Bismillah

Bismillah

Ayyat

Ayyat

Pakistani Human Resource available

This is to clarify to our all visitor and members that, we obey all Pakistani Rules and Regulations which is implemented in Pakistan by Pakistani Government. Our main purpose of posting and circulating data on our site is only for Pakistani nation knowledge and information. So using this data for any other purpose or misuse of data, we will not take any responsibilities of this type of activities, kindly do not use this data for any illegal activities which is prohibited by Pakistani Government, and follow the all rules of Pakistani Government about Cyber Crimes.

We can provide you all type of Pakistani best Human Resource Skilled and Unskilled for all over the world and specially for Arab countries. If you required any type of Human Resource you can send us email at : joinpakistan@gmail.com We will do our best to satisfy your needs according to your requirement.

If you required a job or if you are searching for a good employee please contact us at : joinpakistan@gmail.com

Charagh

Charagh

Saturday, January 14, 2017

*NO CALAMITY BEFALLS BUT IS INSCRIBED IN 'AL-LAWH AL MAHFOOZ'*~اللوح الْمَحفُوظ~ [Book of Decrees]~{Ponderable}~[QURAN(3)~*PROPHET* [Sal Allaahu Alayhi wa Sallam]~




'Bismillahir Rahmanir Raheem'
*************************************
'Assalamu Alaikum wa Rahmatullahi
Wa Barkatuhu '


  Belief in al-Qadaa' wa'l-Qadar

Divine will & Decree...

is one of the Pillars of Faith. 
A Muslim's faith is not complete unless he knows that whatever befalls him could not have missed him, and whatever misses him could not have befallen him. 
Everything is subject to the will and decree 
of Allaah {!}

 Allaah [ Most High ] says... 

"Verily, We have created all things with 'Qadar'
 [ Divine Preordainment of all things before their creation as written in the Book of Decrees 


'Al Lawh Al Mahfooz' ]

[Source:_-'Quran'~Surat Al-Qamar~ [The Moon] 54: A #49]


 Allaah  [ Most High ] says : 

"No calamity befalls on the earth or in yourselves but it is inscribed in the 
Book of Decrees {'Al-Lawh al-Mahfooz'} 
before We bring it into existence.
 Verily, that is easy for Allaah"

[Source:-'Quran'~ Surat 'Al-Hadid'~[The Iron] 57: A#22]



Allaah  [ Most High] says: 

'No calamity can occur but with the 
leave of Allah,
and whosoever believes in Allah,
He guides his heart (aright)'.

 [ Source:- 'Quran'~ Surat At-Taghaabun~ (The Mutual Disillusion) ~64 A#11]



The Prophet [Sal Allaahu `Alayhi wa Sallam] said:

"Know that what has passed you by was not going to befall you, and that what has befallen you was not going to pass you by.
And know that...

 Victory  comes with  Patience,

 Relief  with  Affliction,

 and Ease  with  Hardship."


~[Source :- Tirmidhi-Saheeh]~

['Subhan Allah']

... My 'Salaams' to All ...

~Y a s m i n. ~
*****************************************
"All that is on earth will Perish. But will abide {Forever}
the Face of thy Lord, full of Majesty, Bounty and Honour"
{'Quran'- Surah Al-Rahman-55.26-27 }
**************************************
'Wasting time is Worse than Death!
Because Death Separates you from this World
 Whereas wasting Time Separates you from Allah'.
Ibn Qayimm Al-Jawziyyah.(r)
*************************************
I Want to Die With my Forehead on the Ground! 
The Sunnah in my Heart, Allah on my Mind, 
Qur'an on my Tongue, and Tears in my Eyes!
'In Shaa Allah'!'Aameen'. 
************************************************ 
' Son of Adam! You are nothing but a number of days, whenever each
 day passes then part of you has Gone. 
 {Al-Hasan Al-Basree}
****************************************************

' SUBHANALLAKALLAH HUMMA WA BI-HAMDIKA ASHADU ALLAA ILAHA ILLA ANT ASTAGHFIRUKA WA ATOOBA ILAYK.'




