دیکھا تو مجھے بہت حیرت  ہوئی تھی۔ ہاتھی رسی کے ساتھ بندھے ہوئے کھڑا  تھا ایک محدود دائرے میں گھوم رہا تھا۔ ہاتھی کی ضخامت کے اعتبار سے تو اُسے کسی مضبوط زنجیر اور فولادی کڑے سے باندھا جانا چاہیئے تھا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ ہاتھی کسی بھی لمحے اپنے پاؤں کی معمولی جنبش سے اس رسی کو تڑا کر آزادی حاصل کر سکتا تھا مگر وہ ایسا نہیں کر رہا تھا۔

مجھے جیسے ہی ہاتھی کا رکھوالا نظر آیا تو میں نے اُسے اپنے پاس بلا کر پوچھا: یہ اتنا بڑا ہاتھی کس طرح ایک چھوٹی سی رسی سے بندھا ہوا کھڑا ہے اور یہ کیوں نہیں اپنے آپ کو چھڑوا کر بھاگ جاتا؟

یاتھی کے رکھوالے نے مجھے بتایا کہ: اس طرح کے بڑے جانور جب پیدا ہوتے ہیں تو یقینی بات ہے کہ اس سے کہیں چھوٹے ہوتے ہیں۔ ہم ان کو باندھنے کیلئے اس قسم کی چھوٹی سی رسی ہی استعمال کرتے ہیں۔اس قسم کی چھوٹی سی رسی اس وقت اُن کی عمر اور جسم کے لحاظ سے باندھنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ جانور تو بڑے ہوتے رہتے ہیں مگر ان کی سوچ وہی رہتی ہے کہ کہ ابھی بھی وہ اس رسی کو نہیں توڑ سکتے۔

 یہ جان کر مجھے بہت حیرت ہو رہی تھی کہ اتنے بڑے جانور جو اپنی طاقت سے بڑی بڑی وزنی چیزوں کو اٹھا کر ادھر ادھر کر سکتے ہیں۔ مگر  انکا  دماغ  اسی پرانی سوچ سے بندھا رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس رسی کی قید سے کبھی بھی نجات نہیں پا سکتے۔

بعض اوقات ہماری مثال بھی تو بالکل ایسی ہی ہوتی ہے ۔ یہی سوچ کر کہ ہم کچھ نہیں کر پائیں گے یا کچھ کیا تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا یا یہ کام ہمارے بس اور ہمارے روگ کا ہی نہیں جیسی سوچ کی وجہ سے ہم قناعت کے ساتھ ایک  لگے بندھے مفاد کے ساتھ چپکے رہتے ہیں ۔ اسی سوچ کی وجہ سے ہم اپنی ذات، مفاد اور رہن سہن میں بھی کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔

کوشش کرکے نئے وسائل اور نئے راستوں کو اپنائیےاور اپنی زندگی میں  مثبت  طریقے سے اور مثبت تبدیلیاں لا کر  بہتری کی طرف قدم بڑھائیے۔ ہمارے ماحول اور معاشرے میں تو کئی ایسے جھوٹے اعتقادات اور وہمی افکار موجود ہیں جو ہمیں کامیابی کی طرف قدم ہی نہیں اُٹھانے دیتے، کامیابی تو اس کے بعد کا مرحلہ ہے۔ ہمارا واسطہ اکثر -یہ تو ناممکن ہے-،  -یہ تو بہت مشکل کام ہے-،  -یہ تو مجھ سے نہیں ہو پائے گا- وغیرہ جیسے کلمات سے سے پڑتا ہے۔ یقین جانیئے یہ سب کچھ جھوٹ اور بنی ہوئی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ پر عزم ، بلند حوصلے اور اللہ پر توکل رکھنے والا انسان ان سب کہاوتوں  کا  انکار کرتے ہوئے ان  رکاوٹوں کو عبور کر لیا کرتا ہے۔

تو پھر آپ ان جھوٹے افکار و عقائد کے خلاف ایک آہنی ارادے کے ساتھ کیوں نہیں اُٹھ کھڑے ہوتے؟ ایک پختہ عزم اور پکے ارادے کے ساتھ اور  کامیابی کے راستے پر گامزن ہونے کیلئے؟

Wednesday, August 3, 2011

Govt. Punishment and Judiciary is silence....

