| |||||||||||||||||
Bismillah
Ayyat
Pakistani Human Resource available
This is to clarify to our all visitor and members that, we obey all Pakistani Rules and Regulations which is implemented in
We can provide you all type of Pakistani best Human Resource Skilled and Unskilled for all over the world and specially for Arab countries. If you required any type of Human Resource you can send us email at : joinpakistan@gmail.com We will do our best to satisfy your needs according to your requirement.
If you required a job or if you are searching for a good employee please contact us at : joinpakistan@gmail.com
Charagh
Monday, May 21, 2012
Fw: Why are you crying?
Saturday, May 19, 2012
message for girls
Friday, May 11, 2012
Tuesday, May 8, 2012
Amazing Important News about Pakistan, plz must read and watch
Monday, April 23, 2012
PLEASE VOTE NO IN NEWZEALAND POLL and please forward this to as many people you can
Please vote NO in NewZealand poll
The government of new Zealand is running an online Poll on yahoo to known your opinion about banning NIKAAB in there country please help sister in New Zealand by voting , We are losing by about 6000 votes at the moment . please do not ingnore it, it only take 5 seconds just open the link n click "NO" please forward to all muslims.
For vote please click on http://nz.news.yahoo.com/polls/popup/-/poll_id/55492 and vote "NO" and also forward this message to your other Muslim brother and sisters.
Friday, April 13, 2012
Firown Advocate
Thursday, April 12, 2012
Saturday, April 7, 2012
Apni Namazoun Ko Zayaa Hone Se Bachayein " "
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
“مسلمان” دہشت گرد نہیں
"مسلمان" دہشت گرد نہیں
"دہشت گرد" مسلمان نہیں
روشنی میں جینے والے
چراغوں کو کیوں بجھائیں گے
جو مردوں کو نہیں جلاتے
وہ زندوں کو کیوں جلائیں گے
Friday, April 6, 2012
Thursday, April 5, 2012
Aaj Ka Latifa
لیکن گھر میں نہ گیس نہ بجلی نہ پانی۔ مجبوراً آدمی مرغی کو واپس
گلی میں چھوڑ آیا
مرغی خوشی سے گلی میں چھلانگیں لگاتی اور نعرے لگاتی ہوئی بھاگی
جئے بھٹو
جئے زرداری
جئے پی پی پی
کل بھی مرغی زندہ تھی
آج بھی مرغی زندہ ہے
مرغی کدی نہ پکے
پاکستان کھپے
بھٹو تیرے جاں نثار
بھوکے ننگے بے شمار
Monday, April 2, 2012
Friday, March 30, 2012
Thursday, March 29, 2012
Fw: پلاسٹک کی پلیٹ
پلاسٹک کی پلیٹ میرے کام کی ہے
یہ اس آدمی کا قصہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور اولاد کی کوئی کمی نہیں تھی۔ وہ ہر طرح سے خوش حال تھا ۔ اس کی زندگی ہی میں اس کی ساری اولاد کی شادیاں ہوگئی تھیں۔ بٹیاں شادی کے بعد سسرال جاکر بس گئیں اور بیٹے شادی کے بعد بیویو ں کو ساتھ لیکر الگ الگ مکانوں میں رہنے لگے۔ اب گھر میں صرف بوڑھے ماں باپ رہ گئے ان کی خدمت کے لئے ایک ڈرائیور اور ایک نوکرانی گھر میں موجود تھی۔
بچوں کا معمول تھا کہ چھٹی کے دن زیادہ تر وقت اپنے والدین کے پاس ہی گزارتے۔ اس طرح بوڑھے والدین کو کوئی خاص تنہائی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ انہیں نواسا ، نواسیوں پوتاپوتیوں کو گاہے بگاہے دیکھنے اور ان کے ساتھ خوش کلامی کا موقع مل جاتا تھا لیکن چندبرس بعد ماں کا انتقال ہوگیا اور گھر میں باپ اکیلا رہ گیا چنانچہ اس نے بڑے بیٹےکے سامنےتجویز رکھی کہ میں تنہا اس گھر میں نہیں رہنا چاہتا۔ اس لئے اب میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔
بیٹے نے باپ کی خواہش بخوشی قبول کی اور بوڑھے والد کو لیکر گھر روانہ ہوگیا۔ گھر میں اس نے ایک کمرے کی اچھی طرح صفائی کرائی اور اسے اپنے والد کے لئے وقف کردیا۔ باپ کی خدمت میں اس نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ جب بھی ڈیوٹی سے آتا باپ کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا اور حیریت دریافت کرتا ۔ مگر یہ سلسلہ زیادہ دن تک نہ چل سکا۔ اس کی بیوی سسر کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتی تھی ۔ اس کا شوہر شام کو آفس سے تھکا ہارا گھر آتا تو وہ اس کے بوڑھے باپ کے خلاف شکایات کا ڈھیر لے کر بیٹھ جاتی۔ ایک دن اس نے شوہر کے سامنے بلا جھجک کہہ دہا:
"اب اس گھر میں میں رہوں گی یا تمہارا باپ!"
