Bismillah

Bismillah

Ayyat

Ayyat

Pakistani Human Resource available

This is to clarify to our all visitor and members that, we obey all Pakistani Rules and Regulations which is implemented in Pakistan by Pakistani Government. Our main purpose of posting and circulating data on our site is only for Pakistani nation knowledge and information. So using this data for any other purpose or misuse of data, we will not take any responsibilities of this type of activities, kindly do not use this data for any illegal activities which is prohibited by Pakistani Government, and follow the all rules of Pakistani Government about Cyber Crimes.

We can provide you all type of Pakistani best Human Resource Skilled and Unskilled for all over the world and specially for Arab countries. If you required any type of Human Resource you can send us email at : joinpakistan@gmail.com We will do our best to satisfy your needs according to your requirement.

If you required a job or if you are searching for a good employee please contact us at : joinpakistan@gmail.com

Charagh

Charagh

Tuesday, July 30, 2013

Karachi situation and our Government of Pakistan silence

WHY not PMLN Prime Minister of Pakistan Nawaz Sharif, Chief Justice of Pakistan, Chief of Army Staff take action on Karachi situation.  Daily many peoples are killing which are reported in media, but there is majority of people who are killed but not cover in media. 
 
Bhatta mafia and Land mafia is actively working in Karachi.   On road side gambling started, new generation taking interest in gambling, smoking, and gang war fighter, Police and Ranger are unable to take action against them due to which these terrorist get encouragement and doing more actively.
 
Neutral peoples are facing much difficulties to live with peace and work for Pakistan.  Cream professional are moving from Karachi to abroad for better future, but Government of Sindh has no interest to maintain peace in the Karachi city.
 
So we are requesting to PMLN Prime Minister of Pakistan Nawaz Sharif, Chief Justice of Pakistan, Chief of Army Staff please take and urgent and strict action against these terrorist and gang war to save neutral in faithful citizens of Karachi.  Looking for your urgent action.

Friday, July 19, 2013

Sincere SP of Baluchistan

Where is PM Nawaz Sharif and why not he take action in favour of sincere SP of Balouchistan who done great work and follow the rules, but Balouchistan CM Malik sb. suspend the SP. So we all request to PM and Chief Justice of Pakistan, please do the needful in favour of the subject SP police for police encouragement.

Saturday, July 6, 2013

??? ?? ?? ?? ??? ??

