Bismillah

Bismillah

Ayyat

Ayyat

Pakistani Human Resource available

This is to clarify to our all visitor and members that, we obey all Pakistani Rules and Regulations which is implemented in Pakistan by Pakistani Government. Our main purpose of posting and circulating data on our site is only for Pakistani nation knowledge and information. So using this data for any other purpose or misuse of data, we will not take any responsibilities of this type of activities, kindly do not use this data for any illegal activities which is prohibited by Pakistani Government, and follow the all rules of Pakistani Government about Cyber Crimes.

We can provide you all type of Pakistani best Human Resource Skilled and Unskilled for all over the world and specially for Arab countries. If you required any type of Human Resource you can send us email at : joinpakistan@gmail.com We will do our best to satisfy your needs according to your requirement.

If you required a job or if you are searching for a good employee please contact us at : joinpakistan@gmail.com

Charagh

Charagh

Wednesday, June 15, 2016

Pakistan and Afghanistan


رمضان کے خاطر دونوں ملکوں کو فائر بندی ہونی چاہئے خدا نخواستہ اگر دونوں ملکوں کے ارمی کے جوان مرجائے تو شہید کون ہوگا یہ ایک سوچہ سمجھا منصوبہ ہے انڈیا اور اسرائیل افغانستان کے حکومت کو غلط اشاروں پر چلنے کے احکامات دیتے ہیں دونوں ملکوں کے عوام کو بھی چاہئے کہ سوشل میڈیا پر غلط بیان بازی اور سنسنی خیزی پھلاتے ہیں عوام کو چاہئے اس مشکل وقت میں صبر سے کام لیں ایک دوسرے کو قریب لانے کی کوشش کریں افغان حکومت کو چاہئے کہ انڈیا اور اسرائیل کے اشا روں پر عمل نہ کریں پاکستان کے پالیسی بہترین پالیسی ہے افغانستان کے حق میں ہے

