Bismillah

Bismillah

Ayyat

Ayyat

Pakistani Human Resource available

This is to clarify to our all visitor and members that, we obey all Pakistani Rules and Regulations which is implemented in Pakistan by Pakistani Government. Our main purpose of posting and circulating data on our site is only for Pakistani nation knowledge and information. So using this data for any other purpose or misuse of data, we will not take any responsibilities of this type of activities, kindly do not use this data for any illegal activities which is prohibited by Pakistani Government, and follow the all rules of Pakistani Government about Cyber Crimes.

We can provide you all type of Pakistani best Human Resource Skilled and Unskilled for all over the world and specially for Arab countries. If you required any type of Human Resource you can send us email at : joinpakistan@gmail.com We will do our best to satisfy your needs according to your requirement.

If you required a job or if you are searching for a good employee please contact us at : joinpakistan@gmail.com

Charagh

Charagh

Wednesday, April 20, 2011

Mind control through media

میڈیا کے ذریعےمائنڈ کنٹرول

۔(ڈاکٹر جواد احمد)۔


نہایت عمدہ موضوع ہے مگر اس موضوع کا اطلاقی میدان اس سے کہیں وسیع ہے جس قدر ہم سمجھ سکے ہیں۔ مائنڈ کنٹرول کی لئے ٹی وی کا استعمال اب ایک سائنس بن چکی ہے اور ٹی وی ایک نہایت طاقتور آلے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے. اس کے شعوری اثرات پر لوگ اکثر لکھتے ہیں مگر غیر شعوری یا لا شعوری اثرات پر ہمارے یہاں بہت کم لکھا گیا ہے حالانکہ اس پر مغرب میں نہایت عمدہ تحقیق ہو رہی ہے. نت نئے  طریقےاستعمال ہو رہے ہیں. بہت زیادہ تجربات (مجرمانہ یا غیر مجرمانہ ) ہو چکے ہیں.


ہم سب یہ جانتے ہیں کہ انڈین ڈرامے کی prime audience انڈین نہیں ہیں یا بہتر طور پر آپ یوں کہ سکتے ہیں کہ انڈین ڈرامے انڈین کلچر کو بڑھاوا دینے کی نیت سے بنائے جاتے ہیں. ایک خاص قسم کا گیٹ اپ ، لباس ، منگل سوتر، سیندور، ساڑھی اور اسکے ساتھ ساتھ characterization جس میں ایک بھرا پرا خاندان جس میں ساس بہویں ، نندیں ،دیورانیاں ، جیٹھنیاں، بہت سارے کزنز اور تین نسلیں ایک ساتھ رہ رہے ہوں، کی جاتی ہے. یہ انڈیا کہ شہری علاقوں کا کلچر نہیں ہے بلکہ زیادہ مناسب ہوگا اگر ہم یہ کہیں کہ آج کل کی دنیا میں یہ کسی بھی شہر کا کلچر نہیں. اس کا مقصد سواۓ ایک خاص قسم کے پروپیگنڈے اور ایک مخصوص قسم کے متوسط طبقے کے ذہن کی توجہ کھینچنے کے اور کچھ نہیں اور ہمارا مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ وہ اس میں بہت کامیاب ہیں. انڈین ڈرامے نے پاکستان کے متوسط طبقے کی عورتوں اور مردوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے. ٥٠٠٠ کروڑ کی مالک ہونے کے باوجود میڈم ہر وقت ایک typical ہندوستانی گیٹ اَپ میں رہتی ہیں . کچن میں کھانا بنا رہی ہوتی ہیں اور دروازہ بھی خود ہی جا کر کھولتی ہیں.وجہ صرف یہی ہے کہ متوسط طبقہ کی ناظر خواتین کہیں اسکے مغربی اسٹائل گیٹ اَپ کی وجہ سے ذہنی طور پر اس کردار کو مسترد نہ کردیں یا یوں کہئے کہ محض ڈرامہ سمجھ کر دیکھتی نہ رہے. آپ شعوری طور پر چاہے کتنا ہی اس ڈرامہ کا ادراک کریں مگر آپکا لاشعور، کردار سے اپنی مماثلت ڈھونڈھ لیتا ہے اور اس کردار کو یوں کہیں کہ گود لے لیتا ہے. یہی وجہ ہے کہ چاہے آپ کہیں بھی ہوں اور کچھ بھی کر رہے ہوں جب ڈرامہ کا ٹائم آتا ہے تو آپ پر بیچینی طاری ہوجاتی ہے اور وقت مقررہ پر آپ ٹی وی کے آگے آجاتے ہیں. سونے پے سہاگہ کہانی کی قلابازیاں آپ کو اپنی گرفت میں رکھتی ہیں. ہر ٥٠ اقساط کے بعد کہانی ایک نیا ٹرن لیتی ہے . گرہستن عورت مافیا باس بن جاتی ہے، مرے ہوے لوگ زندہ ہو کر آجاتے ہیں ، چولھا ہندی کرنے والی عورت جیل پہنچ جاتی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا ہے جب تک کہ حقیقی زندگی میں بہویں خود ساس نہیں بن جاتیں.