 عینی نیازی
 لیا ری کا آج اور کل
 
 شہر کر اچی کا نقشہ اگر ہم دیکھیں تو ہر پوش علا قے کے سا تھ ایک گندی ،قبضہ ما فیا کی زیر سایہ بستی ضرور نظر آتی ہے جہا ں لا چار ،مفلو ک حا ل انسان زندگی کی گا ڑی کھنچنے کے لئے ہر قسم کے کام کر نے کو تیار ہو تے ہیں ان میں کچھ ان پوش علا قوں میںگھر وںکے کاموں کی ذمہ بھی اٹھا ئے ہو ئے ہو تے ہیں ایک طرف اس قدر آرام وآسا ئش کی زندگی تو دوسری جانب اتنی غربت و جہا لت یہ کیسا انصاف ہے یہ کیسی تقسیم ہے جو نسل در نسل چلتی چلی آرہی ہے ایک جانب اتنا امن و سکون اس قدر پہرے کہ چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تو دوسری جانب پورا علا قہ میدان جنگ بنا ہوا ہے ہم دور کیوں جا ئیں لیاری سے تھوڑے فا صلے پر ڈیفنس کا علا قہ ، ہوٹلزو سفارت خانے مو جود ہیں وہاں بد امنی کا ایک پتہ نہیں ہل سکتا دو سری طرف لیاری  اور اس سے ملحقہ اولڈ سٹی ایریاز ہیںہے کہ جہاں بند امنی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے بم ز، کریکر ز، سے دو بدو لڑائی جا ری ہے گو یا دشمن کی دو فوجیں آمنے سا منے صف آرا ہیں قانون نا فذ کر نے والے لیاری میں داخل ہو نے سے گریزاں ہیں لوگوں کی زندگیاں محفوظ نہیں مکین نقل مکا نی پر مجبور ہیں اخبار ومیڈیا کو ریج دکھا دکھا کر تھک گئے مگر قا نون کے محا فظ امن قا ئم کر نے میں کامیاب نہیں ہو سکے یہ ایک دن کی با ت نہیں کئی سالوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے قبضے کی اس جنگ میں سب سے زیا دہ نقصان انہی غریب مکینوں کو ہو تا ہے جو نہ اپنے روز گار کے لئے با ہر نکل سکتے ہیں اور دیگر ضروریا ت زندگی کے تو کیا کہنے ،حکومت ہے جس کے کا نوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ 
% اگر ہم چا دھا ئی قبل ما ضی میں جا ئیں تو لیا ری والے اس قدر بے بس و لا چار نہ تھے ایک تر قی پذیر معا شرے کی بنیادیں استوار ہو رہی تھیں سیاسی لحا ظ سے لیا ری کو اگرپا کستان پیپلز پا رٹی کا گڑھ کہا جا ئے تو غلط نہ ہو گا لیا ری کو بھٹو دور حکومت میں ایک خا ص اہمیت حا صل تھی  وہاں پر تر قی کا ایک نیا دور شروع ہو ا تھا  اسکولوں اور کا لجوں کی تعداد میں اضا فہ ہوا تھا خاص کر این جی اوز کے تو سط سے لڑکیوںکے لئے انڈ سٹریل ہومز کا قیام عمل میں آیا تھا اسی لئے اس دوران یہاںسے تعلیم حاصل کر نے وا لوں میںا چھے اساتذہ ،وکیل ،بینکرز  ، اوراچھے کھلاڑی سامنے آئے جنھوں نے سرکاری و نیم سرکا ری اداروں میں اپنا نام پیداکیا ،لیاری میں کبھی ٹیلنٹ کی کمی نہیں تھی ایسے بھی کھلاڑی سامنے آئے جو بنا ء کسی حکومتی سر پرستی کے اپنی مدد آپ کے تحت ملک کا نام روشن کر نے میں کا میاب ہو ئے ان میں با کسنگ کے شعبے میں مہراللہ ،حسین شاہ ،عظیم بلوچ جیسے نامورکھلا ڑی ا ور فٹ بال کے کھلاڑیوں میں کیپٹن محمد عامر ، استاد اقبال بلوچ ،استاد اکبر اور فالینا ریفری جیسے ما یہ ناز کھلاڑی شامل تھے لیاری کے لوگوں کا سیاسی شعور دیگر علا قوںکے مقا بلے میں زیادہ رہا ۔ نیشنل عوامی پا رٹی کے رہنما میر غو ث بخش بز نجو نے سا ٹھ کی دھا ئی میں اسمبلی انتخابات میں مسلم لیگ کے امیدوار میر حبیب اللہ پراچہ کو اسی حلقے سے شکست دی تھی، کئی سیا سی لیڈر انور بھا ئی جان ، خواجہ کر یم داداور رحیم بلوچ اسی علا قے کی دین ہیں جنھوں نے اپنے سیاسی کئر ئیر کا آغاز لیاری سے کیا ،قا ئداعظم کے دست راس اور تحریک آزادی کے مشہور لیڈر محمود ہا رون لیاری کے حلقے سے پا رلیمنٹ کے رکن بنے تھے ایک اورشخصیت جس کا نام یہاں لینا ضروری ہے ملک کے سابق ما یہ ناز چیف جسٹس سجاد حسین شاہ بھی لیاری سے تعلق رکھتے تھے ۔
بھٹو دور حکومت میںلیا ری میں کچھ تر قیاتی کا م ہوئے مکانا ت کی لیزنگ ، پانی کی فراہمی ،بلو چستان ہا ئی وے کی تعمیرآر سی ڈی کے تحت شروع کروائی گئی لیاری میں تجا رتی سر گر میاں تیز ہونا شروع ہو ئیں تھیں لیکن بھٹو حکومت کے خا تمے کے بعد لیاری مسائل کا گڑھ بنتا چلا گیا بھٹو کا لیاری کو پیرس بنا نے کا خواب کبھی شر مندہ تعبیرنہ ہو سکا لیاری کے نوجوانوں نے ضیاالحق مارشل لاء کے خلاف بھر پور مزا حمت کی اس قدر سخت پا بندیوں کے با وجود احتجاج بھی کئے قید وبند کی صعو بتیں اٹھائیں کوڑے بھی کھا ئے کئی نواجون شہید ہو ئے جو رہ گئے ان کی کئی نسلوں کو بے روز گاری ، منشیات اور اسلحے کا تحفہ ملا نتیجہ وہاں کے لوگ حساس محرومی اور ما یوسی کا شکار ہو تے چلے گئے غربت ،بے روز گاری ، تعلیم کے مو اقع نہ ہو نے کے سبب نوا جونوں میں بے راہ روی ،بے چینی ہے  جہاں کھانے کہ نہیں بے روز گا ری ہے بھوک ہے وہاں اس قدر اسقدر ا سلحہ لیا ری سمیت کرا چی میں مو جود ہے یوں محسوس ہو تا ہے ہم اپنے ہی لو گوں سے گو ریلا جنگ میں مصروف ہیں  لیا ری کے عوام اس جنگ سے تنگ آچکے ہیں وہ سکون و امن چا ہتے ہیںانھیں زندگی گزارنے کے لئے وسائل کی ضرورت ہو تی ہے  ووٹوں کے بل پر وہاں سے منتخب ہو نے والے نما ئندوں نے ما سوائے اس کے کہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر اقتدار کے مزے لو ٹنے کے کچھ نہ کیا اب یہ ان کی اخلا قی و قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ لیاری کے حال پر رحم کر یں امن وامان کی بحالی کے لئے فوری اقدامات کریںرحما ن بلوچ قتل کے سا نحے سے لے کر ثا قب با کسرتک جو دہشت گر دی کے واقعات ہوئے ان کی عدالتی تحقیقا ت کر ائی جا ئے ریا ستی اداروںکی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزموں کو قا نون کے مطا بق سزائیں دیں ۔ذا تی مفاد و اناکو بالائے طاق رکھ کر لیاری میں امن کا قیام لانا ہوگا کہ لیاری میں سکون و تر قی کے بغیر کراچی میں امن قا ئم نہیں ہو سکتا ایک ہی شہر میں دو متضاد قا نون آخرکب تک چل سکے گا