یہ سنتے ہی شوہر کے کان کھڑے ہوگئے ۔ اسے اپنی بیوی سے بہت محبت تھی۔ اس نے بیوی کو کافی سمجھایا بجھایا۔ بہت بحث کے بعد آخر کار دونوں میاں بیوی میں اس بات ہراتفاق ہوگیا کہ بوڑھے باپ کو گراؤنڈ فلور سے نکال کر چھت سے ملحق کمرے میں منتقل کردیا جائے تاکہ کسی کو شکایت کا موقع نہ مل سکے ، چنانچہ بیٹے نے باپ سے کہا: میں نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کو چھت سے ملحق کمرے میں منتقل کردیا جائے۔ چھت پر صاف ستھری ہوا بھی آئے گی ، سورج کی روشنی سے بھی بلاواسطہ فائدہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے اور چھت کی فضا سے آپ لطف اندوز بھی ہوتے رہیں گے۔
"ہاں ہاں بیٹا !بھلا تمہاری ان باتوں سے اختلاف کیوں کر ہو سکتا ہے ، تم نے میرے بارے میں جو فیصلہ کیا ہےوہ میرے حق میں صحیح ہے۔ اس طرح میری صحت بھی اچھی رہے گی۔"
باپ نے بیٹے کے جواب میں کہا۔
وہ گھر کے نچلے حصے میں رہتا تھا تو گاہے بگاہے اس کے ننھے منے پوتے اور پوتیاں من بہلا دیا کرتے تھے اور وہ ان کے ساتھ کھل مل کر کچھ باتیں کر لیا کرتا تھا مگر چھت پر آنے کے بعد اسے وہی تنہائی ڈسنے لگی جو بیوی کے انتقال کے بعد اسے اپنے گھر میں ڈستی تھی۔
بےچارہ باپ اس تنہائی اور بہو بیٹے کی جانب سے بے پروائی کو صبر و تحمل سے جھیلتا رہا۔ غم کی شدت اسے کھائے جا رہی تھی مگر وہ اس کا اظہار نہیں کرتا تھا۔ وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ اس کے ساتھ بیٹا اور بہو اچھا برتاؤ نہیں کر رہے۔ اسے یہ دیکھ کر اندر ہی اندر بڑا دکھ ہوتا تھا کہ گھر میں اچھی اچھی اور قیمتی پلیٹیں موجود ہیں ۔ اس کے باوجود اس کا کھانا ہمیشہ ایک پلاسٹک کی پلیٹ میں آتا ہے اور وہ بھی صاف ستھری نہیں ہوتی تھی۔ بہو نوکرانی سے کہا کرتی تھی:
کھانا اسی پلاسٹک کی پلیٹ میں دیا کرو ، شیشے کی پلیٹ میں کھانا دوگی تو وہ توڑ دیں گے یا اسے گندا کر دیں گے۔
بوڑھا پاب اب عمر کے آخری حصے میں قدم رکھ چکا تھا۔ اس کی زندگی اور قبر کے مابین بس تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ادھر گھر میں کوئی بھی اس کا دھیان رکھنے والا نہیں تھا۔اس کے کپڑے گندے ، اس کا کمرہ بھی گندا ، اس پر مستزاد تنہائی کا زہر۔ اب وہ جی نہیں رہا تھا ، جینے کی نقل کر رہا تھا۔ آخر کار وہ وقت آ ہی گیا جس سے کسی کو مفر نہیں۔ بوڑھا باپ فوت ہوگیا۔ بوڑھے باپ کو اس دنیا سے رخصت ہوئے کوئی 4 ، 5 ہفتے گزرے تھے کہ نافرمان بیٹا اپنے بچوں اور نوکروں کے ساتھ باپ کے کمرے میں داخل ہوا اور کمرے کی صفائی ستھرائی میں لگ گیا۔ وہ کمرہ گھر کے ڈرائیور کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔ کمرے کی صفائی کے دوران اس نافرمان بیٹے کے ایک بچے کی نظر پلاسٹک کے پلیٹ پر پڑ گئی جو اس کے بوڑے دادا کے لئے خاص کردی گئی تھی۔ بچے نے لپک کر پلیٹ اپنے ہاتھ میں اٹھالی ۔ باپ نے فوراً کہا:
اس پرانی اور گندی پلیٹ کا کیا کروگے؟ اسے پھینک دو ، یہ رکھنے کے قابل نہیں۔لیکن چھوٹے بچے نے باپ کی بات پر کوئی دھیان نہ دیا اور کہنے لگا: نہیں نہیں ، مجھے اس کی ضرورت ہے، میں اس کی حفاظت کروں گا ، میں اسے پھینک نہیں سکتا۔
باپ نے اپنے بچے کی باتیں سن کر پوچھا:
بھلا اس گندی پلیٹ کا کیا کروگے؟
بچے نے جواباً کہا:
میں پلاسٹک کی اس پلیٹ کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں تاکہ کل جب آپ بوڑھے ہوجائیں تو میں آپ کو اسی پلیٹ میں کھانا دے سکوں۔ ننھے منے بچے کی یہ بات سن کر نافرمان بیٹے کے کان کھڑے ہوگئے۔ اب اسے احساس ہوچکا تھا کہ بوڑھے باپ کے ساتھ اس کا سلوک اچھا نہیں تھا اور وہ اپنے محسن باپ کا نافرمان بیٹا تھا۔ بچے کی بات سے وہ بہت شرمندہ ہوا ،
پھر اس کی آنکھیں جھلک اٹھیں۔ کمرے کی صفائی کا کام کاج چھوڑ کر وہ اپنے باپ کے بستر پر لیٹ گیا اور آنسو بہاتے بہاتے با پ کے کمرے کا فرش چومنے لگا لیکن ۔۔۔۔۔
"اب پچھتائے کیا ہوت ، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔"
Thursday, March 22, 2012
Picture of the Day!
Pakistan Zindabad!
Wednesday, March 21, 2012
No Words: Love for Mother!!!
Friday, March 16, 2012
Thursday, February 2, 2012