پھر ڈرامہ سے کچھ پیغامات مستقل ملتے رہتے ہیں یعنی کہ تمہاری ماں تمہاری دشمن اور تمہاری بیوی یا محبوبہ تمہاری سب سے زیادہ خیر خواہ . بھائی جائیداد کی وجہ سے دشمن اور دوست تمہارا ہمدرد ، خونی رشتوں میں چالبازیاں وغیرہ اسکے ساتھہ ساتھہ ہر دوسرے تیسرے سین میں پوجا ، ہندو تہواروں کی بےوجہ اور ضرورت سے زیادہ تشہیر اور پروموشن.


(حالانکہ ہمارے یہاں اس کے بر عکس ہے ..ہمارے یہاں ڈاڑھی والا ، نمازی اور دیندار قابل مذمت ہے . اور ہر وہ لڑکی جو مشرقی روایات اور معاشرتی پابندیوں کی باغی ہے وہ دراصل ایک حقیقی ہیروئن ہے.( جیو ٹی وی، ہم ٹی وی اور انڈس ٹی وی اس کام میں سب سے آگے ہیں)۔


اس نفسیاتی اور تہذیبی بمبارٹمنٹ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ کم از کم آپکو اپنے دین، تہذیب اور معاشرتی روایات سے disoriented ضرور کردیتی ہے. نا پختہ اذہان پر اس چیز کا اثر بہت تباہ کن نکل سکتا ہے. اس کے اثرات یقینی اور دیکھے جاسکتے ہیں. منگل سوتر ، ماتھے پر بندیا اور مانگ میں سیندور اب کہیں کہیں نظر آجاتا ہے. زبان پر اس کے اثرات بہت نمایاں ہیں. بلے باز(بیٹسمین ) ، لینا دینا (تعلق)، چرچا (بحث) اور ان جیسے کی الفاظ ہمارے یہاں کی مخصوص اردو میں آچکے ہیں. (یہاں موضوع زبان کا ارتقا نہیں بلکہ ٹی وی کے اثرات ہیں ). نفسیاتی طور پر اس کے بارے بھیانک نتائج نکلتے ہیں. یہ نا پختہ ذہن کے حقیقت اور فینٹیسی میں فرق کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے. یہ عدم توازن معاشرتی امراض کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے.طلاق اور جرائم کی شرح میں بے تحاشا اضافہ اس کا بنیادی نتیجہ ہے . حالیہ کچھ سالوں میں جرائم نے ایک وبائی مرض کی صورت لے لی ہے اور دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ وہ لوگ جرائم میں ملوث ہو رہے ہیں جو کہ قطعی طور پر مجرمانہ ذہن یا مجرمانہ نفسیات کے حامل نہیں ہیں. طلاق کی شرح میں خطرناک اضافے کی وجہ بھی بنیادی طور پر ایک خیالی اور ڈرامہ کی دنیا کا لائف اسٹائل ہے جہاں ایک امیر اور ہینڈسم لڑکا ، لڑکی سے شدید محبت کرتا ہے. اس یوٹوپیا میں کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں. یہ خیالی دنیا جب حقیقت میں نہیں ملتی تو یقینی طور پرتلخیوں اور ناراضگیوں کو جنم دیتی ہے جس کا انجام جرائم یا طلاق کی صورت میں نکلتا ہے. اگر آپ کی کسی ایسے وکیل سے ملاقات ہو جو کہ طلاق کے مقدمات لڑتا ہو تو آپ خود اسکی وجہ اس وکیل سے معلوم کر سکتے ہیں. آپ غور کریں تو میڈیا درحقیقت انسان کی خیالی جنّت بنانے اور حقیقتوں کو نظر انداز کرکے قیاسات پر بھروسہ کرنے کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہا ہے. اشتہارات میں عورتوں اور بچوں کا بے تحاشہ استعمال اسی کمزوری کی وجہ سے کیا جاتا ہے. اور ہماری دجالی دنیا میں اس تکنیک کو منافع کمانے کے ساتھہ ساتھہ عوام کا ایک خاص قسم کا ذہن بنانے کا کام بھی لیا جاتا ہے. اسی وجہ سے ایک امریکی مفکر نے کہا تھا کہ "کسی ملک میں میکڈونلڈ کی برانچ کھلنے کا مطلب یہ کہ سرمایا دارانہ سوچ نے اس جگہ قدم رکھہ دیا ہے"۔