Friday, July 5, 2013

Lyari and Karachi issue

Lyari and Karachi issue
 
Why Pak Army is silent on Lyari and Karachi issue, many people are killing on daily basis, but our Army Chief is silent for democracy, we do not need this type of democracy in which include our people blood.

We request to Army Chief and Chief Justice of Pakistan, please come forward and save your nation in Lyari and in Karachi.

If you do not support your nation then its mean you are working for your salary only and you have no care of your nation.

Please take and urgent action against culprits and save your nation from dieing.

Thursday, July 4, 2013

Ahadith - July 3, 2013

 

As Salaam Alaikum,
 




















































































جزاكم الله خيرا وأحسن الجزاء في الدنيا والأخرة 
 
 
Jazak Allah Khair
 

 

Parents

 

Thursday, June 27, 2013

Watch the diff in Jang news of the 27-06-13

One news of Daily Jang news paper of 27-06-13 http://e.jang.com.pk/06-27-2013/karachi/pic.asp?picname=1832.gif say about bomb blast in Karachi that Taliban take the responsibility of blast and in online news of 27-06-13 http://jang.com.pk/jang/jun2013-daily/27-06-2013/u362.htm say Asif Chooto group of Lashkir e Janghwi take the responsibility, why this diff in same news of blast.....????
 
Think and decide the issue behind it...
 