چیف جسٹس آف سپریم کورٹ پاکستان
سے درد مندانہ
 اپیل
 
 جناب اعلی
 جب آپ کی حکومت سنتی نہیں ہے تو پھرآپ سرکاری ملازموں کو کیوں عبرت کا نشان بننے کے لیے آگے کردیتیں ہیں؟  اگر کسی ملازم نے آپ کے حکم کی تعمیل کر دی اور اس کو حکومت نے عبرت کا نشان بنا کر اپنی باقی ملازمت تک تنگ کرتے رہیں گے اور آپ نے ان لوگوں کا ساتھہ چھوڑ کر حکومت کے رہم و کرم چھوڑ دیا ہے، کیا آپ کے اس رویہ کے بعد کوئی سرکاری ملازم آنئدہ آپ کا حکم مانے گا، برائے حوالہ اس خبر کو پڑھیں:۔
 
چیف جسٹس صاحب اور چیف آف آرمی اسٹاف جناب اشفاق کیانی صاحب کیا آپ لوگ بھی پاکستانی عوام کی طرح اس حکومت کے ہاتھوں یرغمال اور بے بس تو نہیں ہو گئے ہیں؟
 
کیا آپ کو نہیں معلوم کہ روزانہ کتنے گھروں کو ویران، کتنے ماوں کی گودوں کو اجاڑا، کتنے بچوں کو یتیم کیا جا رہا ہے،اور پھر بھی آپ لوگ بیٹھے ہوئے یہ سارے تماشے دیکھہ رہے ہو اور خاموش ہیں آخرکیوں، کیا آپ لوگوں کو اپنی کرسی کی فکر ہے  پاکستان اورعوام کی فکر نہیں ہے جنے کے خون پسینے کی کمائی سے آپ لوگوں کو تنخواہیں اور آپ کی دیگر ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے؟
 
اگر یہ حکومت آپ کی سنتی نہیں ہے تو برائے کرم فوج کو بلا کر امن کا قیام یقینی بنائے اور قانون کونافذ کرایں ہر ایک پر۔
 
اللہ کے واسطے اس بے غیرت حکومت اور ان کے چور ساتھیوں سے پاکستان اور پاکستانی عوام کو بچایں۔
 
اگراب بھی آپ نے کچھہ نا کیا تواللہ نہ کرے کے یہ بے غیرت لوگ پاکستان کا ہی سودا نا کردیں۔
 
ہمیں تو اپنی فوج کی کارکردگی پر بھی دکھہ ہو رہا ہے کہ روزانہ کتنے لوگ مر رہے ہیں اور فوج بیٹھی تماشا دیکھہ رہی ہے، آخر یہ کس مرض کی دوا ہے، صرف نہتے لوگوں پر گولیاں چلانا جانتی ہے؟
 
ہم اشفاق کیانی صاحب سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ خدا راہ پاکستان پر رہم کریں اور اس کو امن و محبت کا گہوارہ بنایں، پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔  آپ باہر نکلیں اور اپنا کردار ادا کریں، اس وقت پاکستانی عوام یرغمال بنی ہوئی ہے اور اس کی آنکھیں اس مشکل کی گھڑی میں صرف اور صرف پاک فوج پر ہیں۔
 
امید ہے کے آپ لوگ جلد سے فورا پہلے اس بارے میں عمل کریں گے۔
 
ایک پاکستانی۔

Beaware about prizes through Mobile calls....

 

Govt and Judiciary fight continue.....