Bismillah

Bismillah

Ayyat

Ayyat

Pakistani Human Resource available

This is to clarify to our all visitor and members that, we obey all Pakistani Rules and Regulations which is implemented in Pakistan by Pakistani Government. Our main purpose of posting and circulating data on our site is only for Pakistani nation knowledge and information. So using this data for any other purpose or misuse of data, we will not take any responsibilities of this type of activities, kindly do not use this data for any illegal activities which is prohibited by Pakistani Government, and follow the all rules of Pakistani Government about Cyber Crimes.

We can provide you all type of Pakistani best Human Resource Skilled and Unskilled for all over the world and specially for Arab countries. If you required any type of Human Resource you can send us email at : joinpakistan@gmail.com We will do our best to satisfy your needs according to your requirement.

If you required a job or if you are searching for a good employee please contact us at : joinpakistan@gmail.com

Charagh

Charagh

Thursday, October 23, 2014

میرے دامن میں سسکیوں کے سوا کچھ نہیں مجھے رونے دو

میرے دامن میں سسکیوں کے سوا کچھ نہیں مجھے رونے دو 

ماشاءالله ذرا دیکھۓ..... شیئر آپ خود کریں گے 
پلیز شیئر ضرور کریں. جزاک اللہ خیرا
اللہ عزوجل کی رضا پانے اور ثواب کمانے کی نیت سے اس وڈیو کو دیکھیں اور شئیر کریں 
اچھی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے.ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ خیرا 
جب آپ شیئر کریں گے تو شیطان مردود آپ کو روکے گا
 