Regards / Admin - joinPakistan

Tuesday, June 25, 2013

دانتوں کی پیلاہٹ سے پائیں نجات



دانتوں کی پیلاہٹ سے پائیں نجات


white-teethلندن: جہاں بے داغ چہرہ اور لمبے چمکدار بال انسان کی خوبصورتی اور شخصیت کیلئے اہم ہیں وہیں دانتوں کی چمک بھی پرکشش شخصیت کیلئے لازمی جزو ہے۔

دانتوں کو چمکدار بنانےکا دعویٰ کرنے والی بے شمار پراڈکٹ مارکیٹ میں دستیاب ہیں لیکن ان پراڈکٹ پر رقم خرچ کرنے کے بجائےآپ چند آسان اور کم خرچ ٹوٹکوں کے ذریعے اپنے دانت خوبصورت اور چمکدار بناسکتے ہیں۔

اگرآپ کے دانت پیلے ہیں توانہیں سفید اور چمکدار بنانے کیلئے نمک اور کھانے کاسوڈا ملا کر برش کریں اوراگر دانتوں سے خون آنے کی شکایت ہے تو شہد اور روغن زیتون ملا کردانتوں پرملنے سے دانتوں سے خون آنے کا سلسلہ رک سکتا ہے۔

سرسوں کے تیل میں ایک چائے کا چمچ نمک ملائیں، یہ تیل دانتوں پر لگانے سے دانت سفید ہوجائیں گے ۔

دانتوں سے نکوٹین کے پیلے داغ دور کرنے کیلئے دانتوں کو سوڈا بائی کاربونیٹ سے مانجھیں، لیموں کا چھلکا ملنے سے بھی دانتوں کی پیلاہٹ اور چائے کے دھبے دور ہوجاتے ہیں۔

Friday, June 14, 2013

Fw: وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

 
----- Original Message -----


وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا  نہیں ہوتا
شاہ نواز فاروقی
اکبر نے کہا تھا۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اکبر کے اس شعر میں ہم سے مراد مسلمان اور وہ سے مراد انگریز ہیں۔ اکبر نے جب یہ شعر
کہا تھا تو اکبر کا ''ہم'' بھی مقامی تھا اور ''وہ'' بھی مقامی تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اکبر
کا ہم بھی آفاقی ہوگیا اور وہ بھی۔ اس سلسلے میں اکبر کے زمانے کی بھی قید نہ رہی۔ اکبر نے
یہ شعر ڈیڑھ سو سال پہلے کہا تھا مگر آج ڈیڑھ سو سال کے بعد بھی مسلمانوں کا حال مختلف
نہیں۔ اکبر کے زمانے میں مسلمان آہ کرتے تھے تو غدار اور باغی کہلاتے تھے۔ اب انتہا پسند،
بنیاد پرست دہشت گرد اور ڈرون حملوں کے لائق قرار پاتے ہیں۔