Posted by: ~ Y A S M I N ~ <fisabilillah_alhamdullilah@yahoo.com>

Thursday, January 12, 2017

Please help this homeless old couple, if you can do something.

video
اگر آپ اس خالہ کی مدد نہیں کر سکتے تو نہ سہی اس ویڈیو کو شیئر تو کر سکتے ہو نا
خالہ کا نمبر 03168339485

Wednesday, January 11, 2017

Required Warehouse Manager

---------- Forwarded message ----------
From: Salman Laasi <salmanlassi@gmail.com>
Date: Wed, Jan 11, 2017 at 2:10 PM
Subject: Required Warehouse Manager
To: Salman Lassi <salmanlassi@gmail.com>


Warehouse Manager

MCR, leading food chains invites application for the post of Warehouse Manager based in Karachi. Graduate with at least 6-7 yrs of relevant experience preferably in Hospitality / Food Industry or FMCG. Incumbent should have strong interpersonal skills with resilience  to work under pressure. Interested Candidates may send their resume to hr.recruiter@pizzahut.com.pk latest by Saturday, January 14, 2016. Only shortlisted candidates will be contacted.

Regards,
Salman Laasi

Friday, December 23, 2016

??? ??????

محترم جناب ۔۔ چئیرمین نیب پاکستان

میں پاکستان آکر 80 کروڑ روپئے کی کرپشن کرنے کی سوچ رہا ہوں کیونکہ پردیس میں مزدوری کر کر تھک چکا ہوں
برائے مہربانی کیا آپ حساب لگا کر مجھے بتا سکتے ہیں کہ پلی بارگین کے تحت مجھے کتنا پیسہ بچ سکتا ہے
اس دوستانہ کرپشن سروس کا عوام کو آگاہی دینے کا بہت بہت شکریہ


 

ایک نہات ہی شریف حب الوطن پاکستانی

 

Why do Qatari princes come to Pakistan for hunting houbara bustard?

Why do Qatari princes come to Pakistan for hunting houbara bustard? watch following video

Wednesday, June 15, 2016

Pakistan and Afghanistan


رمضان کے خاطر دونوں ملکوں کو فائر بندی ہونی چاہئے خدا نخواستہ اگر دونوں ملکوں کے ارمی کے جوان مرجائے تو شہید کون ہوگا یہ ایک سوچہ سمجھا منصوبہ ہے انڈیا اور اسرائیل افغانستان کے حکومت کو غلط اشاروں پر چلنے کے احکامات دیتے ہیں دونوں ملکوں کے عوام کو بھی چاہئے کہ سوشل میڈیا پر غلط بیان بازی اور سنسنی خیزی پھلاتے ہیں عوام کو چاہئے اس مشکل وقت میں صبر سے کام لیں ایک دوسرے کو قریب لانے کی کوشش کریں افغان حکومت کو چاہئے کہ انڈیا اور اسرائیل کے اشا روں پر عمل نہ کریں پاکستان کے پالیسی بہترین پالیسی ہے افغانستان کے حق میں ہے