یہ وہ شعوری نتائج ہیں جنہیں کوئی بھی شخص محسوس کر سکتا ہے . بد قسمتی سے ہمارے یہاں اس حوالے سے کوئی حقیقی تحقیقی کام نہیں ہو رہا ہے. آپ پاکستان میں PhD کے موضوعات دیکھیں تو آپکو شاید ہی کوئی نیا موضوع اور نئی بات ملے.


انسانی ذہن کے لاشعور کو غیر شعوری پیغامات کے ذریعے سے کرپٹ کرنے میں میڈیا کے کردار پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے. اور بہت سارے ذرائع اس کام کے لئے استعمال کے جا رہے ہیں. اس حربے کی ابتداء انسانی ذہن کے بارے میں کچھ پیچیدہ حقائق کی دریافت کے بعد ہوئی .جس کا لب لباب یہ ہے کہ انسانی لا شعور، شعور سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور وہ ان چیزوں کو سن ، سونگھ ، چکھہ ، دیکھ رہا ہوتا ہے جو شعور کے ادراک سے بغیر شناخت ہوے گزر جاتی ہیں . اسی دریافت کو بنیاد بنا کریہ حربہ ایجاد کیا گیا کہ انسان کو اسکے شعوری ادراک سے ماورا کچھ پیغامات دے کر کچھ خاص قسم کے نتائج حاصل کیے جائیں. وہ پیغامات جنکا انسان کی شخصیت پر لازمی اثر پڑتا ہے. جیسے کہ:۔


١) Binaural tones : انسانی کان ١٥- ١٥٠٠٠ Hz تک کی آواز سن سکتا ہے یعنی ١٥ Hz سے اوپر اور ١٥٠٠٠ Hz سے نیچے. اب اگر آپ کسی tape یا میڈیا فائل پر نغمہ اس طرح سے ریکارڈ کریں کہ کہ ایک message ٨ Hz پر اسی tape یا میڈیا فائل پر ریکارڈ کیا گیا ہو تو آپکا شعور اگرچہ گنا سنے گا مگر لاشعور اس خفیہ پیغام کو دی کوڈ کرکے ایک ایہم اطلاع کے طور پر ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیگا. یہ طریقہ مغرب میں علاج کے لئے اور بری عادتوں کو چھڑانے کے لئے استعمال ہو رہا ہے. اگر آپ سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں تو sub laminal messaging ایک نہایت عمدہ اور آسان طریقہ ہے اس عادت سے چھٹکارے کا .غلط ہاتھوں میں تکنیک نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے.


٢) Reverse messaging : اس طریقہ میں الفاظ کا ایک خاص ترتیب سے استعمال کیا جاتا ہے . جیسے RED RUM ( سرخ شراب ) جسکو اگر الٹا کریں تو یہ MURDER ( قتل/ کرو ) بن جاتا ہے . دماغ اس لفظ کو دی کوڈ کرتا ہے اور الٹا پڑھتا ہے اور اس کو تجویز کے طور پر قبول کر لیتا ہے .