انگریز برصغیر میں تاجر بن کر آئے تھے مگر اپنی سازشوں کے ذریعے دیکھتے ہی دیکھتے
پورے برصغیر پر قابض ہوگئے۔ انگریزوں کا قبضہ غاصبانہ تھا مگر برصغیر پر قابض ہوتے
ہی وہ مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے جسے مجرم وہ نہ ہوں مسلمان ہوں۔ سازش انگریزوں
نے نہ کی ہو مسلمانوں نے کی ہو۔ انہوں نے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر سے عزت وتکریم
اور مراعات کے وعدے کیے مگر انہوں نے موقع ملتے ہی مغل شہزادوں کے سر بوڑھے بہادر
شاہ ظفر کو تحفے میں پیش کیے۔ انہوں نے بہادر شاہ ظفر پر غداری کا مقدمہ چلایا اور اسے
ہندوستان میں مرنے اور دفن ہونے تک کی اجازت نہ دی۔ 1857 کی جنگ آزادی مسلمانوں کا
''سیاسی حق'' تھی مگر انگریزوں نے جنگ آزادی کو ''غدر'' کہا اور جنگ آزادی لڑنے والے
ان کی نظروں میں چور، ڈاکو، غنڈے، بدمعاش، غدار اور نمک حرام قرار پائے۔ جنگ آزادی
ناکام ہوئی تو انگریز مسلمانوں پر بھوکے درندے کی طرح ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے آزادی کے
متوالوں پر ہاتھی چڑھائے۔ انہیں توپوں سے اڑایا۔ دلّی میں مسلمانوں کا اتنے بڑے پیمانے پر قتل
عام ہوا کہ دلّی کی کوئی گلی ایسی نہ رہی جہاں مسلمانوں کو شہید نہ کیا گیا ہو۔ لیکن انگریزوں
کی یہ وحشت اور یہ درندگی تاریخ میں کبھی زیر بحث نہ آسکی اور انگریز آج تک ''مہذب''
چلے آتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انگریزوں نے برصغیر میں مسلمانوں کا خون بہایا
تھا۔ جلیا نوالہ باغ کا واقع بھی ظلم تھا مگر اس واقع میں چند سو افراد مارے گئے تھے ا سکے
باوجود یہ واقع آج بھی انگریزوں کے تعاقب میں ہے لیکن جن مسلمانوں سے انگریزوں نے
پوری سلطنت چھینی اور جن مسلمانوں کے خون سے انگریزوں نے پورے برصغیر کو سرخ
کیا وہ کبھی جلیانوالہ باغ کی طرح بھی زیر بحث نہ آسکے۔ یہ صرف برصغیر کی کہانی نہیں۔
الجزائر میں فرانس نے سات آٹھ برسوں کی جنگ آزادی میں دس لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو
شہید کیا اور فرانس نے کبھی اس سلسلے میں معذرت کا ایک لفظ بھی نہیںکہا۔

سوویت یونین ختم اور کمیونزم تحلیل ہوا تو یوگوسلاویہ بھی بکھر گیا۔ یوگو سلاویہ میں شامل
سربوں اور کرو شیائی باشندوں نے آزادی کا اعلان کردیا اور دنیا نے ان کے حق آزادی کو ایک
لمحے میں تسلیم کرلیا۔ لیکن یوگو سلاویہ میں بوسنیا ہرزیگوینا بھی موجود تھا جو مسلم اکثریت
علاقہ تھا۔ بوسنیا کے مسلمانوں نے آزادی کا اعلان کرنا چاہا تو سرب ان پر ٹوٹ پڑے اور
امریکا اور یورپ نے بوسنیا کے مسلمانوں کی آزادی کا نوٹس لینا بھی گوارہ نہ کیا۔ اس صورت
حال سے سرپوں کو شہہ ملی اور انہوں نے بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف ایک ایسی جنگ
چھیڑ دی جس کے لیے مسلمان کسی بھی اعتبار سے تیار نہ تھے۔ یہ یک طرفہ جنگ تین سال
جاری رہی اور ان تین برسوں میں سربوں نے ڈھائی سے تین لاکھ مسلمان مار ڈالے۔ امریکا اور
یورپ تین سال تک یہ تماشا دیکھتے رہے۔ روس سربوں کے آرتھو ڈوکس عیسائی ہونے کی بنیاد
پر ہر ممکن مالی اور جنگی امداد فراہم کرتا رہا۔ جب امریکا اور یورپ کو یقین ہوگیا کہ اب
مسلمان یورپ کے قلب میں اپنی ریاست قائم کرنے کے قابل نہیں رہے تو انہوں نے مداخلت کی
اور مسلمانوں کو ایک ایسی فیڈریشن کا حصہ بنا دیا جو کسی بھی اعتبار سے مسلمانوں کے حق
میں نہ تھی۔ مسلمانوں کے قتل عام کے اتنے بڑے واقعات ہوئے کہ صرف ایک علاقے
سربرنیکا میں دو تین دنوں میں آٹھ ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ مسلمانوں کو قتل کرنے اور میں
ان کے وہ عیسائی پڑوسی بھی شامل تھے جو کہیں 20 اور کہیں40 سال سے مسلمانوں کے قرب
میں آباد تھے۔ امریکی اور یورپی اپنے ایک فوجی پر فلم بنا ڈالتے ہیں مگر یورپ کے تین لاکھ
مسلمانوں کے قتل پر امریکا اور یورپ نے کوئی فلم اور کوئی ذراما تخلیق نہ کیا۔ انجلینا جولی
نے حال ہی میں مسلمانوں کے قتل عام پر ایک فلم بنائی مگر یہ فلم امریکا اور یورپ میں ''قابل
ذکر'' بھی نہ ٹھیری۔