Tuesday, September 30, 2014

آپریشن بیدار: ونگز اوور چاغی


آپریشن بیدار: ونگز اوور چاغی....!!!!!
تحریر تھوڑی لمبی ضرور ھے مگر انشاءالله آپ کا وقت ضائع نھیں ھوگا
___________________________________________________
سات جون 1981 میں بغداد کے جنوب میں موجود فرانس کے تعاون سے بننے والے عراقی نیوکلئیر ری ایکٹر سائٹ "تموز 1" پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد پاکستان کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اسرائیل کے اگلے ایڈونچر کا نشانہ پاکستان ہی ہو گا۔ 
کہوٹہ پر حملے کا منصوبہ عراقی ری ایکٹر پر حملے کے منصوبے کا ہی ایک حصہ تھا اور پلان کے مطابق اگر عراقی ری ایکٹر پر حملہ کامیاب رہتا تو اسرائیل پاکستانی ری ایکٹر پر بھی حملہ کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھاتا۔ عراقی تنصبات پر ہونے والا حملہ کامیاب رہا تو اسرائیل نے منصوبے کو حتمی شکل دینی شروع کر دی۔ حملے کے لیے اسرائیل کے پاس دو آپشنز تھے۔ پہلا یہ کہ اسرائیلی طیارے انڈیا میں آتے اور وہاں سے فیول لینے کے بعد اڑ کر پاکستان پر حملہ کرتے۔ دوسرا آپشن یہ تھا کہ اسرائیلی طیاروں کے ساتھ ہوا میں ہی ایندھن بھرنے والا طیارہ ساتھ آتا اور جہاں ایندھن ختم ہوتا وہاں اسرائیلی طیاروں کو ایندھن بھر دیتا۔ پلان کے مطابق حملے کے وقت اسرائیل کے اواکس طیارے کو پاکستانی کے ریڈار جام کرنا تھے تاکہ پاکستانی ائیرفورس ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنتی۔ 
اس دوران انڈیا نے اپنی طرف سے اسرائیل کو بہت منانے کی کوشش کی اسرائیل پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرے لیکن اسرائیل کا اصرار تھا کہ ان کے طیارے پہلے انڈیا کے اڈے پر اتریں گے اور فیول لینے کے بعد حملہ کریں گے جبکہ انڈیا اس پر تیار نہیں تھا کیونکہ اس طرح انڈیا اس حملے میں حصے دار بن جاتا اور پاکستان کے ساتھ جنگ شروع ہو سکتی تھی۔ 
آسٹریلین انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملے کا منصوبہ بھارت کی وجہ سے 1982 میں مکمل نہ ہو سکا کیونکہ بھارت یہ تو ضرور چاہتا تھا کہ کہوٹہ تباہ کر دیا جائے لیکن وہ اس حملے کی ذمہ داری اور اس کے بعد پاکستان کے جوابی حملے کا سامنا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ جبکہ اسرائیل چاہتا تھا کہ اس حملے کا الزام اسرائیل اور انڈیا مل کر اٹھائیں۔ دوسری جانب امریلی صدر رونالڈ ریگن کی حکومت بھی ایسے کسی حملے کی مخالف تھی۔ کیونکہ تب پاکستان افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف لڑ رہا تھا اس دوران اگر پاکستان پر اسرائیلی حملہ ہو جاتا تو یقیناً پاکستان روس کو چھوڑ کر انڈیا اور اسرائیل سے الجھ پڑتا جس سے افغانستان میں روس کے قدم جم جاتے۔
اسرائیلی حملے کے منصوبے پر آخری مہر پاکستان کی حکومت نے تب لگا دی جب پاکستانی میراج طیاروں نے اسرائیل کی صحرائے نجف میں موجود دیمونہ نیوکلئیر تنصیبات تک پہنچ جانے کی ایک کامیاب کوشش کرتے ہوئے اسرائیل کو ایک واضح پیغام دیا جو کہ سفارتی ذرائع سے بھی اسرائیلی حکومت تک پہنچا دیا گیا کہ اگر کہوٹہ پر حملہ ہوا تو پاکستان اسرائیل کی دیمونہ ایٹمی تنصیبات کو مٹی کا ڈھیر بنا دے گا۔
لیکن پاکستان کوئی چانس نہیں لے سکتا تھا اس لیے 1981 میں عراقی ایٹمی ری ایکٹر پر حملے کے بعد پاکستان کے صدر ضیا الحق نے پاکستان ائیرفورس کے ہیڈکوارٹرز کو اسرائیلی حملے کو ذہن میں رکھتے ہوئے پلانز بنانے کی ہدائت کی۔ جس کے بعد پاکستان کے ائیر چیف نے ائیر ٹاسکنگ آرڈرز جاری کرتے ہوئے ائیرڈیفنس چیف کو کہوٹہ کی حفاظت کے لیے پلانز بنانے کا حکم جاری کیا اور ساتھ ہی اسرائیلی دیمونہ ری ایکٹر پر حملے کا پلان بنانے کا بھی حکم دیا۔ جس کے بعد ائیر ہیڈکوارٹرز چکلالہ اسلام آباد میں ایک خاص آپریشنز روم بنا دیا گیا جس میں ائیرڈیفنس کی ساری صورتحال کو مانیٹر کیا جاتا تھا۔ 10 جولائی 1982 کو پاکستان ائیرفورس نے اسرائیل کی دیمونہ ایٹمی تنصیبات پر میراج طیاروں کی مدد سے حملے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور 1983 میں ایف 16 طیاروں کی آمد کے بعد انہیں بھی اس اسپیشل اسٹرائیک فورس میں شامل کر لیا گیا۔ 
اس سارے پس منظر میں 13 مئی 1998 کو انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کو بہت سخت خدشہ تھا کہ اسرائیل اور انڈیا اپنے سابقہ پلان کے تحت پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتے ہیں۔ لہٰذا پاکستان ائیرفورس انتہائی زیادہ الرٹ حالت میں تھی۔ سفارتی سطح پر ٹینشن اس قدر زیادہ تھی کہ بلوچستان میں راس کوہ ٹیسٹ سائٹ پر اڑتے ہوئے ایک پاکستانی ایف 16 طیارے کو گہرے بادلوں کی وجہ سے زمینی دستوں نے اسرائیلی طیارہ سمجھ لیا اور اس سے پہلے کہ اس چیز کو پاکستان ائیرفورس کنفرم کرتی یہ خبر امریکہ میں پاکستانی سفیر تک پہنچ چکی تھی جس نے خفیہ طور پر اسرائیلی سفارت خانے کو انتہائی سخت پیغام بھیجا جس پر امریکہ میں اسرائیلی سفیر کو پبلک میں وضاحت کرنا پڑی کہ ہمارا پاکستان پر حملے کا کوئی پلان نہیں ہے۔ 
اسی دن اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر احمد کمال نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی خواہش رکھتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو پاکستان کا جواب انتہائی سخت اور عالمی امن کے لئے انتہائی نقصان دہ ہو گا۔ 
اس کے بعد جیسے ہی پاکستان نے اپنے جوابی ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا تو پاکستان ائیرفورس کو چاغی کے ساتھ ساتھ کہوٹہ خوشاب فتح جنگ نیلور چشمہ اور کراچی کی ایٹمی تنصیبات کی فضائی نگرانی کی بھی اضافی ذمہ داری دے دی گئی۔
آپریشن بیدار 98:
پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے پہلے پاکستانی ہوائی حدود کی مسلسل نگرانی کو آپریشن بیدار کا نام دیا گیا۔ جس میں چاروں جانب نگرانی کے لیے چار سیکٹرز تشکیل دئیے گئے جنہیں اسلام آباد پشاور سرگودھا کوئٹہ اور کراچی سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ 
نمبر 6 سکواڈرن جو کہ سی 130 طیاروں سے لیس تھا جس کا کام سامان پہنچانا تھا اس نے اس مشن کے دوران 71 مختلف فلائٹس میں 12،66،615 پاؤنڈ سامان چاغی پہنچایا۔
نمبر 7 ٹیکٹیکل اٹیک سکواڈرن جو کہ میراج طیاروں سے لیس تھا اسے مسرور ائیر بیس کراچی سے شہباز ائیر بیس جیکب آباد بلوچستان منتقل کر دیا گیا تاکہ وہ چاغی کے ایریا میں چوبیس گھنٹے ائیر ڈیفنس ڈیوٹی دے سکے۔
نمبر 9 ملٹی رول سکواڈرن جو کہ ایف 16 طیاروں سے لیس تھا اسے سرگودھا سے ہٹا کر سمنگلی ائیر بیس کوئٹہ بھیج دیا گیا تاکہ بلوچستان کے ایریا کو کوور کیا جا سکے اور رات کو ان علاقوں میں پہرہ دیا جا سکے۔
نمبر 11 سکواڈرن جو کہ ایف 16 طیاروں سے لیس تھا اسے 24 مئی کو سرگودھا سے ہٹا کر جیکب آباد بلوچستان بھیج دیا گیا۔
نمبر 14 سکواڈرن کے ایف 7 طیاروں کو چکلالہ ائیر بیس بھیج کر کہوٹہ کے علاقے کی حفاظت کا مشن دیا گیا۔
نمبر 17 سکواڈرن کے ایف 6 طیاروں کو پاکستان کے بارڈرز کے ساتھ ساتھ ہوائی پہرے داری اور گشت لگانے کی ذمہ داری دی گئی۔
اسی کے ساتھ پاکستان ائیرفورس کے پاس موجود تمام ریڈار یونٹس کو اس طرح پھیلایا گیا کہ ایٹمی تنصیبات اور ایٹمی دھماکوں کی ٹیسٹ سائٹ کے آس پاس ایک مکمل گھیرا بن گیا۔ 
اس سارے مشن کے دوران دالبندین ائیر پورٹ نے بہت شہرت حاصل کی جو کہ چاغی سائٹ سے صرف 30 کلو میٹر دور تھا اور تمام سامان اسی چھوٹے سے ائیرپورٹ پر اتارا جاتا تھا
پاکستان کا ایٹم بم مختلف حصوں کی شکل میں دو سی 130 طیاروں کے ذریعے دالبندین پہنچا تھا۔ ان سی 130 طیاروں کو پاکستانی حدود کے اندر بھی پاکستان کے ایف 16 طیاروں نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا جو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائیلوں سے لیس تھے جبکہ اس دوران پاکستان انڈیا بارڈر کے ساتھ ساتھ ایف 7 طیارے میزائیلوں سے لیس چوبیس گھنٹے گشت لگاتے رہے تھے تاکہ کوئی بھی بیرونی طیارہ ہماری حدود میں داخل نہ ہونے پائے۔ 
یہ مشن اس قدر سیکرٹ تھا کہ یہ تک سوچا گیا کہ اگر ایٹم بم لے جانے والا طیارہ اغوا ہو گیا تو کیا ہو گا۔ جس پر ایف 16 کے پائلٹوں کو ایک خفیہ آرڈر جاری کیا گیا کہ اگر ایٹم بم والا سی 130 ہائی جیک ہو جائے یا پاکستانی حدود سے باہر جانے کی کوشش کرے تو بنا کچھ سوچے اسے ہوا میں ہی تباہ کر دیں۔ اور اس دوران ایف 16 طیاروں کے ریڈیو آف کروا دئیے گئے تاکہ مشن کے دوران انہیں کوئی بھی کسی بھی قسم کا حکم نہ دے سکے۔ پائلٹوں کو یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ ان کے آرڈرز فائنل ہیں۔ اگر مشن کے دوران انہیں ائیر چیف بھی آرڈرز بدلنے کا حکم دے تو اسے انکار کر دیں۔ 
جب 30 مئی 1998 کو پاکستان کے چھٹے ایٹمی دھماکے سے زمین کانپی تو آپریشن بیدار 98 بھی کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔
گروپ کیپٹن حسیب پراچہ 
جو کہ پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے بہترین پائلٹ اور سب سے زیادہ تجربہ کار پائلٹ ہیں۔ یہ پہلے سرگودھا میں سکواڈرن کمانڈر تھے جبکہ اب خبر سننے میں آ رہی ہے کہ امریکہ سے خریدے گئے نئے ایف 16 طیاروں کے بیس کی کمانڈ ان کو دی جا رہی ہے۔ حسیب پراچہ ایف 16 کی اس فارمیشن کو لیڈ کر رہے تھے جس نے اپنی نگرانی میں ایٹم بم چاغی تک پہنچایا تھا۔
‪#‎Striker‬

Monday, September 22, 2014

Shall we over use the hand held devices? Or even the lap tops?

