رمضان کے خاطر دونوں ملکوں کو فائر بندی ہونی چاہئے خدا نخواستہ اگر دونوں ملکوں کے ارمی کے جوان مرجائے تو شہید کون ہوگا یہ ایک سوچہ سمجھا منصوبہ ہے انڈیا اور اسرائیل افغانستان کے حکومت کو غلط اشاروں پر چلنے کے احکامات دیتے ہیں دونوں ملکوں کے عوام کو بھی چاہئے کہ سوشل میڈیا پر غلط بیان بازی اور سنسنی خیزی پھلاتے ہیں عوام کو چاہئے اس مشکل وقت میں صبر سے کام لیں ایک دوسرے کو قریب لانے کی کوشش کریں افغان حکومت کو چاہئے کہ انڈیا اور اسرائیل کے اشا روں پر عمل نہ کریں پاکستان کے پالیسی بہترین پالیسی ہے افغانستان کے حق میں ہے
Bismillah
Ayyat
Pakistani Human Resource available
This is to clarify to our all visitor and members that, we obey all Pakistani Rules and Regulations which is implemented in
We can provide you all type of Pakistani best Human Resource Skilled and Unskilled for all over the world and specially for Arab countries. If you required any type of Human Resource you can send us email at : joinpakistan@gmail.com We will do our best to satisfy your needs according to your requirement.
If you required a job or if you are searching for a good employee please contact us at : joinpakistan@gmail.com
Charagh
Wednesday, June 15, 2016
Pakistan and Afghanistan
رمضان کے خاطر دونوں ملکوں کو فائر بندی ہونی چاہئے خدا نخواستہ اگر دونوں ملکوں کے ارمی کے جوان مرجائے تو شہید کون ہوگا یہ ایک سوچہ سمجھا منصوبہ ہے انڈیا اور اسرائیل افغانستان کے حکومت کو غلط اشاروں پر چلنے کے احکامات دیتے ہیں دونوں ملکوں کے عوام کو بھی چاہئے کہ سوشل میڈیا پر غلط بیان بازی اور سنسنی خیزی پھلاتے ہیں عوام کو چاہئے اس مشکل وقت میں صبر سے کام لیں ایک دوسرے کو قریب لانے کی کوشش کریں افغان حکومت کو چاہئے کہ انڈیا اور اسرائیل کے اشا روں پر عمل نہ کریں پاکستان کے پالیسی بہترین پالیسی ہے افغانستان کے حق میں ہے
Tuesday, June 7, 2016
Hajj Corruption and Hamid Kazmi Sb.,
علامہ کاظمی شاہ صاحب پر جب سے کرپشن سیکنڈل بنا ھے میں اس کو واچ کرتا رھا ھوں ہم مسلک ھونے کی وجہ سے مجھے ان سے ہمدردی تھی مگر وزارت مذہبی امور سے ایک کام کروانے کے عوض کاظمی شاہ صاحب کے ایک قریبی نے مجھ سے رشوت طلب کی تھی اس وجہ سے میں یہ سمجھتا تھا کہ ان کے دور میں کرپشن کا بازار گرم رھامگر میں یہ بھی جانتا تھا کہ کاظمی شاہ صاحب بذات خود اس کرپشن میں ملوث نہیں دراصل انہیں مسلک سے محبت کی سزا دی جارھی تھی اصل بات جس کی وجہ سے کاظمی شاہ صاحب پر سارا نزلہ گرایا گیا وہ یہ ھے کہ جب اس وقت کا وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سعودی عرب کے دورہ پر گیا تو سعودی گورنمنٹ نے گیلانی شاہ صاحب کو آفر دی کہ آپ تمام پاکستان کےتمام سکولوں کالجوں میں اسلامیات کے مضمون کو لازمی قرار دیں اس مضمون کو پڑھانے کے لئے جتنے ٹیچر پروفیسرز رکھے جائیں گے ان کو تنخواہ سعودی گورنمنٹ دے گی گیلانی شاہ اس تجویز کو لے کر پاکستان آگئےاور اپنے سعودیہ کے دورے