Tuesday, June 7, 2016

Hajj Corruption and Hamid Kazmi Sb.,

video

علامہ کاظمی شاہ صاحب پر جب سے کرپشن سیکنڈل بنا ھے میں اس کو واچ کرتا رھا ھوں ہم مسلک ھونے کی وجہ سے مجھے ان سے ہمدردی تھی مگر وزارت مذہبی امور سے ایک کام کروانے کے عوض کاظمی شاہ صاحب کے ایک قریبی نے مجھ سے رشوت طلب کی تھی اس وجہ سے میں یہ سمجھتا تھا کہ ان کے دور میں کرپشن کا بازار گرم رھامگر میں یہ بھی جانتا تھا کہ کاظمی شاہ صاحب بذات خود اس کرپشن میں ملوث نہیں دراصل انہیں مسلک سے محبت کی سزا دی جارھی تھی اصل بات جس کی وجہ سے کاظمی شاہ صاحب پر سارا نزلہ گرایا گیا وہ یہ ھے کہ جب اس وقت کا وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سعودی عرب کے دورہ پر گیا تو سعودی گورنمنٹ نے گیلانی شاہ صاحب کو آفر دی کہ آپ تمام پاکستان کےتمام سکولوں کالجوں میں اسلامیات کے مضمون کو لازمی قرار دیں اس مضمون کو پڑھانے کے لئے جتنے ٹیچر پروفیسرز رکھے جائیں گے ان کو تنخواہ سعودی گورنمنٹ دے گی گیلانی شاہ اس تجویز کو لے کر پاکستان آگئےاور اپنے سعودیہ کے دورے پر کابینہ میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ سعودی گرنمنٹ کی طرف سے یہ آفر ھے اس پر سید خورشید شاہ نے پوچھا کہ نصاب کون سا پڑھایا جائے گا تو بتایا گیا کہ نصاب سعودی گورنمنٹ کی مرضی کا ھوگا اس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ تو ہماری آنے والی نسلوں کو وھابی کرنے کی سازش ھے اس پر سید حامد سعید کاظمی شاہ صاحب کھڑے ھوئے انہوں نے کابینہ میں سعودی گورنمنٹ کی اس تجویز پر شدید احتجاج کیا اور یہ تجویز کابینہ نے اکثریت رائے سے نامنظور کردی اس وقت کابینہ میں اعظم ھوتی دیوبندی بھی بیٹھا تھا اس نے باہر نکل کر فضل الرحمان سربراہ جمعیت علماء اسلام کو ساری بات بتائی اور خورشید شاہ صاحب جنہوں نے سب سے پہلے احتجاج کیا تھا ان کا نام چھپا کر سارا مدا کاظمی شاہ صاحب پر ڈال دیا مولانا فضل الرحمان نے سعودی گورنمنٹ کو ساری بات بتائی تو سعودیہ والوں نے علامہ کاظمی شاہ صاحب کو مزا چکھانے کا عندیہ دیا اور کہا حج کا موسم آنے دو دیکھ لیں گے جب حج کا موسم قریب آیا تو وزارت کے نمائندے مکہ اور مدینہ میں رہائشوں کا وزٹ کرنے گئے سعودیہ والوں نے جو رھائش پاکستانی حاجیوں کو دینے کا کہا وہ سعودی شہزادوں کی ملکیت ہیں وہ دور بھی تھیں اور مہنگی بھی یاد رھے ہر سال یہ رھائش لینے کے بدلے سعودی شہزادے وزارت کے نمائندوں کو بھاری رشوت دیتے تھےجب کاظمی شاہ صاحب کے علم میں یہ بات آئی تو علامہ کاظمی یہاں بھی ڈٹ گئے اور وزارت کے نمائندوں کو قریب تریں رھائشیں لینے کا حکم دیا جب یہ بات سعودی شہزادوں کے علم میں آئی تو ان کی دشمنی اپنے عروج پر پہنچ گئی اور انہوں نے کاظمی شاہ صاحب کو نقصان پہنچانے کا حتمی فیصلہ کرلیا اور وزارت کے نمائندوں (راوشکیل وغیرہ)سے ساز باز کرکے ذیادہ فاصلے والی رھائشیں ذیادہ ریٹ پر پاکستانی گوورنمنٹ کو دے دیں اورچند وھابی حاجیوں کے زریعہ دھرنا کا ڈرامہ رچایا سعودی گورنمنٹ نے اپنی نگرانی میں چند وھابیوں کے زریعے احتجاج کروایا اور پھر خود ھی کاظمی شاہ صاحب کے خلاف خط لکھ کر وعدہ معاف گواہ بن گئے ادھر مولانا فضل الرحمن جو کہ حج آپریشن کو وزارت سیاحت کے زیر اہتمام کرنے کا کئی دفع مطالبہ کر چکے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ حج آپریشن کو وزارت مذہبی امور سے لے کر وزارت سیاحت کے زیر اہتمام کر دیا جائے جس پر ان کے چھوٹے بھائی براجمان ھوں انہوں نے سعودی گورنمنٹ سے ساز باز کرکےاپنے کارندے اعظم ہوتی کو اس کیس کے پیچھے لگا دیاجس نے کتنی مرتبہ ٹی وی پر علامہ کاظمی شاہ صاحب سے اس کرپشن پر مناظرہ کیا اور ہر مرتبہ منہ کی کھائی مگر نہ جانے اس نے عدالت میں وہ کون سے ثبوت دئے جن کو وہ ٹی وی مناظروں میں تو سامنے نہ لا سکا اور عدالت میں پیش کر دئے اور عدالت نے نہ جانے ان ثبوتوں کی بنا پر کیسےفیصلہ کیا عقل اس بات کو سمجھنے سے قاصر ھے۔
دعاگو
رضاحسین حیدری
چیف ایڈیٹر
ماہنامہ نوائے انجمن لاھور