Wednesday, February 1, 2012
Saturday, January 21, 2012
Immunity in Switzerland procedure, MUST READ it plz.
Bundeshaus West
CH-3003 Bern
Tel. +41 (0)31 322 21 11
Fax +41 (0)31 324 90 47
To enable them to exercise their office unhindered, heads of state enjoy full immunity against legal proceedings abroad. Heads of government and foreign ministers can also claim immunity when travelling abroad. In certain circumstances, this also applies to other members of government in the exercise of their duties.
While abroad, serving heads of state enjoy absolute immunity against criminal proceedings in all actions that otherwise would have been subject to the jurisdiction of these states. The immunity of heads of state is a principle embodied in customary international law.
When a state expressly waives the immunity of its head of state, the head of state cannot invoke immunity.
When a head of state leaves office, immunity no longer holds. A former head of state can claim immunity at most for actions undertaken in the exercise of official functions. If such a connection does not exist, the former head of state can be legally prosecuted.
Heads of state have no immunity in the case of war crimes. The statutes of the International Court of Justice and the International Criminal Tribunals for for the former Yugoslavia and for Rwanda make provision for the fact that a defendant's official position for qualified war crimes, e.g. as head of state, does not relieve such person of criminal responsibility.
The case of Augusto Pinochet, the former Chilean dictator, revived the debate over the criminal responsibility of former heads of state for qualified crimes committed while in office. General Pinochet was held not to be immune from arrest for alleged acts of torture.
Immunity of states and their property
In Europe, the European Convention on State Immunity of 16 May 1972 regulates protection of the property of foreign states. Non-member states of the Council of Europe may also accede to this convention. Very few states have ratified the convention. In Switzerland, the convention entered into force on 7 October 1982.
whether the foreign state acted in the exercise of sovereign authority (sovereign act or act of state, "acta iure imperii") or
whether it acted as a subject of private law equal to a private person (legal transactions, "acta iure gestionis").
Thursday, January 19, 2012
Zardar Report by corruption International Centre for Asset Recovery
1997, October: Swiss government began a probe into Swiss involvement in Bhutto's corrupt SGS/Cotecna deal, and moved to freeze $ 13.7mil USD in Swiss bank accounts owned by Bhutto, Zardari, and family. In August of 1998, a Swiss Magistrate wrote an opinion urging Pakistani authorities to indict Bhutto themselves using evidence gathered in Switzerland. In April of 1999, an Accountability Court in Lahore sentenced Bhutto and Zardari on corruption charges to five years in jail, $8.6mil USD in fines, and disqualified Bhutto from politics for twenty-one years.
2003: In Switzerland an investigating magistrate judge found both Bhutto and Zardari guilty of aggravated money laundering in connection to the SGS/Cotecna probe. Bhutto's attorneys appealed and had this conviction overturned on procedural grounds, because the investigating magistrate had not conducted a hearing in determining this verdict. Additional charges were raised by another Swiss magistrate in July of 2004, thereby reopening the case.