I know it seems long but worth reading 👍

September 21, 2014

Steve Jobs Didn't Let His Kids Use iPhones Or iPads: Here's Why



Steve Jobs is a name which is synonymous with cutting edge, innovative and groundbreaking technology.

So it may come as something as a surprise to learn Apple's former CEO didn't believe in letting his kids use some of his company's greatest products – the iPhone and the iPad.

And it's not because the Apple godhead was a closet Samsung fan either.

Jobs, who died in 2011, may have had an instinctive flair for technology but he was a low tech parent who firmly believed in restricting his children's access to electronic devices.

"We limit how much technology our kids use at home," said Jobs way back in 2010, expressing growing concerns about his children's gadget use.

As all modern parents know, iPhones and iPads are extremely appealing to children. These little hand-held devices are state-of-the-art toys. Surrogate parents almost, capable of entertaining, distracting, and pacifying children during school holidays and on long car journeys when mom and dad's attentions are focused elsewhere.

Yet instead of thanking Apple for these extremely convenient parent assistants, should we actually be concerned about the potential harm they may be inflicting upon our youngsters?

Steve Jobs certainly appeared to think so. In a New York Times article published this week, journalist Nick Bilton recalls how he once put it to Jobs that his kids must love the iPod, but to his surprise Jobs replied, "They haven't used it. We limit how much technology our kids use at home."

"I'm sure I responded with a gasp and dumbfounded silence. I had imagined the Jobs's household was like a nerd's paradise: that the walls were giant touch screens, the dining table was made from tiles of iPads and that iPods were handed out to guests like chocolates on a pillow. Nope, Mr. Jobs told me, not even close."

And Jobs wasn't the only technological guru who had substantial concerns about the long-term effects of kids engaging with touch-screen technology for hours on end.

Chris Anderson, former editor of Wired, also believes in setting strict time limits and parental controls on every device at home.

"My kids accuse me and my wife of being fascists. They say that none of their friends have the same rules. That's because we have seen the dangers of technology first hand. I've seen it in myself, I don't want to see that happen to my kids."

Researchers at the University of California Los Angeles recently published a study which demonstrated that just a few days after abstaining from using electronic gadgets, children's social skills improved immediately.

Which is definitely food for thought considering recent research showed that an average American child spends several hours  daily using smart-phones and other electronic screens.

Jobs was undoubtedly a genius but he didn't get that way through staring at screens and playing Angry Birds until the early hours or constantly updating his Facebook account.

Walter Isaacson, the author of Steve Jobs, spent a lot of time at the Apple co-founder's home and confirmed that face-to-face family interaction always came before screentime for Jobs.

"Every evening Steve made a point of having dinner at the big long table in their kitchen, discussing books and history and a variety of things. No one ever pulled out an iPad or computer. The kids did not seem addicted at all to devices."

So the next time the advertising department at Apple, Samsung, or any other major technological corporation attempt to sublimely convince you that life is somehow lacking without their latest little device, remember that the man who started it all, believed somewhat differently.


Read more at http://www.inquisitr.com/1468612/steve-jobs-didnt-let-his-kids-use-iphones-or-ipads-heres-why/#oowaBYpa9S0oJrIy.99
 Sent from my BlackBerry® Smartphone provided by Ufone

Friday, August 29, 2014

Kiya ya hi inkalab hai

A IMRAN KA PARTI HE AP GHOURE SE DEKE ES PIC KO
 

Protest of PTI and PAT.

Protest is your right but not with women and children.  These women and children are hostages by PTI and PAT leaders and worker for their own safety purpose only.
 
Yes in democracy you have some different view on same matter and for which you can protest but not to utilize women and children as your shield basis.
 
Shaheed no need Kafaan, so then PAT worker decide they are Shaheed or not, because they had got kafaan. 
 
Both parties are coward and working on someone agenda according to given script, but it is not good for Pakistan.
 
If both parties raise following matter then we can say they are talking for nation :-
 
1- Election reform.
2- Inflation
3- Corruption
4- Law & Order situation in Pakistan
5- Reduce Electricity RATES which is more important issue.
6- Reduce Load shedding
7- Jobs and working environment. etc etc.
 
But they are fighting for their own.
 
For God sake talk about Pakistani nation not for your own just like other leaders are doing in last 67 years in Pakistan.... 
 
- For God sake on the name of enjoyment please don't allow girls to dance in front of the camera, they are also like your own daughter and sisters, these are Pakistani daughters and please respect her, your this activities are watching all world then what image your are presenting to the other world about Pakistani children.....  Please think positively and sincerely.....
 
 
Watch PTI worker behaviour with Samaa TV Reporter, and it is democracy??? so we don't like this type of PTI democracy.... https://www.facebook.com/video.php?v=10152186103696899&fref=nf
 

Wednesday, August 27, 2014

Imran talk about Karachi and Sindh Election?

Why not Imran talk about Karachi and Sindh Election? Because Imran and Qadri fear of attack from MQM and PPP, and their entry in Sindh will be banned in Sindh by them. So he found a weak party in Punjab and they both attack on PMLN. 

I think personally PMLN come on front foot and react like PPP had done in his last 5 years tenure and complete successfully his tenure with attacking or front foot position, and no party in Pakistan courage to talk against PPP in their tenure. 

Government must comply their rules and regulation from nation by force. If government react like PMLN then there is no chance for PMLN to complete their tenure. 

Watch how Imran supporter is not talking about MQM and PPP rigging in Sindh and Karachi due to their fear...https://www.facebook.com/video.php?v=10152383361214527&set=vb.151626539526&type=2&theater
 

Friday, August 22, 2014

شرم و حیا


کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میں شہر کے ایک بڑے چوراھے پر ٹریفک سگنل کے کھلنے کا انتظار کر رہا تھا
میرے پیچھے ایک گاڑی آکر رک گئی گاڑی ایک خاتون ڈرائیو کر رہی تھیں جنہوں نے حجاب کر رکھا تھا .
میرے برابر ھی موٹرسائیکل پر دو نوجوان بھی کھڑے تھے . ایک نے پیچھے مڑ کر خاتون کو دیکھا اس کے بعد اس نے اپنے آگے والے کو آہستہ سے کچھ کہا وہ بھی پیچھے کو گردن گھما کر دیکھنے لگا
اور پھر دونوں آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے مسکرانے لگے ان کی نظروں کے تعاقب میں اردگرد موجود کچھ اور مرد حضرات بھی خاتون کو گہری نظروں سے گھورنے لگے .
میری نظر اس خاتون کے چہرے کی جانب اٹھی تو میں نے واضح طور پر عورت کے ھاتھوں میں کپکپاہٹ اور آنکھوں میں شدید کرب کی پرچھائیاں دیکھی .خود میری کیفیت یہ تھی کہ مجھے لگ رہا تھا جیسے کسی شرم حیا والی عورت کو بیچ بازار بے پردہ کر دیا گیا ھو .
میری قوم کے سپوت کسی ضروری کام کی خاطر گھر سے نکلنے والی ایک شریف اور باپردہ خاتون کو نظروں ھی نظروں میں کچا چبا جانے کے انداز میں دیکھ رہے تھے .
یہ واقعہ چند سیکنڈوں کا تھا مجھے لگا ان چند سیکنڈوں میں میری قوم کی تمام بہنوں بیٹیوں کے سروں سے میری قوم کے بیٹوں نے شرم و حیا کی چادر نوچ کر پھینک دی ھو .
مجھے خرابی کی سمجھ نہیں آ رہی تھی خرابی اس خاتون کے گھر سے نکلنے میں تھی ؟ خرابی ایک عورت کے ڈرائیو کرنے میں تھی ؟
یا خرابی ہم سب کے ڈی این اے میں ہے جو شرم و حیا سے محروم ہوچکا ہے...!!!