پر کابینہ میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ سعودی گرنمنٹ کی طرف سے یہ آفر ھے اس پر سید خورشید شاہ نے پوچھا کہ نصاب کون سا پڑھایا جائے گا تو بتایا گیا کہ نصاب سعودی گورنمنٹ کی مرضی کا ھوگا اس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ تو ہماری آنے والی نسلوں کو وھابی کرنے کی سازش ھے اس پر سید حامد سعید کاظمی شاہ صاحب کھڑے ھوئے انہوں نے کابینہ میں سعودی گورنمنٹ کی اس تجویز پر شدید احتجاج کیا اور یہ تجویز کابینہ نے اکثریت رائے سے نامنظور کردی اس وقت کابینہ میں اعظم ھوتی دیوبندی بھی بیٹھا تھا اس نے باہر نکل کر فضل الرحمان سربراہ جمعیت علماء اسلام کو ساری بات بتائی اور خورشید شاہ صاحب جنہوں نے سب سے پہلے احتجاج کیا تھا ان کا نام چھپا کر سارا مدا کاظمی شاہ صاحب پر ڈال دیا مولانا فضل الرحمان نے سعودی گورنمنٹ کو ساری بات بتائی تو سعودیہ والوں نے علامہ کاظمی شاہ صاحب کو مزا چکھانے کا عندیہ دیا اور کہا حج کا موسم آنے دو دیکھ لیں گے جب حج کا موسم قریب آیا تو وزارت کے نمائندے مکہ اور مدینہ میں رہائشوں کا وزٹ کرنے گئے سعودیہ والوں نے جو رھائش پاکستانی حاجیوں کو دینے کا کہا وہ سعودی شہزادوں کی ملکیت ہیں وہ دور بھی تھیں اور مہنگی بھی یاد رھے ہر سال یہ رھائش لینے کے بدلے سعودی شہزادے وزارت کے نمائندوں کو بھاری رشوت دیتے تھےجب کاظمی شاہ صاحب کے علم میں یہ بات آئی تو علامہ کاظمی یہاں بھی ڈٹ گئے اور وزارت کے نمائندوں کو قریب تریں رھائشیں لینے کا حکم دیا جب یہ بات سعودی شہزادوں کے علم میں آئی تو ان کی دشمنی اپنے عروج پر پہنچ گئی اور انہوں نے کاظمی شاہ صاحب کو نقصان پہنچانے کا حتمی فیصلہ کرلیا اور وزارت کے نمائندوں (راوشکیل وغیرہ)سے ساز باز کرکے ذیادہ فاصلے والی رھائشیں ذیادہ ریٹ پر پاکستانی گوورنمنٹ کو دے دیں اورچند وھابی حاجیوں کے زریعہ دھرنا کا ڈرامہ رچایا سعودی گورنمنٹ نے اپنی نگرانی میں چند وھابیوں کے زریعے احتجاج کروایا اور پھر خود ھی کاظمی شاہ صاحب کے خلاف خط لکھ کر وعدہ معاف گواہ بن گئے ادھر مولانا فضل الرحمن جو کہ حج آپریشن کو وزارت سیاحت کے زیر اہتمام کرنے کا کئی دفع مطالبہ کر چکے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ حج آپریشن کو وزارت مذہبی امور سے لے کر وزارت سیاحت کے زیر اہتمام کر دیا جائے جس پر ان کے چھوٹے بھائی براجمان ھوں انہوں نے سعودی گورنمنٹ سے ساز باز کرکےاپنے کارندے اعظم ہوتی کو اس کیس کے پیچھے لگا دیاجس نے کتنی مرتبہ ٹی وی پر علامہ کاظمی شاہ صاحب سے اس کرپشن پر مناظرہ کیا اور ہر مرتبہ منہ کی کھائی مگر نہ جانے اس نے عدالت میں وہ کون سے ثبوت دئے جن کو وہ ٹی وی مناظروں میں تو سامنے نہ لا سکا اور عدالت میں پیش کر دئے اور عدالت نے نہ جانے ان ثبوتوں کی بنا پر کیسےفیصلہ کیا عقل اس بات کو سمجھنے سے قاصر ھے۔
دعاگو
رضاحسین حیدری
چیف ایڈیٹر
ماہنامہ نوائے انجمن لاھور
Thursday, May 19, 2016
کوئی بات نہیں۔۔۔