Thursday, May 19, 2016

کوئی بات نہیں۔۔۔

ایک بار میں گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ بیگم کے چہرے کا رنگ خوف سے اڑا ہوا ہے، پوچھنے پر ڈرتے ڈرتے بتایا کہ "کپڑوں کے ساتھ میرا پاسپورٹ بھی واشنگ مشین میں دھل گیا ہے۔۔!، یہ خبر میرے اوپر بجلی بن کر گِری، مجھے چند روز میں ایک ضروری سفر کرنا تھا۔ میں اپنے سخت ردعمل کو ظاہر کرنے ہی والا تھا کہ اللہ کی رحمت سے مجھے ایک بات یاد آ گئی، اور میری زبان سے نکلا "کوئی بات نہیں۔۔۔!"، اور اس جملے کے ساتھ ہی گھر کی فضا نہایت خوشگوار ہوگئی۔

پاسپورٹ تو دھل چکا تھا، اور اب ہر حال میں اُس کو دوبارہ بنوانا ہی تھا، خواه میں بیگم پر غصے کی چنگاریاں برسا کر اور بچوں کے سامنے ایک بدنما تماشہ پیش کر کے بنواتا، یا بیگم کو دلاسہ دے کر بنواتا، جو چشم بد دور ہر وقت میری راحت کے لئے بے چین رہتی ہیں۔

سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس جملے سے بے حد پیار ہے، میں نے اس کی برکتوں کو بہت قریب سے اور ہزار بار دیکھا ہے۔ جب بھی کسی دوست یا قریبی رشتہ دار کی طرف سے کوئی دل دکھانے والی بات سامنے آتی ہے، میں درد کشا اسپرے کی جگہ اس جملے کا دم کرتا ہوں، اور زخم مندمل ہونے لگتا ہے۔

اپنوں سے سر زد ہونے والی کوتاہیوں کو اگر غبار خاطر بنایا جائے تو زندگی عذاب بن جاتی ہے، اور تعلقات خراب ہوتے چلے جاتے ہیں، لیکن "کوئی بات نہیں" کے وائپر سے دل کے شیشے پر چھائی گرد کو لمحہ بھر میں صاف کیا جاسکتا ہے، اور دل جتنا صاف رہے اتنا ہی توانا اور صحت مند رہتا ہے۔

بچوں کی اخلاقی غلطیوں پر تو فوری توجہ بہت ضروری ہے، لیکن ان کی چھوٹی موٹی معمولی غلطیوں پر "کوئی بات نہیں" کہہ دینے سے وه آپ کے دوست بن جاتے ہیں، اور باہمی اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ بچہ امتحان کی مارک شیٹ لے کر سر جھکائے آپ کے سامنے کھڑا آپ کی پھٹکار سننے کا منتظر ہو، اور آپ مسکراتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرکر فرمائیں "کوئی بات نہیں، اگلی بار اور محنت کرنا، چلو آج کہیں گھومنے چلتے ہیں" تو آپ اندازه نہیں کر سکتے کہ بچے کے سر سے کتنا بھاری بوجھ اتر جاتا ہے، اور ایک نیا حوصلہ کس طرح اس کے اندر جنم لیتا ہے۔