Reality of Life


رشتے اور دوستیاں استوار کرنے کے معاملے میں ہم اگر دوسروں کے ساتھ زبردستیاں کرنی چھوڑ دیں تو ذندگی قدرے آسان ہو سکتی ھے۔

ھم ذندگی کے داخلی اور خارجی راستوں پر پہرے نہیں بٹھا سکتے۔

بس جو آئے اس کو خوش دلی سے خوش آمدید کہیں 
اور جو جانا چاھے اسے الوداع کہہ کر رخصت کر دیں، یہی اعلی ظرفی ھے۔۔

کیونکہ اگر یہ طے پا چکا ھے تو یہ ہو کر رھے گا۔

ہماری زبردستی سوائے ہمیں تکلیف میں مبتلا کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی۔

Thursday, August 21, 2014

RE: **JP** محبت

Very well observed; and is quite conclusive to know other end of the love.

 

BR

Farooq

From: joinpakistan@googlegroups.com [mailto:joinpakistan@googlegroups.com] On Behalf Of JoinPakistan
Sent: Wednesday, August 20, 2014 10:48 PM
To: JP
Cc: PostPakistan
Subject: **JP** محبت

 

ایک دفعہ میں ایک دوست کے ساتھ چڑیا گھر گیا بندر کے پنجرے میں دیکھا کہ وہ اپنی بندریا سے چمٹا محبت کی اعلیٰ تفسیر بنا بیٹھا تھا۔ تھوڑا آگے جا کرشیر کے پنجرے کے پاس سے گزر ہوا تو معاملہ الٹ تھا، شیر اپنی شیرنی سے منہ دوسری طرف کیئے خاموش بیٹھا تھا۔ میں نے دوست سے کہا کہ بندر کو اپنی مادہ سے کتنا پیار ہے اور یہاں کیسی سرد مہری ہے؟

دوست نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا؛ اپنی خالی بوتل شیرنی کو مارو۔ میں نے بوتل پھینکی تو شیر اچھل کر درمیان میں آگیا۔ شیرنی کے دفاع میں اسکی دھاڑتی ہوئی آواز کسی تفسیر کی طالب نہ تھی۔ میں نے ایک بوتل جا کر بندریا کو بھی ماری یہ دیکھنے کو کہ بندر کا ردعمل کیا ہوتا ہے، بوتل اپنی طرف آتے دیکھ کر بندر اپنی مادہ کو چھوڑ کر اپنی حفاظت کیلئے اچھل کر کونے میں جا بیٹھا۔

میرے دوست نے کہا کہ کچھ لوگ شیر کی طرح ہی ہوتے ہیں؛ ان کی ظاہری حالت پر نہ جانا، ان کے پیاروں پر بن پڑے تو اپنی جان لڑا دیا کرتے ہیں، مگر ان پر آنچ نہیں آنے دیتے۔

اور کچھ لوگ جو ظاہرا" بہت محبت جتاتے ہیں لیکن وقت آنے پر یوں آنکھیں پھیر لیتے ہیں جیسے کہ جانتے ہی نہ ہوں

--
--
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "JoinPakistan" group.
 
You all are invited to come and share your information with other group members.
 
To post to this group, send email to joinpakistan@googlegroups.com
 
For more options, visit this group at
http://groups.google.com.pk/group/joinpakistan?hl=en?hl=en
 
You can also visit our blog site : www.joinpakistan.blogspot.com &
on facebook http://www.facebook.com/pages/Join-Pakistan/125610937483197
---
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "JoinPakistan" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to joinpakistan+unsubscribe@googlegroups.com.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.




This email is free from viruses and malware because avast! Antivirus protection is active.


Wednesday, August 20, 2014

محبت

ایک دفعہ میں ایک دوست کے ساتھ چڑیا گھر گیا بندر کے پنجرے میں دیکھا کہ وہ اپنی بندریا سے چمٹا محبت کی اعلیٰ تفسیر بنا بیٹھا تھا۔ تھوڑا آگے جا کرشیر کے پنجرے کے پاس سے گزر ہوا تو معاملہ الٹ تھا، شیر اپنی شیرنی سے منہ دوسری طرف کیئے خاموش بیٹھا تھا۔ میں نے دوست سے کہا کہ بندر کو اپنی مادہ سے کتنا پیار ہے اور یہاں کیسی سرد مہری ہے؟

دوست نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا؛ اپنی خالی بوتل شیرنی کو مارو۔ میں نے بوتل پھینکی تو شیر اچھل کر درمیان میں آگیا۔ شیرنی کے دفاع میں اسکی دھاڑتی ہوئی آواز کسی تفسیر کی طالب نہ تھی۔ میں نے ایک بوتل جا کر بندریا کو بھی ماری یہ دیکھنے کو کہ بندر کا ردعمل کیا ہوتا ہے، بوتل اپنی طرف آتے دیکھ کر بندر اپنی مادہ کو چھوڑ کر اپنی حفاظت کیلئے اچھل کر کونے میں جا بیٹھا۔

میرے دوست نے کہا کہ کچھ لوگ شیر کی طرح ہی ہوتے ہیں؛ ان کی ظاہری حالت پر نہ جانا، ان کے پیاروں پر بن پڑے تو اپنی جان لڑا دیا کرتے ہیں، مگر ان پر آنچ نہیں آنے دیتے۔

اور کچھ لوگ جو ظاہرا" بہت محبت جتاتے ہیں لیکن وقت آنے پر یوں آنکھیں پھیر لیتے ہیں جیسے کہ جانتے ہی نہ ہوں