ایک بار میں گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ بیگم کے چہرے کا رنگ خوف سے اڑا ہوا ہے، پوچھنے پر ڈرتے ڈرتے بتایا کہ "کپڑوں کے ساتھ میرا پاسپورٹ بھی واشنگ مشین میں دھل گیا ہے۔۔!، یہ خبر میرے اوپر بجلی بن کر گِری، مجھے چند روز میں ایک ضروری سفر کرنا تھا۔ میں اپنے سخت ردعمل کو ظاہر کرنے ہی والا تھا کہ اللہ کی رحمت سے مجھے ایک بات یاد آ گئی، اور میری زبان سے نکلا "کوئی بات نہیں۔۔۔!"، اور اس جملے کے ساتھ ہی گھر کی فضا نہایت خوشگوار ہوگئی۔
پاسپورٹ تو دھل چکا تھا، اور اب ہر حال میں اُس کو دوبارہ بنوانا ہی تھا، خواه میں بیگم پر غصے کی چنگاریاں برسا کر اور بچوں کے سامنے ایک بدنما تماشہ پیش کر کے بنواتا، یا بیگم کو دلاسہ دے کر بنواتا، جو چشم بد دور ہر وقت میری راحت کے لئے بے چین رہتی ہیں۔
سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس جملے سے بے حد پیار ہے، میں نے اس کی برکتوں کو بہت قریب سے اور ہزار بار دیکھا ہے۔ جب بھی کسی دوست یا قریبی رشتہ دار کی طرف سے کوئی دل دکھانے والی بات سامنے آتی ہے، میں درد کشا اسپرے کی جگہ اس جملے کا دم کرتا ہوں، اور زخم مندمل ہونے لگتا ہے۔
اپنوں سے سر زد ہونے والی کوتاہیوں کو اگر غبار خاطر بنایا جائے تو زندگی عذاب بن جاتی ہے، اور تعلقات خراب ہوتے چلے جاتے ہیں، لیکن "کوئی بات نہیں" کے وائپر سے دل کے شیشے پر چھائی گرد کو لمحہ بھر میں صاف کیا جاسکتا ہے، اور دل جتنا صاف رہے اتنا ہی توانا اور صحت مند رہتا ہے۔
بچوں کی اخلاقی غلطیوں پر تو فوری توجہ بہت ضروری ہے، لیکن ان کی چھوٹی موٹی معمولی غلطیوں پر "کوئی بات نہیں" کہہ دینے سے وه آپ کے دوست بن جاتے ہیں، اور باہمی اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ بچہ امتحان کی مارک شیٹ لے کر سر جھکائے آپ کے سامنے کھڑا آپ کی پھٹکار سننے کا منتظر ہو، اور آپ مسکراتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرکر فرمائیں "کوئی بات نہیں، اگلی بار اور محنت کرنا، چلو آج کہیں گھومنے چلتے ہیں" تو آپ اندازه نہیں کر سکتے کہ بچے کے سر سے کتنا بھاری بوجھ اتر جاتا ہے، اور ایک نیا حوصلہ کس طرح اس کے اندر جنم لیتا ہے۔
میں نے اپنے بچوں کو کچھ دعائیں بھی یاد کروائی ہیں، ساتھ ہی اس جملے کو بار بار سننے اور روانی کے ساتھ ادا کرنے کی مشق بھی کرائی ہے۔ میرا بار بار کا تلخ تجربہ یہ بھی ہے کہ کبھی یہ جملہ بروقت زبان پر نہیں آتا، اور اس ایک لمحے کی غفلت کا خمیازه بہت عرصے تک بھگتنا پڑتا ہے، طبیعت بدمزہ ہو جاتی ہے، اور ایک مدت تک کڑواہٹ باقی رہتی ہے۔ تعلقات میں دڑار آجاتی ہے، اور برسوں تک خرابی باقی رہتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ یہ جملہ یاد داشت کا حصہ بننے کے بجائے شخصیت کا حصہ بن جائے۔ ان شاء الله
وقفے وقفے سے پیش آنے والے معاشی نقصانات ہوں، یا ہاتھ سے نکل جانے والے ترقی اور منفعت کے مواقع ہوں، یہ جملہ ہرحال میں اکسیر سا اثر دکھاتا ہے، ایک دانا کا قول ہے کہ "نقصان ہو جانا اور نقصان کو دل کا بوجھ بنانا یہ مل کر دو نقصان بنتے ہیں، جو ایک خساره ہو چکا وه تو ہو چکا، تاہم دوسرے خسارے سے آدمی خود کو بچا سکتا ہے، اس کے لئے صرف ایک گہری سانس لے کر اتنا کہنا کافی ہے کہ "کوئی بات نہیں۔۔!"