میں نے اپنے بچوں کو کچھ دعائیں بھی یاد کروائی ہیں، ساتھ ہی اس جملے کو بار بار سننے اور روانی کے ساتھ ادا کرنے کی مشق بھی کرائی ہے۔ میرا بار بار کا تلخ تجربہ یہ بھی ہے کہ کبھی یہ جملہ بروقت زبان پر نہیں آتا، اور اس ایک لمحے کی غفلت کا خمیازه بہت عرصے تک بھگتنا پڑتا ہے، طبیعت بدمزہ ہو جاتی ہے، اور ایک مدت تک کڑواہٹ باقی رہتی ہے۔ تعلقات میں دڑار آجاتی ہے، اور برسوں تک خرابی باقی رہتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ یہ جملہ یاد داشت کا حصہ بننے کے بجائے شخصیت کا حصہ بن جائے۔ ان شاء الله

وقفے وقفے سے پیش آنے والے معاشی نقصانات ہوں، یا ہاتھ سے نکل جانے والے ترقی اور منفعت کے مواقع ہوں، یہ جملہ ہرحال میں اکسیر سا اثر دکھاتا ہے، ایک دانا کا قول ہے کہ "نقصان ہو جانا اور نقصان کو دل کا بوجھ بنانا یہ مل کر دو نقصان بنتے ہیں، جو ایک خساره ہو چکا وه تو ہو چکا، تاہم دوسرے خسارے سے آدمی خود کو بچا سکتا ہے، اس کے لئے صرف ایک گہری سانس لے کر اتنا کہنا کافی ہے کہ "کوئی بات نہیں۔۔!"

یاد رہے کہ یہ دوا جس طرح کسی چھوٹے نقصان کے لئے مفید ہے، اسی طرح بڑے سے بڑے نقصان کے لئے بھی کار آمد ہے۔ ایک مومن جب "کوئی بات نہیں" کو الہٰی رنگ میں ادا کرتا ہے، تو اُسے "انا اللہ وانا الیہ راجعون" کہا جاتا ہے۔

بسا اوقات ایک ہی بات ایک جگہ صحیح تو دوسری جگہ غلط ہوتی ہے۔ "کوئی بات نہیں" کہنا بھی کبھی آدمی کی شخصیت کے لئے سم قاتل بن جاتا ہے، جیسے کوئی شخص غلطی کا ارتکاب کرے تو چاہئے کہ اپنی غلطی کے اسباب تلاش کر کے ان سے نجات حاصل کرے، نہ کہ "کوئی بات نہیں" کہہ کر غلطی کی پرورش کرے۔

خود کو تکلیف پہنچے تو آدمی "کوئی بات نہیں" کہے تو اچھا ہے، لیکن انسان کسی دوسرے کو تکلیف دے اور اپنی زیادتی کو "کوئی بات نہیں" کہہ کر معمولی اور قابلِ نظر انداز ٹھہرا لے، تو یہ ایک گِری ہوئی حرکت شمار ہوگی۔

اسی طرح جب کوئی ملک یا اداره مفاد پرستوں کے استحصال اور نااہلوں کی نااہلی کا شکار ہو رہا ہو اور "کوئی بات نہیں" کہہ کر اصلاح حال کی ذمہ داری سے چشم پوشی اختیار کر لی جائے، تو یہ ایک عیب قرار پائے گا۔

معاشره میں کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہو اور لوگ اس جملے سے اپنے ضمیر کی آواز کو دبانے کی کوشش کریں، تو یہ انسانیت کے مقام سے گرجانا تصور ہوگا۔

آخر میں صرف اتنا کہونگا کہ، "یہ جملہ دل کی دیوار پر آویزاں کرنے کے لائق ہوتا ہے، اگر یہ دل کی کشادگی برقرار رکھے، تعلقات کی حفاظت کرے اور دنیاوی نقصان ہونے پر بھی انسان کی تسلی کا سامان بنے۔
اور یہی جملہ مکروه اور قابل نفرت ہو جاتا ہے اگر یہ عزم بندگی، احساس ذمہ داری، احترامِ انسانیت اور جذبہ خود احتسابی سے غافل ہونے کا سبب بن جائے۔۔۔!