Friday, August 15, 2014

دوسری عورت کے ساتھ ڈیٹ


دوسری عورت کے ساتھ ڈیٹ

شادی کے اکیس برس کے بعد آخر میری بیوی کے دل میں نیکی لہرائی کچھ کہنے سے پہلے وہ جھجکی،شرمائی
اپنے دل کی وسعت پر تھوڑا اِترائی
پھر بولی
آج اس عورت کو تم ڈیٹ پہ لے جاؤ
جو تمہاری چاہت میں دیوانی ہے
جس کی بھیگی آنکھوں میں ویرانی ہے
مجھ کو تم سے پیار بہت ہے
تم سے دو لمحے کی دُوری،گو کارِ دشوار بہت ہے
پر میرا دل نرم بہت ہے
آنکھوں میں بھی شرم بہت ہے
اور اس بات کا علم ہے مجھ کو
وہ عورت بھی تم سے ملنے کی طالب ہے
چاہ تمہاری اس کے دل پر بھی غالب ہے
وہ تنہا ہے ،دوری کا دکھ سہتے سہتے اُوب چکی ہے
اکلاپے کے ساگر میں وہ چپکے چپکے ڈوب چکی ہے
میری بیوی نے جس عورت سے ملنے کی چھٹی دی تھی
میری ماں تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو پچھلے اُنیس برس سے بیوہ تھی تنہا رہتی تھی
اور میں اپنے بیوی بچوں ،کام اور دھندوں
کی ڈوری سے بندھا ہوا تھا
اس سے کم ہی مل پاتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون کیا جب میں نے اس کو
رات کے کھانے کی دعوت دی
وہ حیران سی ہو کر بولی
اللہ تم کو خیر سے رکھے،آج تمہاری طبیعت شائد ٹھیک نہیں ہے
میں شرمندہ ہو کر بولا
ماں میں بالکل ٹھیک ہوں فٹ ہوں
صرف تمہارے ساتھ کچھ اچھا وقت بِتانے کی خواہش ہے
گھومیں گے کھانا کھائیں گے اور بہت سی باتیں ہوں گی
پیاری ماں ہم دونوں ہوں گے بس ہم دونوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اک لمحہ سوچ کے بولی
ٹھیک ہے بیٹے ،شام کو میں تیار رہوں گی
کام سے فارغ ہو کر جب میں اپنی ماں کو لینے پہنچا
مجھ کو یوں محسوس ہوا میں نروس سا ہوں
ماں بھی بے حد خوش تھی لیکن نروس سی تھی
ہلکا نیلا سُند جوڑا میری ماں کے زیبِ تن تھا
بالوں میں بھی پھول سجے تھے
اس کے ملکوتی چہرے پر نرمی تھی اور شکر گذاری
کار کی سیٹ پہ بیٹھ گئی تو ہنس کربولی
میں نے اپنی سب سکھیوں کو میری اور تمہاری ڈیٹ کے بارے میں بتلایا ہے
وہ بے حد حیران ہوئیں اور ان پر کافی رعب پڑا تھا
وہ کل مجھ سے فون پہ اک اک لمحے کی تفصیل سنیں گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریستوران میں جب ہم پہنچے
میری ماں میرے بازو کو یوں تھامے تھی
گویا وہ خاتونِ اول کے منصب پر فائز ہے
میں نے مینیو پڑھتے پڑھتے رک کر اس کی جانب دیکھا
وہ مجھ کو گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی
میرے ہاتھ کو چُھو کر بولی
یاد ہے تم کو مینیو پڑھنا کام تھا میرا جب تم چھوٹے سے لڑکے تھے
میں بولا ہاں یاد ہے مجھ کو ،وہ دن کتنے اچھے تھے
کھانا کھاتے کافی پیتے ہم نے ڈھیروں باتیں کی تھیں
میرے بچپن اور جوانی کا ہر لمحہ یاد تھا اس کو
اس کی آنکھوں میں وہ منظر نقش تھے سارے
اس کے دل میں میری یاد کا بیتا موسم ٹھہر گیا تھا
جب ہم واپس لوٹ رہے تھے تب ماں بولی
میں تمہارے ساتھ دوبارہ کھانا کھانے جاؤں گی
لیکن اگلی بار یہ دعوت میری جانب سے ہو گی
میں نے ہنس کر حامی بھر لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماں کو اس کے گھر پر چھوڑ کے رات گئے جب میں گھر پہنچا
میری بیوی ہنس کر بولی ''کیسی تھی یہ ڈیٹ تمہاری''؟
تب میں اگلی'' ڈیٹ ''پہ جانے کے بارے میں سوچ رہا تھا
جس کی حامی بھر آیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگربہانہ گھڑنے کی نوبت نہ آئی
میری ماں تو اکیس دن بھی بعد اس ڈیٹ کے جی نہ پائی
اک ہفتے کے بعد ہی یکدم وہ یہ دنیا چھوڑ گئی
ماں کے مر جانے کے بعد
ایک لفافہ ڈاک سے میرے نام آیا
اس میں کیا تھا؟
ایک رسید کی کاپی تھی اس ریستوران کی
میں نے اس شب اپنی ماں کے ساتھ جہاں کھانا کھایا تھا
اک پرچہ بھی ساتھ تھا اس کے
جس پر ماں کے ہاتھوں سے یہ نوٹ لکھا تھا
میرے بیٹے میں نے جس کھانے کی تم کو دعوت دی تھی
اس کے بل کی پے منٹ میں نے کل ایڈوانس میں کر دی ہے
میرا جی کچھ ٹھیک نہیں ہے،اور رسید کی کاپی تم کو بھیج رہی ہوں
ساتھ تمہارے اب میں شائد اور اک شام بِتا نہ پاؤں
ریستوران میں جا کر کھانا کھا نہ پاؤں
پھر بھی کوئی بات نہیں ہے
میں نے دو افراد کے کھانے کی ہی ان کو پے منٹ کی ہے
تم اپنی بیوی کے ہمراہ اسی جگہ پر کھانا کھانا، لطف اٹھانا
میری جانب سے یہ دعوت ایک محبت کا ٹوکن ہے
شائد تم یہ جان نہ پاؤ،جس شب ہم نے کھانا کھایا باتیں کی تھیں
میرے ویراں جیون میں وہ سُندرشب آباد بہت ہے
باقی جیون خوش رہنے کو ،اس اک شب کی یاد بہت ہے!!!
 

Wednesday, August 13, 2014

Happy 14th August 2014 to you....

Happy 14th August 2014 to all of Muslim & Pakistani....

Friday, August 8, 2014

Path

There is 2 path and now, it is on you, which path you like...?

Wednesday, July 9, 2014

گنجے پن کا بہترین علاج

گنجے پن کا بہترین علاج 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چند دیسی انڈے سخت اُبال لیں ان کی زردیاں نکال کر توے پر رکھیں ہلکی آنْچ پر جلنے دیں . اُلٹ پلٹ کرتے جائیں . پِھر تھوڑا تھوڑا ٹیڑھا کر دیں اِس طرح تھوڑی دیر بعد زردی میں سے قطرہ قطرہ تیل نکلنا شروع ہو جائیگا . سیدھے توۓ یا فرائی پین میں تیل نکالیں . جو تیل نکلے جمع کر لیں پِھر زردی کو چمچے سے دباتے رہیں اور تیل جمع کرتے رہیں اب اس تیل میں زیتون کا یا تلوں کا تیل برابر شامل کرکے رات کو سونے سے پہلے سر پر مالش کر لیا کریں . کچھ دن بعد ہی بال دوبارہ اگنے شروع ہو جائیں گے 

Tuesday, July 8, 2014

سازش داعش


دیکھیئے کتنی بڑی گیم کھیل رہے ہیں یہودونصاری مل کر اور ھمارے کچھ لوگ اس سازش کو بے نقاب کرنے پر ھمی پر فتوے ٹھوک رھے ھیں 
داعش نے اب تک مشرق وسطی میں جن علاقوں پر قبضہ کیا اور آگے جن پر ہلہ بولنے کا اعلان کیا ہے عراق.شام.اردن.لبنان.اور سعودی عرب کے کچھ علاقے یه سارے علاقے اسرائیل کے گریٹر اسرائیل منصوبے کا حصہ ہیں
آپ خود بتائیے اسرائیل خود یہ جنگ لڑ کے خطے کے ان ملکوں پر قبضہ کرسکتا تھا؟؟
داعش کے حامیوں سے درخواست ہے کہ ماشاءاللہ سبحان اللہ کی صدائیں بلند کرتے رہیئے
امریکہ اور اسرائیل تب اس جنگ میں کودیں گے جب مطلوبہ علاقے داعش کے قبضہ میں ہوں گے تب نجات دہندہ کے روپ میں صیہونی قبضہ گروپ وارد ہوگا
اور گریٹراسرائیل کے قیام کے بعد آپ کے ہیرو اپنے اپنے گھر لوٹ جائیں گے....!!!
 