مسلم خون کی ارزانی کا یہ قصہ تاریخ کے مختلف مراحل سے ہوتا ہوا میانمار تک آپہنچا ہے
جہاں مسلم کش فسادات کو ''معمول'' بنا دیا گیا ہے میانمار بدھ اکثریت کا ملک ہے اور بدھ ازم
میں ''جیوہتیّہ'' یا جاندار کی ہلاکت ایک بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ لیکن میانمار میں مسلمانوں کی
حیثیت کیڑے مکوڑوں سے بدتر بنادی گئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ نہ
صرف بدھ عوام اور سرکاری ادارے شعوری طور پر مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہیں بلکہ
بدھ Monks یا بدھوں کے مذہبی رہنما جو ساری دنیا میں عدم تشدد اور امن کی علامت سمجھے
جاتے ہیں کئی مقامات پر ان لوگوں کی قیادت کرتے دیکھے گئے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو
قتل اور ان کی املاک یہاں تک کہ مساجد کو نذر آتش کیا۔ میانمار میں حزب اختلاف کی رہنما
آنگ سوچی مسلمانوں کی بڑی امید تھیں۔ آنگ سوچی کو امن کا نوبل انعام ملے عرصہ ہوچکا
ہے اور مغربی دنیا میں انہیں انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیا جاتا ہے۔ مگر جب ان سے کہا
گیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے کچھ کریں تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی جادوئی
صلاحیت نہیں ہے۔ سیاسی رہنمائوں کا جادو ان کی فکر اور عمل ہوتا ہے لیکن آنگ سوچی کو
معلوم ہے کہ اگر وہ مسلمانوں کی حمایت کریں گی تو بدھسٹوں کو ناراض کریں گی چنانچہ
انہوں نے کئی مہینوں سے جاری مسلمانوں کا قتل عام روکنے کے سلسلے میں کوئی کردار ادا
نہیں کیا۔ البتہ میانمار کی حکومت نے مسلمانوں پر دو بچوں سے زیادہ بچے پیدا کرنے کے
حوالے سے پابندی عائد کی ہے تو آنگ سوچی نے اس پابندی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی
قرار دیا ہے۔ آنگ سوچی کے اس بیان کی حیثیت ویسی ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی
ناپسندیدہ صورت حال کو دیکھے۔ ایک لمحے کو ٹھیرے کھنکارے اور آگے بڑھ جائے۔ اہم بات
یہ ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی نہ امریکا اور یورپ میں کوئی مسئلہ ہے نہ اقوام
متحدہ کو اس سلسلے میں کوئی تکلیف ہے۔ چند روز پیشتر برطانیہ میں ایک برطانوی فوجی
مبینہ طور پر ایک نو مسلم کے غصے کا نشانہ بن گیا۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے
لیکن اس واقعہ نے برطانیہ ہی نہیں پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا اور یورپی ذرائع ابلاغ دو
ہفتے تک اس واقعہ پر توجہ مرکوز کیے رہے۔ لیکن میانمار کے ہزاروں مسلمانوں کی ہلاکت
ایک دن بھی یورپ میں شہہ سرخی تخلیق نہ کرسکی۔ مسلمانوں کی اس صورت حال کا سبب
مسلمان خود نہیں ہیں۔ امریکا ہو یا یورپ، بھارت ہو یا اسرائیل، روس ہو یا میانمار اصل مسئلہ
اسلام اور اس کے خلاف باطل کا بغض ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مسلم دنیا پر مسلط حکمراں
طبقے نے مسلمانوں کے قتل عام پر صرف شور مچانے کی صلاحیت بھی پیدا کرکے نہیں
دکھائی۔
…شاہنواز فاروقی…
--