یاد رہے کہ یہ دوا جس طرح کسی چھوٹے نقصان کے لئے مفید ہے، اسی طرح بڑے سے بڑے نقصان کے لئے بھی کار آمد ہے۔ ایک مومن جب "کوئی بات نہیں" کو الہٰی رنگ میں ادا کرتا ہے، تو اُسے "انا اللہ وانا الیہ راجعون" کہا جاتا ہے۔
بسا اوقات ایک ہی بات ایک جگہ صحیح تو دوسری جگہ غلط ہوتی ہے۔ "کوئی بات نہیں" کہنا بھی کبھی آدمی کی شخصیت کے لئے سم قاتل بن جاتا ہے، جیسے کوئی شخص غلطی کا ارتکاب کرے تو چاہئے کہ اپنی غلطی کے اسباب تلاش کر کے ان سے نجات حاصل کرے، نہ کہ "کوئی بات نہیں" کہہ کر غلطی کی پرورش کرے۔
خود کو تکلیف پہنچے تو آدمی "کوئی بات نہیں" کہے تو اچھا ہے، لیکن انسان کسی دوسرے کو تکلیف دے اور اپنی زیادتی کو "کوئی بات نہیں" کہہ کر معمولی اور قابلِ نظر انداز ٹھہرا لے، تو یہ ایک گِری ہوئی حرکت شمار ہوگی۔
اسی طرح جب کوئی ملک یا اداره مفاد پرستوں کے استحصال اور نااہلوں کی نااہلی کا شکار ہو رہا ہو اور "کوئی بات نہیں" کہہ کر اصلاح حال کی ذمہ داری سے چشم پوشی اختیار کر لی جائے، تو یہ ایک عیب قرار پائے گا۔
معاشره میں کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہو اور لوگ اس جملے سے اپنے ضمیر کی آواز کو دبانے کی کوشش کریں، تو یہ انسانیت کے مقام سے گرجانا تصور ہوگا۔
آخر میں صرف اتنا کہونگا کہ، "یہ جملہ دل کی دیوار پر آویزاں کرنے کے لائق ہوتا ہے، اگر یہ دل کی کشادگی برقرار رکھے، تعلقات کی حفاظت کرے اور دنیاوی نقصان ہونے پر بھی انسان کی تسلی کا سامان بنے۔
اور یہی جملہ مکروه اور قابل نفرت ہو جاتا ہے اگر یہ عزم بندگی، احساس ذمہ داری، احترامِ انسانیت اور جذبہ خود احتسابی سے غافل ہونے کا سبب بن جائے۔۔۔!
Wednesday, May 11, 2016
Monday, December 14, 2015
??????
ایک نقاد فلاسفر کا گزر ایک گاؤں سے ھوا... کیا دیکھتا ھے کہ اُدھر ایک بیل کی آنکھوں پر پٹی بندھی ھوئی ھے، ایک گھنٹی اُسکی گردن سے لٹکی ھوئی ھے اور وہ کسی محور کے گرد گول گول گھوم رھا ھے...
پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ "کوھلو" ھے جس سے تیل نکالتے ھیں۔ اُس نے کہا، "وہ تو ٹھیک ھے لیکن تیل آپ خود کیوں نہیں نکالتے، بیچارے بیل کو کیوں تکلیف دے رھے ھو..؟
لوگوں نے کہا، "دراصل بیل ایک مضبوط اعصاب کا جانور ھے جو تھکتا نہیں ھے اس لیے اسے ایسے ہی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے..!"