چار سو برطانوی ڈھائی سو آسٹریلوی اور ایک ھزار کے قریب مغربی یورپ کے لوگ جس تنظیم کا حصه ھیں ان کے حمایتی انھیں کالے جھنڈے کی وجه سے امام مھدی کا خراسان سے نکلنے والا لشکر قرار دے رھے ھیں
یورپ میں یا شام میں تو کبھی نھیں سنا که خراسان نامی کوئی جگه ھے
حیرت ھوتی ھے لوگوں کی معلومات پر 
اور انکے اگلے اھداف بھی حیران کن ھیں
یعنی
اردن.لبنان.کویت.سعودی عرب
الله ھی خیر کرے

Monday, July 7, 2014

NEW FRAUD IN MUMBAI(BOMBAY) may be happen in Pakistan

 
may be happen in Pakistan.
 

NEW FRAUD in Bombay ...

This happened in Bombay to someone. Lets be careful, aware...  
  NEW FRAUD in Bombay    I received a call from someone claiming that he was from my mobile service provider and he asked me to shutdown my phone for 2 hours for 3G update to take place. As I was rushing for a meeting, I did not question, but just shut down my cell phone. 
After 45 minutes I felt very suspicious since the caller did not even 
introduce his name. I quickly turned on my cell phone and saw several missed 
calls from my family members and the others were from the number that had called me earlier -  
I called my parents and I was shocked that they sounded very worried asking me whether I am safe. My parents told me that they had received a call from someone claiming that they had me with them and asking for money to let me free. The call was so real and my parents even heard 'my voice' crying out loud asking for help. My father was at the bank waiting for next call to proceed for money transfer. I told my parents that I am safe and asked them to lodge a police report. 


Right after that I received another call from the guy asking me to shutdown my cell phone for another 1 hour which I refused to do and hung up. 


They kept calling my cell phone until the battery had run down. I myself lodged 
a police report and I was informed by the officer that there were many such scams reported. MOST of the cases reported that the victim had already transferred the money! And it is impossible to get back the money. 

Be careful as this kind of scam might happen to any of us!!! Those guys are so 
professional and very convincing during calls. If you are asked to shut down your cell phone for updates by the service provider, ASK AROUND! 
Your family or friends might receive the same call. 
Be Safe and Stay Alert! 
   
Wassalam & Iltemas e Dua


Please pass around to your family and friends !!!

__._,_.

Saturday, July 5, 2014

Qom kee Soteeli Beti Sofia Kanwal

 

Terrorist activities started in Saudia it mean ISIS exist and working against Muslim


اصل معرکہ باقی ہے.............!!!
پچھلے دنوں پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جو اندرونی دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی ہے اس کاروائی کی اصل وجہ تو دہشت گردی تھی مگر اس ناگزیر اقدام کے پس پردہ وہ تبدیلیاں بھی ہیں جو یکے بعد دیگرے مشرق وسطی میں رونما ہو رہی ہیں
ایسی صورتحال میں اندروبی دشمنوں کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا پر بھی گہری نظر رکھنا ملکوں کی بقاء اور سلامتی کے لیئے بے حد ضروری ہے
عرب دنیا میں ھونے والے قتل و غارت اور حجاز مقدس کی طرف بڑھتی ھوئی جنگ اب واضع دکھائی دے رھی ھے
صورت حال آہستہ آہستہ واضع ہوتی جارہی ہے میرے چند پاکستانی دوست جو شام اور عراق کے چند حصوں پر داعش کے کنٹرول اور خلافت کے اعلان پر بہت پرجوش تھے اب سعودی عرب اور پاکستان پر حملے اور خانہءکعبہ کو منہدم(خاکم بدہن)کرنے کی دھمکی کے بعد وہ دوست بھی وضاحتیں پیش کرتے نظر آتے ہیں
امریکہ نےداعش کو سعودی عرب سے جو مالی جنگی اور اخلاقی مدد دلوائی تھی وہ اب الٹا سعودی عرب کے گلے پڑتی نظر آرہی ہے 
تب شائد سعودی عرب سے یہ وعدہ کیا تھا امریکیوں نے کہ شام سمیت مشرق وسطی کے ان ممالک کی حکومتوں کے خلاف ان لوگوں کو استعمال کیا جائے گا جن سے سعودی عرب کو تحفظات ہیں
مگر اس تنظیم کو منظم کرنے کے مقاصد کچھ اور ھی تھےجو آہستہ آہستہ واضع ہوتا جا رہا ہے
شیعہ حکومتوں کے خاتمے کے نام پر ان لوگوں نے پہلے اکثریتی سنی فرقے کی ہمدردیاں حاصل کیں اب ان کا سفر ان کے اصل ٹارگٹ طرف شروع ہونے جا رہا ہے
تاریخ گواہ ہے کہ اسلام دشمن جب بھی مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے انہوں نے پہلے مسلمانوں کو اندر سے کمزور کیا پچھلے کئی سالوں سے ہمارے ملک میں جاری دہشت گردی کی کاروائیاں اس کا واضع ثبوت ہیں 
امریکہ جانتا ہے کہ سعودی عرب پر براہ راست حملہ کر کے اس کے وسائل پر قبضہ کرنا یا وہاں من پسند حکومت قائم کرنا ناممکن ہے
کیوں کہ اس سے پوری مسلم دنیا مشتعل ہوجاتی
جبکہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اس پر حملہ کر کے بھی امریکی اپنی بربادی کو دعوت نہیں دیں گے
لیبیا.مصر.عراق.افغانستان.شام.فلسطین.پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا کو مسلکوں فرقوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر کے خون مسلم بہایا گیا مسلمانوں کے ہی ہاتھوں اور انبیاءکے وارث علماءتک کو خرید کر یوں استعمال کیا گیا کہ دین کے حصے بخرے کرکےفرقه واریت کو ھوا دی گئی اور رھی سھی امت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا گیا آج دشمن مذہب کا لبادہ اوڑھ کر ہمیں تباہ و برباد کرنے نکلا ہے اور کچھ ناہنجار اس کو مسیحا سمجھ کر اس کی راہ میں آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں 
سعودی حکمرانوں کی ماضی کی پالیسیوں سےہی نہیں بلکہ میرا سنی ہونے کے ناطے سلفیوں سے مسلکی اختلاف بھی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان لوگوں کی حمایت کروں جو خانہءکعبہ اور حجازمقدس کی حرمت کو پامال کرنے چلے ہیں
جولوگ ان کی حمایت کرتے ہیں ان کی سوچ پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے 
اب جب کہ اس گھناؤنے کھیل کے پیچھے امریکی اور اسرائیلی سازش کے واضع ثبوت سامنے آ چکے ہیں ایسے میں ان کی حمایت کرنے والوں کو ہوش آ جانی چاہیئے 
مصر میں محمد مرسی کی اسلامی حکومت اور برونائی دارلسلام کی طرف سے چند اسلامی قوانین کے نفاذ پر سیخ پا یہود نصاری اسلامی خلافت قائم ہونے پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے کیوں بیٹھے ہیں؟؟
اس لیئے کہ شریعت و خلافت کی آڑ میں وہ اپنی چالیں چل رہے ہیں 
لیکن اللہ پاک کی تدبیر سب سے بہتر اور طاقت ور ہے کافروں کو اس بات کا اندازہ نہیں
انشاءاللہ پاک فوج اللہ پاک کی مدد سے اس فتنے کی سرکوبی کرنے کی پوری اہلیت رکھتی ہے
حجازمقدس کا دفاع اور پاک سرزمین کے چپے چپے کی حفاظت کا کام اللہ پاک انہی مجاہدین سے لے گا آپ اس معاملے پر آپس میں بحث مباحثے میں وقت برباد کرنے کی بجائے حالات کا بغور مشاہدہ کریں اور اپنے اختلافی موقف کی وجہ سے آپسی نفرتوں کو نا بڑھائیں اور آپس میں محبت و الفت کا رشتہ برقرار رکھیں 
اسی میں اسلام اور پاکستان کی بقاءہے اور اسی میں اللہ پاک کی رضا ہے اللہ پاک ہمیں کفار کی سازشوں کو سمجھنے والا بنادے.آمین