٣ ) رنگوں کا ایک خاص طریقے سے استعمال : رنگوں کا انسانی نفسیات پر اثر ایک مشہور سائنس بن چکا ہے. سرخ رنگ انسان کی طبیعت میں جارحانہ پن پیدا کرتا ہے ..اور بھوک کو بڑھاتا ہے . تقریباً یہی کام زرد رنگ کا بھی ہے اور اگر آپ غور کریں تو فاسٹ فوڈ کی تشہیر میں یہی دو رنگ زیادہ استعمال ہوتے ہیں . خبروں کے چینلز کو دیکھیں تو ایک چینلز کی ایک بڑی اکثریت کے نیوز روم آپکو jet blue کلر میں نظر آئیں گے. یہ رنگ بھروسہ اور طاقت کا مظہر ہے.


٤) Silent Sound Spread Spectrum اس ٹیکنالوجی کی ایجاد Dr Oliver Lowery نے کی ہے. اس میں ٹی وی یا ریڈیو کی فریکونسی کو اسطرح سے ترتیب دیا جاتا کہ یہ ماحول میں موجود ریڈیائی لہروں میں ایک خاص ترتیب سے ارتعاش پیدا کرتی ہیں جو انسانی جذبات میں اتار چڑھاؤ پیدا کرتے ہیں. ٹی وی پروگرام میں دین کی غلط تصویر کشی کر کے آپکے نفرت والے جذبات میں عروج لانا اس ٹیکنالوجی کے بائیں ہاتھہ کا کھیل ہے.


٥ ) flash messaging : ہم سب یہ جانتے ہیں کہ ایک سیکنڈ کا ویڈیو کلپ ٤٥ تصاویر کا مجموعہ ہوتا ہے. ان ٤٥ میں سے اگر ایک تصویر کو تبدیل کردیا جائے اور اس تصویر کے ذریے کوئی پیغام دیا جاۓ تو وہ شعور کی گرفت میں نہیں آئے گا. لیکن طاقتور لاشعور میں موجود ریسیور اسکو اس کی اصل حالت میں قبول کرے گا اور محفوظ کر لے گا.


٦)HIDDEN PICTURE MESSAGING: پوشیدہ تصویروں کو ڈھونڈھنا بچپن سے میرا پسندیدہ کھیل رہا ہے .کافی محنت کرنی پڑتی ہے مگر یقین کریں لاشعور ان تصاویر کو اسی طرح دیکھتا ہے جیسے شعور ظاہری تصاویر کو دیکھتا ہے. یہ تصاویر اسے نہایت صف اور واضح نظر آتی ہے اور لا شعور کے نہاں خانوں میں ایک پیغام کی صورت محفوظ کر لی جاتی ہے.


یہ صرف چند دجالی حربے ہیں جو ٹی وی کے ذريعے جو انسانی نفسیات اور اسکے سوچنے کے انداز پر اثر انداز ہوتے ہیں . دماغ کو کنٹرول کرنے کے اور بھی کی طریقے ہیں جو بشرط زندگی آپ سے شئیر کروں گا.


اب آپ مندرجہ ذیل میں نقل کی گئی صحیح مسلم کی حدیث کو پڑھیے۔۔۔

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ کے محلوں میں سے ایک محل ( یا قلعہ ) پر چڑھے پھر فرمایا : کیا جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، تم بھی دیکھ رہے ہو؟ بیشک میں تمہارے گھروں میں فتنوں کی جگہیں اس طرح دیکھتا ہوں جیسے بارش کے گرنے کی جگہوں کو۔

( صحیح مسلم حدیث ١٩٨٩)۔


اس مضمون سے اس حدیث کو سمجھنے میں زیادہ مدد مل سکتی ہے. میرا خیال ہی نہیں بلکہ یقین بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس حدیث میں انہی دجالی فتنوں کی طرف اشارہ کیا تھا جو بیخبری میں انسان کے دین اور ایمان پر اس طرح شبخون مارتے ہیں کہ انسان کو پتا ہی نہیں چلتا .. اللہ تعالیٰ ہمیں ان فتنوں کو سمجھنے اور ان سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین۔


---~---

اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَعْوْذُ بِكَ مِنَ الْمأْثِمِ وَالْمَغْرَمِ

اے اللہ ، میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں دجال مسیح کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔اور میں زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پنا ہ چاہتا ہوں۔اے اللہ ، میں گناہ اور قرض سے تیری پنا ہ چاہتا ہوں۔

No comments:

Post a Comment

Note: Only a member of this blog may post a comment.