پھر اُس فلاسفر نے پوچھا، "یہ بیل کی آنکھوں پر پٹی کیوں باندھی ھوئی ھے..؟"
تو لوگوں نے بتایا، "چونکہ ھم نے اِس کے آس پاس ھی چلنا پھرنا ھوتا ھے تو پٹی اس لیے باندھی ھے کہ یہ ھمارے سے ڈرے بغیر اپنا کام کرتا رھے..!"
وہ بولا ابھی ابھی تو آپ کہہ رھے تھے کہ، "یہ مضبوط اعصاب کا مالک ھے تو پھر وہ آپ سے کیسے ڈر سکتا ھے..؟
لوگوں نے کہا، "یہ ڈرنا ایسا نہیں ھے کہ وہ ھم سے ڈرتا ھے بلکہ اِس کے ڈر کی وجہ سے یہ زور لگا کر کوھلو کی لکڑی توڑ کر بھاگ بھی سکتا ہے..!!
پھر اُس نے پوچھا، "اچھا یہ اس کے گلے میں گھنٹی کیوں ھے..؟
تو اُسے بتایا گیا کہ، "چونکہ ھم لوگ اپنے کاموں میں مصروف ھوتے ھیں۔ گھنٹی چلتی کا مطلب ھے بیل چل رھا ھے اور جب گھنٹی رک جاتی ھے تو اس کا مطلب ھے بیل رک گیا ھے تو ہم پھر اِسے ایک ھلکی سی آواز دیتے ھیں تو یہ پھر سے چلنے لگتا ھے..!
وہ بولا، "بھئی..! اگر ایسا ہو کہ بیل کھڑے کھڑے گردن ہلاتا رہے، اور گھنٹی بجتی رہے تو آپکو تو یہی لگے گا کہ بیل چل رہا ہے، تو پھر گھنٹی کا کیا فائدہ..؟
وھاں پر موجود ایک بزرگ نے پوچھا، "بھئی تم ھو کون..؟
وہ بولا،"میں ایک فلاسفر ھوں..!
تبھی وہ بزرگ غصے سے بولے، "جاؤ بیٹا جاؤ! اپنا کام کرو، نہ تو ھم فلاسفر ھیں اور نہ ھمارا بیل اتنا سمجھ دار ہے کہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو سوچنے بیٹھ جائیں.....
یہ تحریر لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ لوگ جنہیں بات بات پر تنقید کرنے کی عادت ہوتی ہے اور بجائے اِس کے کہ وہ کسی کی اچھی بات کی تعریف کریں اور اُس پر عمل کریں، اُن کا مقصد صرف کیڑے نکالنا ہی ہوتا ہے..!!
Tuesday, August 18, 2015
????? ???? ???
ماشاء اللہ کے الیکڑک نے خاموشی سے بجلی کے ریٹ بڑھا دیے ہیں اور عریب عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے، ایک طرف اپنی رقم بینک سے نکالنے پر ٹیکس، اشیاء بیچنے پر سیلز ٹیکس اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انکم ٹیکس؟
کیا حکومت عوام پر بوجھ ڈالنے اور عیاشی کرنے کا نام ہے؟
کیا حکومتی ارکان یا عوامی نماندوں نےحکومت سے حاصل ہونے والے بیشمار فائدوں میں کمی کی کوئی کوشش کی ہے اس عوام کے لیے جنہوں نے ان کو اسمبلیو ں میں پھنچایا ہے؟
حکومت کا کام ٹیکس پر ٹیکس لگانا اور عوام کے عام استعمال کی اشیاء کی قیمت بڑھانے کا نام ہے؟
کیا عوام ایک بےحس گائے کا نام ہے جس پر جو بھی ظلم کرو خاموشی سے برداشت کرتی رہے؟
جناب جنرل راحیل صاحب ان معاشی دھشت گردوں یعنی کے کے الیکٹرک، سوئی سدرن گیس، اور سرکاری اسپتالوں پر بھی نظرے کرم ہوں جناب کی۔ آپ کو ان جگہوں پر بھی معاشی دھشت گرد ملیں گے، اللہ کے لیے پاکستانی عوام کی جان ان سے بھی آزاد کرادیں، اللہ آپ کو اس کا صلہ دیئے گا، اور تمام پاکستانی عوام آپ کی بےحد مشکور ہوگی۔
شکریہ۔
Thursday, July 2, 2015
حکومت پاکستان اب کیا سانس لینے پر بھی ٹیکس لگائے گی؟
ہم امید کرتے ہیں کے FBR اور حکومت ان نئے ٹیکسوں کو جلد ختم کردے گی۔
Wednesday, July 1, 2015
Fwd: New messages from Kelectic Fraud
From: Facebook <notification+zj4oc099jf4c@facebookmail.com>
Date: Tue, 30 Jun 2015 03:30:58 -0700
Subject: New messages from Kelectic Fraud
To: Tashfeen Saleem <tashfeen82@gmail.com>
Kelectic sent you a message.