Wednesday, July 2, 2014

پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ مشرف کی پالیسیز ہیں

پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ مشرف کی پالیسیز ہیں  ( نام نہاد اسلام پسند جماعتیں)  ۔

 

اچھا جی ! 

عراق ، نائجیریا ، شام میں کونسا مشرف یا ضیاء تھا ؟ وہاں دایش ، بوکو حرام جیسی تکفیری تنظیمیں کیسے پیدا ہو گئیں ؟ 
ہے۔idealogy اس فتنہ کے پیچھے کوئی غلط پالیسی نہیں بلکہ خود تکفیری ، خارجی

 

 

Request to Political Parties of Pakistan

I wish to request all political leaders especially Imran Khan A llama Tahir Ul Qadri & leaders of Jamat Islamic to only support Pakistan Army fight against terrorism.  Instead concentrating their efforts towards Long March & Inqilab they should look after IDPs.  Once Pakistan Army successfully achieve the mission & IDPs are settled down in their respective areas then they may resume political activities.  I have only sympathy with Pakistan & Pakistan Army.  Please Cooperate with Pakistan and Pakistan Army in the fight for Islam & Pakistan.

Monday, June 30, 2014

Friday, June 27, 2014

اہم اعلان منجانب سی آئی اے:

اہم اعلان منجانب سی آئی اے:
القاعدہ کا سیٹ اپ دنیا سے آہستہ آہستہ سمیٹا جا رہا ہے اب وہی کام جو القاعدہ کرتی تھی اور امریکہ جو کام القاعدہ کو ختم کرنے کے جواز کے نام پر کرتا تھا اب عراقی تنظیم آئی ایس آئی ایس (امریکہ کے خلا میں جاسوسی کےلیے چھوڑے گئے ایک سیٹلائیٹ کا نام بھی ائی ایس آئی ایس ہی ہے ویسے) کیا کرے گی۔ ہمیشہ کی طرح ہمارا ٹارگٹ اب بھی احمق مسلمان ہوں گے اور ہماری سب سے بڑی سپورٹ وہی لوگ کریں گے جو ٹی ٹی پی، داعش، جند اللہ، ایل ای جے، بی ایل اے، بی ایل ایف جیسی تنظیموں کی چمچہ گیری کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ لوگ ہمارا کام آسان کریں گے جو دین کو تقسیم اور امت کے ٹکڑے کر کے (فرقہ واریت) سمجھتے ہیں ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں۔

القاعدہ نامی تنظیم سعودی عرب کو نشانہ نہیں بناتی تھی اس لیے شریت (شریعت) نافذ کرنے کےلیے یہ اہم زمہ داری اب آئی ایس آئی ایس کو سونپی جا رہی ہے اور القاعدہ کو چھٹی کروائی جا رہی ہے۔ آج سے آپ القاعدہ کا نام میڈیا پر سننا بند ہو جائیں گے بس آئی ایس آئی ایس کے چرچے ہوا کریں گے۔ احمق مسلمانوں سے اپیل ہے کہ اب وہ القاعدہ کو بھول کر آئی ایس آئی ایس کے نام کی مالا جپنا شروع کر دیں، آج سے القاعدہ کی وکالت میں کوئی نا بولے بلکہ آئی ایس آئی ایس کی سعودیہ پر حملے کرنے کی وکالت کی جاۓ بلکل اسی طرح جیسے آپ لوگ ٹی ٹی پی کی کرتے ہیں مسلمانوں کے گلے کاٹنے پر۔

اہم اعلان ختم ہوا: اب مری دہائی سن لو:

ہوش کے ناخن لے لو۔ کب تک وحشیوں کی طرح لوگوں کے گلے کاٹنے والوں کی وکالت کرتے رہو گے اور یہ سمجھتے رہو گے کہ ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ کیا اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے صحابہ نے دین کی خدمت ایسے کی تھی؟ سرکار دو عالم ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال کی فوجیں مکہ اور مدینہ کے دروازوں تک پہنچ جائیں گی مرے بھائی کہیں یہ وہی دجال کی فوجیں تو نہیں ہیں جو سعودی عرب پر حملہ کر کے وہاں "خلافت" قائم کرنا چاہتی ہیں۔ سنبھل جاؤ! اسلام امن اور رواداری کا نام ہے اسلام میں کہاں اپنے بھائیوں کو مارنے کی گنجائش ہے اور یہ کیسی فوجیں ہیں جو پورے کے پورے عالم اسلام میں لڑ رہی ہیں؟ ان کی اس لڑائی سے اسلام کو کتنا فائدہ ہوا اور اسلام دشمنوں کو کتنا فائدہ ہوا؟ کبھی سوچا؟؟؟ ایک سعودی عرب اس فتنے سے بچا تھا اور سعودی عرب تمام مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز ہے اب یہ کیوں اسے بھی نقصان پہچانے کے در پے ہیں؟؟؟
ہر جگہ اسلام کے نام لیواؤں سے ہی جنگ کیوں ہے اسلام کےدشمنوں سے کیوں نہیں لڑ رہے یہ لوگ؟؟؟

کل قیامت کے دن گریبان سے پکڑ کر جب یہ سوال کیا جاۓ گا کہ بتاؤ جب میرے نبی نے تمہیں واضح نشانیاں دے دیں تھی ان کی کہ یہ کافروں کا چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کریں گے، دین کے معاملے میں ظاہر سے کام لیں گے، کم عمر لوگوں کو اپنا آلہ کار بنائیں گے تو اتنی واضح نشانیوں کے باوجود تم نے ان کی حمائت کیوں کی تو کیا جواب دو گے؟