2007, October: President Musharaff granted blanket immunity for past corrupt actions, shielding many public officials and members of the government from prosecution. This applied to Bhutto and Zardari, though not to political opponent Nawar Sharif. Bhutto returned to Pakistan and subsequently re-entered into Pakistani politics.
Notes
Raymond W. Baker (2005) Capitalism's Achilles Heel, New Jersey: John Wiley & Sons, Inc.
Raymond W. Baker (2005) Capitalism's Achilles Heel, New Jersey: John Wiley & Sons, Inc. page 79
Raymond W. Baker (2005) Capitalism's Achilles Heel, New Jersey: John Wiley & Sons, Inc.
Raymond W. Baker (2005) Capitalism's Achilles Heel.
Dean Nelson and Ghulam Hasnain, 'Corruption amnesty may release millions for Bhutto', The Sunday Times, 14 October 2007, http://www.timesonline.co.uk/tol/news/world/asia/article2652808.ece
Wednesday, January 18, 2012
Tuesday, January 17, 2012
Yousuf Raza another corruption
Thursday, January 12, 2012, 12:20 Pakistan
Monday, January 16, 2012
Thursday, January 5, 2012
Pakistani Gilrs student facing Blackmailing from USA....
پاکستانی طالبات کو بلیک میلنگ کا خطرہ
by Izhar Ullah on 9 hours ago // 2 Comments
اسلام آباد : پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے زیر اہتمام نومبر 2011ء کی آخری تاریخ کو ایک ڈانس پارٹی منعقد کی گئی تھی جس میں شریک مقامی طالبات کو بلیک میلنگ کے خدشات لاحق ہیں۔
"کچھ خاص "کے نام سے ہونے والی اس ڈانس پارٹی کی کچھ تفصیلات اب سامنے آرہی ہیں جس میں ایسی طالبات جو اس پارٹی میں شریک ہوئی تھیں انہوں نے شکایت ہے کہ پارٹی میں انہیں یہ کہہ کر بلایا گیا تھا کہ صرف پاکستانی روایتی ڈانس کے مناظر دکھائے جائیں گے اور پھر امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے کی معلومات دی جائیں گی۔
تقریب کے بعد بات کرتے ہوئے امریکی اہل کار کا کہنا تھا کہ اس کلچرل پروگرام میں صرف طلبہ و طالبات کو مدعو کیا گیا تھا ، امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ امریکی سفارتخانہ پاکستانی عوام کے ساتھ شراکت داری چاہتا ہے اسی لئے ڈانس پارٹی کا انعقاد کیا گیا تھا۔
ان طالبات کو بتایا گیا تھا کہ اس پارٹی میں شرکت سے ان کے امریکی تعلیمی اسکالر شپ کے حصول کے لیے راستےکھل جائیں گے، اس لیے پاکستانی یونیورسٹیز کے کافی طلبہ نے پارٹی میں شرکت کے لئے فارم جمع کرائے۔،ڈانس پارٹی میں پاکستان بھر سے یونیورسٹیز کےطلبہ و طالبات کو منتخب کر کے بلایا گیا تھا۔
اس پارٹی میں شریک ہونے والے ایک طالب علم کاکہنا تھا طلبہ کو جوس کے نام پر دھوکے سے شراب پلا دی گئی اور بہت سی پاکستانی طالبات جو صرف اس لیے اس ڈانس پارٹی میں شریک ہوگئی تھیں کہ انہیں امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ مل جائے گا، شراب پینے کے بعد مدہوش ہو کر انتہائی اخلاق سوز حرکات کا نشانہ بنیں۔
انہیں نشے میں مدہوش ہو کر ناچنے پر اکسایا جاتا رہا اور اس کی نا صرف پوری فلم بندی کی گئی بلکہ سیکڑوں تصاویر بھی اتاری گئیں۔ اب خدشہ اس بات کا ہے کہ ان تصاویر کو کہیں ان طالبات و طلبہ کو بلیک میل کرنے کے لیے نہ استعمال کیا جائے۔
یاد رہے کہ اس ڈانس پارٹی میں شرکت کے لیے جو ڈانسر امریکا سےبلائے گئے تھے وہ بعد میں اسلام آباد میں جاسوسی کرتے گرفتار ہوئے۔
یکم دسمبر 2011 کوراولپنڈی کے علاقے کچہری چوک کے قریب سے پولیس نے جی ایچ کیو سمیت دیگر حساس عمارتوں کی فوٹیج بناتے ہوئے 10 امریکی عورتوں اور مردوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا اور پھر پوچھ گچھ کے بعد تمام وڈیو فوٹیج ضائع کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
مذکورہ متنازعہ تقریب کے حوالے سے امریکی سفارت خانے کی جانب سے کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے۔





