--------------------
OPERATION K-ELECTRIC FRAUDS
LEADING TO ABOVE 1500 HEAT WAVE KILLING IN KARACHI.
SHOCKING AND AMAZING NEPRA HEARING FOR ALLEGED K-ELECTRIC HELD ON
06-03-2015 AT MARRIOTT HOTEL KARACHI.
اس سماعت میں جس کو بڑے بڑے میڈیا مالکان نے اپنے رپورٹروں کو نہ بھیج کر
میڈیا کوریج سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے اور آج کے اخبارات میں اس
سماعت کا ذکر نہیں ہے جبکہ ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کے عادل گیلانی صاحب
بھی اس سماعت میں بحث کر چکے ہیں۔اس سماعت میں بہت ہی اہم ڈکیتیوں کے
انکشافات ہوئے ہیں اور اس کو ریکارڈ پر رکھا گیا ہے چونکہ اس فیس بک پر
وڈیومحدود تعداد میں پیش کی جا سکتی ہے اس لئے بقایا وڈیو آپ کو گوگل کی
سائٹ پر مل سکتی ہے۔ اس وڈیو میں ایک خاص بات نوٹ کیجئے گا کہ مبینہ
کے-الیکٹرک کے اہلکار آمر غازیانی صاحب نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بق
قاسم پلانٹ -1فرنس آئل اور گیس کے مکسچریعنی گیس اور تیل کو ملا کر چلایا
جاتا ہے اگر اس بارے صحیح آگاہی کسی اور کو بھی ہو تو کمنٹ ضرور کیجئے
گا۔ اس ہی سماعت میں مبینہ کے-الیکٹرک نے ہمارے ادارے "سینٹ" کی کس طرح
توہین کی ہے یہ بھی اس وڈیو میں ضرور دیکھئے گا۔
انیل ممتاز
0364-4011715
Who Exposes K-ELECTRIC & NEPRA "Biggest" ever Fraud in the History of Pakistan.
بولو جی تم مبینہ کے-الیکٹرک (ابراج) کی کون کون سی ڈکیتیوں کو چھپاؤ گے
--------------------
To reply to this message, follow the link below:
https://www.facebook.com/n/?messages%2F&action=read&tid=id.386993404830914&medium=email&mid=bfc6d0dG5af31217bd58G0G0G787fc972&bcode=1.1435660258.AbloK3JVhuK8u-PO&n_m=tashfeen82%40gmail.com
=======================================
This message was sent to tashfeen82@gmail.com. If you don't want to
receive these emails from Facebook in the future, please follow the
link below to unsubscribe.
https://www.facebook.com/o.php?k=AS0MzdbahxZS65VF&u=100000027098456&mid=bfc6d0dG5af31217bd58G0G0G787fc972
Facebook, Inc., Attention: Department 415, PO Box 10005, Palo Alto, CA 94303
Please help this person if you can do something for this family.
Saturday, June 27, 2015
مثالی ازدواجی زندگی
چنانچہ اس نے اپنی ساس کی بُرائیوں کے پُل باندھ دئیے۔۔۔!!
عالم نے پوچھا کہ "تمھاری ساس میں کوئی پسندیدہ بات بھی ہے۔۔۔؟"
کہنے لگی، "مجھے تو کوئی بھی پسندیدہ بات نظر نہیں آتی۔۔۔!"
عالم نے کہا کہ، "یہ تم نے انصاف کی بات نہیں کی۔ اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھتی تو تمھیں اس کے اندر کوئی نہ کوئی اچھائی ضرور نظر آتی۔۔۔!"