Tuesday, June 7, 2016

Hajj Corruption and Hamid Kazmi Sb.,

video

علامہ کاظمی شاہ صاحب پر جب سے کرپشن سیکنڈل بنا ھے میں اس کو واچ کرتا رھا ھوں ہم مسلک ھونے کی وجہ سے مجھے ان سے ہمدردی تھی مگر وزارت مذہبی امور سے ایک کام کروانے کے عوض کاظمی شاہ صاحب کے ایک قریبی نے مجھ سے رشوت طلب کی تھی اس وجہ سے میں یہ سمجھتا تھا کہ ان کے دور میں کرپشن کا بازار گرم رھامگر میں یہ بھی جانتا تھا کہ کاظمی شاہ صاحب بذات خود اس کرپشن میں ملوث نہیں دراصل انہیں مسلک سے محبت کی سزا دی جارھی تھی اصل بات جس کی وجہ سے کاظمی شاہ صاحب پر سارا نزلہ گرایا گیا وہ یہ ھے کہ جب اس وقت کا وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سعودی عرب کے دورہ پر گیا تو سعودی گورنمنٹ نے گیلانی شاہ صاحب کو آفر دی کہ آپ تمام پاکستان کےتمام سکولوں کالجوں میں اسلامیات کے مضمون کو لازمی قرار دیں اس مضمون کو پڑھانے کے لئے جتنے ٹیچر پروفیسرز رکھے جائیں گے ان کو تنخواہ سعودی گورنمنٹ دے گی گیلانی شاہ اس تجویز کو لے کر پاکستان آگئےاور اپنے سعودیہ کے دورے پر کابینہ میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ سعودی گرنمنٹ کی طرف سے یہ آفر ھے اس پر سید خورشید شاہ نے پوچھا کہ نصاب کون سا پڑھایا جائے گا تو بتایا گیا کہ نصاب سعودی گورنمنٹ کی مرضی کا ھوگا اس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ تو ہماری آنے والی نسلوں کو وھابی کرنے کی سازش ھے اس پر سید حامد سعید کاظمی شاہ صاحب کھڑے ھوئے انہوں نے کابینہ میں سعودی گورنمنٹ کی اس تجویز پر شدید احتجاج کیا اور یہ تجویز کابینہ نے اکثریت رائے سے نامنظور کردی اس وقت کابینہ میں اعظم ھوتی دیوبندی بھی بیٹھا تھا اس نے باہر نکل کر فضل الرحمان سربراہ جمعیت علماء اسلام کو ساری بات بتائی اور خورشید شاہ صاحب جنہوں نے سب سے پہلے احتجاج کیا تھا ان کا نام چھپا کر سارا مدا کاظمی شاہ صاحب پر ڈال دیا مولانا فضل الرحمان نے سعودی گورنمنٹ کو ساری بات بتائی تو سعودیہ والوں نے علامہ کاظمی شاہ صاحب کو مزا چکھانے کا عندیہ دیا اور کہا حج کا موسم آنے دو دیکھ لیں گے جب حج کا موسم قریب آیا تو وزارت کے نمائندے مکہ اور مدینہ میں رہائشوں کا وزٹ کرنے گئے سعودیہ والوں نے جو رھائش پاکستانی حاجیوں کو دینے کا کہا وہ سعودی شہزادوں کی ملکیت ہیں وہ دور بھی تھیں اور مہنگی بھی یاد رھے ہر سال یہ رھائش لینے کے بدلے سعودی شہزادے وزارت کے نمائندوں کو بھاری رشوت دیتے تھےجب کاظمی شاہ صاحب کے علم میں یہ بات آئی تو علامہ کاظمی یہاں بھی ڈٹ گئے اور وزارت کے نمائندوں کو قریب تریں رھائشیں لینے کا حکم دیا جب یہ بات سعودی شہزادوں کے علم میں آئی تو ان کی دشمنی اپنے عروج پر پہنچ گئی اور انہوں نے کاظمی شاہ صاحب کو نقصان پہنچانے کا حتمی فیصلہ کرلیا اور وزارت کے نمائندوں (راوشکیل وغیرہ)سے ساز باز کرکے ذیادہ فاصلے والی رھائشیں ذیادہ ریٹ پر پاکستانی گوورنمنٹ کو دے دیں اورچند وھابی حاجیوں کے زریعہ دھرنا کا ڈرامہ رچایا سعودی گورنمنٹ نے اپنی نگرانی میں چند وھابیوں کے زریعے احتجاج کروایا اور پھر خود ھی کاظمی شاہ صاحب کے خلاف خط لکھ کر وعدہ معاف گواہ بن گئے ادھر مولانا فضل الرحمن جو کہ حج آپریشن کو وزارت سیاحت کے زیر اہتمام کرنے کا کئی دفع مطالبہ کر چکے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ حج آپریشن کو وزارت مذہبی امور سے لے کر وزارت سیاحت کے زیر اہتمام کر دیا جائے جس پر ان کے چھوٹے بھائی براجمان ھوں انہوں نے سعودی گورنمنٹ سے ساز باز کرکےاپنے کارندے اعظم ہوتی کو اس کیس کے پیچھے لگا دیاجس نے کتنی مرتبہ ٹی وی پر علامہ کاظمی شاہ صاحب سے اس کرپشن پر مناظرہ کیا اور ہر مرتبہ منہ کی کھائی مگر نہ جانے اس نے عدالت میں وہ کون سے ثبوت دئے جن کو وہ ٹی وی مناظروں میں تو سامنے نہ لا سکا اور عدالت میں پیش کر دئے اور عدالت نے نہ جانے ان ثبوتوں کی بنا پر کیسےفیصلہ کیا عقل اس بات کو سمجھنے سے قاصر ھے۔
دعاگو
رضاحسین حیدری
چیف ایڈیٹر
ماہنامہ نوائے انجمن لاھور