آج کیا تم نہیں جانتے کہ یہ کم عمر لوگوں کو آلہ کار بناتے ہیں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ کافروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کا قتلِ عام ثواب سمجھ کر کر تے ہیں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ یہ اسلام کے ظاہر پر ہیں یعنی صرف نام کی حد تک۔ ٹی ٹی پی کا کوئی ایک بھی بڑا لیڈر ہے جس نے حج کیا ہو؟ جس کے باقاعدگی سے ذکوۃ دینے کا کوئی ریکارڈ ہو؟ تم نے اپنی آںکھوں سے آج تک ان کے لیڈرز کو کسی خیراتی یا فلاحی کام میں لگے ہوۓ دیکھا؟ کیا تم ان کی مکمل دین داری اور ان کے مومن ہونے پر شاہد ہو اور کل اللہ کو یہ کہہ سکو گے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ سچے اور پکے ملسمان مومن تھے اس لیے میں نے ان کی وکالت کی؟؟؟ اگر نہیں تو پھر کیا جواب دو گے قیامت والے دن اس سوال کا ؟؟؟؟؟؟

 

Wednesday, June 25, 2014

The faceless and secret war

زیرنظر تصویر ایک امریکی فوجی اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹر کی ہے۔ یہ دونوں بالکل افغانی لگ رہے ہیں۔ پاکستانی فورسز سے ملکی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر دشمن ایسے ہی روپ بدل بدل کر لڑہ رہا رہا ہے۔ مگر پاکستانی فورسز بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ اصل میں ہمارا دشمن کون ہے۔ ہمارے قبائل ہماری آن اور ہمارا سرمایہ ہیں۔ یہ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے دشمنوں کے دشمنوں کی مدد کریں، ناکہ اپنے قبائیلیوں کو ہی ماریں۔ یاد رکھیں کہ تمام یورپی ممالک ایک دوسرے کے دشمن ہیں، اور عالمی شیطانی سلطنت کے لئے کام کرنے والے یہودی بھی ایک دوسرے کے دشمن ہیں، انکو بس مسلم دشمنی نے متحد کیا ہوا ہے جیسے جنگل میں شیر ، لگڑبھگے، گیڈڑ سب شکار میں اپنا حصہ لینے کے لئے متحد ہوتے ہیں۔
 

Please also read the book " The protocols of learned elders of Zion" to know how they work. There are many fake versions of this book available on internet. If any brother got this original book, then he /she can share the scan copy of this book with us all, that will be a "Sadqa e Jariah".
 

شیشہ

ایک آدمی گدھا ریڑھی پر شیشہ لے کر جا رہا تھا کہ سڑک پر ایک کھلے گٹر کی وجہ سے اس کی ریڑھی الٹ گئی اور سارا شیشہ ٹوٹ گیا وہ غریب فٹ پاتھ پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور رونے لگا کہ مالک کو کیا جواب دوں گا۔
لوگ اس کے ارد گرد کھڑے ہوگئے اور ہمدردی تسلی دینے لگے۔ اتنے میں ایک بزرگ آگے بڑھے اور سو روپے اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہنے لگے بیٹا اس سے نقصان تو پورا نہیں ہوگا لیکن رکھ لو۔۔۔ ۔
بزرگ کی دیکھا دیکھی باقی لوگوں نے بھی اس کے ہاتھ پر سو پچاس کے نوٹ رکھنے شروع کردئیے تھوڑی ہی دیر میں شیشے کی قیمت پوری ہوگئی اس نے سب کا شکریہ ادا کیا تو ایک شخص بولا بھئی شکریہ ان بزرگ کا ادا کرو جنھوں نے ہمیں یہ راہ دکھائی اور خود چپکے سے چل دئیے۔
ریڑھی والا بولا ان کا شکریہ تو میں انکے گھر پہنچ کر ادا کردوں گا کیونکہ یہ شیشہ انہیں کا تھا ---

Friday, June 13, 2014

Must Read it and Understand

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چوبیس آدمی ایک مقام پر جنگل میں درخت کاٹ رہے تھے کہ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔وہ نزدیک ہی ایک بڑے کمرے میں بارش سے بچنے کا انتظار کرنے لگے۔ اتنے میں آسمانی بجلی زور زور گھن گرج سے کمرے کی چھت پر سے ہو کر واپس چلی جاتی اور سلسلہ آسمانی بجلی کا تیز ہو گیا۔ چوبیس آدمیوں نے مشورہ کیا لگتا ہے کہ ہم میں سے بجلی کسی آدمی پر پڑنی ہے۔ اس طرح کرتے ہیں کہ ہر آدمی ایک ایک کر کے کمرے سے باہر جائے جس آدمی پر بجلی پڑنی ہو گی پڑ جائے گی۔ باقی بچ جائیں گے۔ اس طرح تمام آدمی کمرے سے باری باری باہر گئے اور بچ کر واپس آ گئے۔ آخر چوبیسویں آدمی کو مل کر اٹھایا اور باہر پھینکا اور کہنے لگے کہ اس کی وجہ سے ہم سب پریشان تھے۔ آسمانی بجلی بڑی زور سے کمرے پر پڑی تمام آدمی جل کر راکھ ہو گئے۔ صرف چوبیسویں آدمی کی زندگی کی وجہ سے 23 آدمی بچ رہے تھے۔ اور اب وہ تمام تو ختم ہو گئے مگر 24 واں آدمی بچ گیا۔ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے ہم دوسروں کو قصوروار سمجھ رہے ہوتے ہیں مگر قصور ہمارا اپنا ہوتا ہے اور ہم کسی اور کے سبب پریشانی اور مصیبت سے بچ رہے ہوتے ہیں لیکن ہم کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا

Thursday, June 12, 2014

Karachi Attack

Refer to my following email, today i.e. on 12-06-2014 Jang 1st page news as attached related to my following email, that Scotlandyard and closed one case against Altaf Hussain is creating doubt more solid that MQM and USA with the help of UK is involved.  Please read attached news which is in Urdu and then decide what is truth.....

 
میں نے کل ہی دعوی کیا تھا کہ الطاف کو چھوڑنے کی حالیہ برطانوی ڈیل اس کی طرف سے مذید دہشت گردی کرنے کے انٹی پاکستان ٹاسکس سے منسلک ہو سکتی ہے سو کراچی اور پاکستان میں حالات خراب کروائے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ آج کراچی ائرپورٹ پر ٹیررسٹ حملے سے ثابت ہو گیا کہ الطاف کو چھوڑنا متحدہ قاتل موومنٹ کے مکتی باہنی دہشت گرد گروپس سے مزید کام لینے کا گورھ دھندا ہے ۔۔۔۔۔۔ الطاف جب تک گوروں کا بغل بچہ بنا رہے گا، گوری گود میں محفوظ رہے گا اور کراچی میں بھارتی مکتی باہنی کا کردار ادا کرتا رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
or
 
کیا کہیں یہ گارنٹی دے کر تو "بھائی" کو ضمانت نہیں ملی جو آج کراچی ایئرپورٹ پر کروایا گیا ؟ یا بھائی کی طرف سے توجہ ہٹانے کا حربہ ؟ حکومت کےلیئے لمۂ فکریہ