وہ پھر کہنے لگی، "حضرت مجھے ابھی تک تو اس میں کوئی اچھائی نظر نہیں آئی۔۔۔!"
عالم نے کہا، "دیکھو، ایک بات بتاؤ، تمہیں اللہ نے خاوند فرشتہ صفت عطا کیا، یہ بات تو تم نے خود ہی کہی ہے، کیا یہ درست ہے۔۔۔۔؟"
کہنے لگی، "ہاں مانتی ہوں۔۔۔۔!"
عالم نے پوچھا، "اس خاوند کی بیوی تمھیں کس نے بنایا۔۔۔؟ یہی تمھاری ساس تھی جو تمھیں پسند کر کے لائی تھی۔ اُس کو اور بھی بڑی لڑکیاں مل سکتی تھیں، کسی اور کو پسند کر لیتی، مگر تمھیں جو پسند کر کے لائی تو یہی ساس تھی جس نے تمھیں اس خاوند کی بیوی بنایا۔ اور تم کہتی ہو کہ میرا خاوند تو فرشتوں جیسی صفت والا ہے، لیکن اُسکی ماں میں ہزار برائیاں ہیں، کیا یہ ناانصافی نہیں ہے۔۔۔۔۔؟"
کہنے لگی "ہاں میں اُنکا یہ احسان مانتی ہوں کہ اتنا اچھا خاوند مجھے دیا، لیکن اُنکی عادات کی وجہ سے میں پریشان ہوں۔۔۔۔!"
عالم نے کہا، "تم اُن کے اِس احسان کا بدلہ ساری زندگی نہیں اتار سکتی۔۔۔!" ھل جزاء الاحسان الا لاحسان (احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ نہیں ہو سکتا۔) قرآن کی یہ آیت جانتی ہو۔۔؟"
کہنے لگی "جی پڑھی ہوئی ہے۔۔۔!"
عالم نے کہا، "اس احسان کا بدلہ چکانے کیلئے اب ساری زندگی اپنی ساس کی خدمت کرو کہ اس نے اپنے فرشتے جیسے بیٹے کی بیوی کے طور پر تمھیں چُنا ہے۔۔!"
عالمہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی، "حضرت آپ نے بات سمجھا دی، آج کے بعد کبھی ان کے سامنے اونچا نہیں بولوں گی، اور ان کو اپنی ماں کا درجہ دے کر ان کی ہر بات کو برداشت کروں گی۔ واقعی انہی کے صدقے اللہ نے مجھے اتنا اچھا خاوند عطا کیا۔۔۔!"
"مثالی ازدواجی زندگی کے سنہری اصول" سے ماخوذ
Thursday, June 25, 2015
موت کی گھڑی
اگرچہ وہ دوسری بھیڑوں کے سامنے نہ تو اُون اتارتا اور نہ ہی ذبح کرتا تھا، لیکن جیسے ہی کبھی مالک ایک بھیڑ کو کان سے پکڑ کر باہر لیجاتا تو باقی بھیڑیں دُعائیں مانگنتیں کہ "یااللہ! اُن کی ساتھی زندہ واپس آ جائے۔۔!"۔ اور جب وہ بھیڑ اپنی اُون اتروانے کے بعد خوش قسمتی سے زندہ واپس آ جاتی تو سب بہت خوش ہوتیں کہ "چلو! اُون ہی اتاری ہے ذبح تو نہیں کیا۔۔!"۔ لیکن جب کبھی مالک کسی بھیڑ کو لے کر جاتا اور وہ کافی دیر تک وہ واپس نہ آتی تو باقی بھیڑیں خود ہی سمجھ جاتیں کہ وہ ذبح ہو گئی ہے، پھر کچھ دیر کے لیے سب غمگین اور افسردہ ہو جاتیں، لیکن پھر آہستہ آہستہ بھوک، پیاس مٹانے کے چکر میں سب کچھ بھول جاتیں۔ حالانکہ وہ سب جانتی تھیں کہ یہ سلسلہ کبھی رکنے والا نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ پل بھر کے لیے سارے غم بھلا کر چارہ کھانے میں مصروف ہو جاتیں۔ اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا۔
دوستوں..! اگر غور کریں تو ہم انسانوں کی زندگی بھی اِن بھیڑوں سے مختلف نہیں ہے۔ اگرچہ ہمیں معلوم ہے کہ موت برحق ہے، اور ایک دن واقعی مر جانا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر کبھی خوش قسمتی سے ہم میں سے کوئی کسی بڑے حادثے یا بیماری سے بچ جاتا ہے تو ہم سب خوش ہو جاتے ہیں، کہ چلو جان تو بچ گئی۔ اور اگر کبھی خدانخواستہ کوئی چل بستا ہے تو ہم سب اُس کے غم میں گھڑی بھر کے لیے غمگین ہوتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں۔ لیکن پھر بھیڑوں کی طرح اپنی روزمرہ زندگی کی مصروفیات میں سب کچھ بھلا کر پھر سے دنیاداری میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔
اللہ ہم سب کو موت کی گھڑی کو یاد رکھنے اور اِس کے لیے کما حقہ تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین
Thursday, June 11, 2015
صدقہ ہر بلا کو ٹالتا ہے
وہ شخص بائی پاس کروا کر مصر واپس آگیا اور اپنی زندگی کے باقی دن گن گن کر گزارنے لگا۔
ایک دن وہ ایک دکان سے گوشت خرید رہا تھا.جب اس نے دیکھا کہ ایک عورت قصائی کے پھینکے ہوئے چربی کے ٹکڑوں کو جمع کر رہی ہے۔ اُس شخص نے عورت سے پوچھا تم انکو کیوں جمع کر رہی ہو؟
عورت نے جواب دیا کہ گھر میں بچے گوشت کھانے کی ضد کر رہے تھے، چونکہ میرا شوہر مر چکا ہے اورکمانے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے اس لیے میں نے بچوں کی ضد کی بدولت مجبور ہوکر یہ قدم اٹھایا ہے، اس پھینکی ہوئی چربی کے ساتھ تھوڑا بہت گوشت بھی آجاتا ہے جسے صاف کر کے پکا لوں گی۔
بزنس مین کی انکھوں میں آنسو آگئے اس نے سوچا میری اتنی دولت کا مجھے کیا فائدہ میں تو اب بس چند دن کا مہمان ہوں، میری دولت کسی غریب کے کام آجائے اس سے اچھا اور کیا۔
اس نے اسی وقت اس عورت کو کافی سارا گوشت خرید کر دیا اور قصائی سے کہا اس عورت کو پہچان لو، یہ جب بھی آئے اور جتنا بھی گوشت مانگے اسے دے دینا اور پیسے مجھ سے لے لینا۔
اس واقعے کے بعد وہ شخص اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف ہوگیا، کچھ دن اسے دل میں کسی تکلیف کا احساس نہ ہوا، تو اس نے قاہرہ میں موجود لیبارٹری میں دوبارہ ٹیسٹ کرائے، ڈاکٹروں نے بتایا کہ رپورٹکے مطابق آپ کے دل میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن تسلی کیلئے آپ دوبارہ یورپ میں چیک اپ کروا آئیں۔
وہ شخص دوبارہ یورپ گیا اور وہاں ٹیسٹ کرائے، رپورٹس کے مطابق اس کے دل میں کوئی خرابی سرے سے تھی ہی نہیں، ڈاکٹر حیران رہ گئے اور اس سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیا کھایا کہ آپ کی بیماری جڑ سے ختم ہوگئی۔
اُسے وہ گوشت والی بیوہ یاد آئی اور اس نے مسکرا کر کہا، علاج وہاں سے ہوا جس پر تم یقین نہیں رکھتے، بے شک ھمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا تھا کہ صدقہ ہر بلا کو ٹالتا ہے..
سمجھدار کے لیے اشارہ ہی کافی ہے
Tuesday, June 9, 2015
ﭘﺎﭘﺎ ﯾﮧ ' ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ' ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﺎﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ - ﭘﺎﭘﺎ ﯾﮧ ' ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ' ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ...
'
ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻭﮨﯽ ﺣﺸﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﻮ
" ﻟﮩﺬﺍ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺑﻠﻨﺪﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ، ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﻣﺖ ﺗﻮﮌﻧﺎ "..
"
ایمان
